مغربی ممالک اور مسلمانوں کا رویہ

خالد تھتھال۔ناروے

جرمنی کی جنوب مشرقی ریاست باویریا میں اینگلا میریکل نے اکثریت کھو دی۔ گرین پارٹی دوسری بڑی جماعت اور مسلمان و مہاجرت مخالف پارٹی اے ایف ڈی چوتھی بڑی جماعت بن گئی ہے۔ چند دن پہلے مہاجرین کے حق میں ہونے والا کثیر تعداد شرکت کے باوجود وہ مقاصد حاصل نہ کر سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ چند سال پہلے نیدرلینڈز اور فرانس میں مسلمان مخالف پارٹیوں کی شکست سے جو احساس پیدا ہوا تھا کہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں وقتی ابال ہے جو جلد ہی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا ، وہ خام خیالی ثابت ہوا۔

اینگلا میریکل کے جرمنی جس نے شام و عراق کے مہاجرین کے لیے اپنا دل اور دروازے کھولے تھے اور ایک ملین کے لگ بھگ مہاجرین قبول کیے تھے۔ وہی قبولیت اینگلا میریکل کے زوال کا باعث بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ 

آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان ہی مقامی آبادی کی نفرت کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کا آسان جواب جو مذہبی لوگوں کی طرف دیا جاتا ہے وہ ان کے بقول ان کافروں کی اسلام دشمنی ہے کہ جو ایک طرف تو رواداری وجمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ 

مذہبی حلقوں کے علاوہ وہ لوگ جو خود کو لبرل یا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا کہتے ہیں، ان کے نزدیک بھی مسلمانوں کا اس سارے عمل میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اوسلو سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کے بقول اگر مقامی معاشرہ مسلمانوں کو زبردستی اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرے گا تو مسلمانوں کی جانب سے انتہا پسندانہ رویئے اور دہشت گردی تو اس کا فطری نتیجے کی صورت میں سامنے آئے گا ۔ یعنی پڑھے لکھے لوگوں کے بقول بھی مسلمان بے قصور ہیں اور ہر سانحے کا ذمہ دار مقامی معاشرہ ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے سلسلے میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے علاوہ بدھ مت، ہندو مت، زرتشت، بہائی ازم کے علاوہ سکھ مت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہیں۔ انہیں کیوں ایسا گلہ نہیں ہے کہ انہیں زبردستی اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اگر انہیں بھی مقامی معاشرے میں زبردستی جذب کیا جا رہا ہے تو ان کی جانب سے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیوں نہیں ہو رہا۔

جہاں تک مقامی معاشرے میں زبردستی ا پنے اندر جذب کرنے کی کوشش کا تعلق ہے تو وہ کون سی ایسی بات ہے جسے زبردستی جذب یا مدغم کرنے کا نام دیا جا سکے۔ مسلمانوں کی یورپ کے ہر شہر میں درجنوں مساجد ہیں۔ مذہب کی تبلیغ کی آزادی ہے۔ عید میلاد النبی جیسے مذہبی تہواروں کےجلوس سڑکوں پر نکالے جاتے ہیں جس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود جلوس میں پولیس کی خاصی نفری حفاظت کے لیے موجود ہوتی ہے تاکہ کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہو۔ 

مسلمانوں کے اپنے ریسٹورنٹ ہیں جہاں ان کے آبائی ملکوں کے کھانے ملتے ہیں۔ دوکانوں پر حلال گوشت ملتا ہے، اپنے روایتی لباس پہنتے ہیں، عرب اپنے چغوں میں نظر آتے ہیں، پاکستانی شلوار قمیض پہنے اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی پسند کا لباس پہننے کے حوالے سے تو امریکہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے کمپنی کا یونیفارم اس بنیاد پر پہننے سے انکار کر دیا کہ وہ اسلامی لباس پہنناچاہتا ہے، اور مذہبی آزادی کے قانون کے حوالے سے اسے اپنا مذہبی لباس پہننے سے روکا نہیں جا سکتا۔

اب شلوار قمیض کس حد تک اسلامی لباس ہے، اس کے متعلق تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے قمیض جس کے کالر و کف وغیرہ ہوتے ہیں وہ اسلامی نہیں بلکہ مغربی قمیض ہے۔ جس کی لمبائی مغربی قمیض سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاکہ شلوار کے باہر رکھا جا سکے۔ اور جہاں تک شلوار کا تعلق ہے یہ تو ترکوں کا روایتی لباس ہے۔ شہروں میں بے شک لوگ پتلون پہنتے ہیں لیکن دیہات میں شلوار ہی پہنی جاتی ہے، اور شائد یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ شلوار ترکی زبان کا لفظ ہے اور ترکی زبان سے ہی ہمارے ہاں آیا۔

بہر حال اس پاکستانی نے مقدمہ کیا اور مقدمہ جیت کر شلوار قمیض پہن کر ٹیکسی چلاتا ہے۔ اور یہ بھی امریکہ کی ہی کہانی ہے کہ ایک کھانے پینے کی دوکان میں کیش رجسٹر پر کام کرنے والے ایک پاکستانی مسلمان نے ان گاہکوں کو اٹینڈ کرنے سے انکار کر دیا جو شراب یا سؤر کا گوشت خریدتے ہیں۔ اور اسے یہ رعایت دے دی گئی کہ وہ صرف ان گاہکوں کا اٹینڈ کرے جو یہ دونوں چیزیں نہیں خریدتے۔

ایک زمانہ تھا کہ آپ سامنے آنے والی خاتون کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے تھے کہ اس کی قومیت کیا ہو سکتی ہے۔ ایرانی ہے، عرب ہے یا پاکستانی۔ اب حجاب نے یہ تفریق بھی ختم کر دی ہے۔ مغربی ممالک میں حجاب مسلمانوں کے دینی پہناوے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوئمنگ کے لیے برقینی ایجاد ہوئی۔ 

حجاب نامی پہناوے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی خالقہ مصر کی زینب الغزالی ہیں۔ جس کا اخوان المسلمین سے قریبی تعلق تھا۔ شروع میں اسے اخوان سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں ہی استعمال کرتی تھیں جس سے وہ پہچانی جاتی تھیں۔ اب یہ تمام مسلمانوں کے اسلامی یونیفارم کا حصہ بن گیا ہے۔ اور کسی بھی مغربی ملک میں ان کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ 

مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے متعلق ایک عام خیال ہے کہ یہ جب بھی کسی مغربی ملک میں منتقل ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ جب انہیں اپنے اس مقصد میں کامیابی مل جاتی ہے ، ملازمت و رہائش کا انتظام ہو گیا، بیوی بچے بھی آن پہنچے تو پھر انہیں اسلامی شریعت کا بخار چڑھتا ہے۔ اور شریعت کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ کرتے ہیں۔ شہر کے مخصوص حصوں کو اسلامی قوانین کے تحت چلانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اور ایسے مطالبہ کرنے والے ہر مغربی ملک میں موجود ہیں۔

اسی قسم کی کوشش ناروے کے شہر اوسلو میں بھی کی گئی جس کے پیچھے ( پرافٹ امہ ) نامی تنظیم تھی۔ جن کا مطالبہ تھا کہ اس علاقے سے کوئی ہم جنس پرست نہ گزرے، اگر مقامی لڑکیاں یہاں سے گزریں تو ان کا لباس مناسب ہونا چاہیئے۔ اور چونکہ اس علاقے میں دیسی دوکانوں کی اکثریت ہے۔ لہذا ایسی مسلمان لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا گیا جو حجاب اوڑھے ہوئے نہیں تھیں۔ ان خدائی فوجداروں کا مقامی اخبارات نے ’’مورل پولیس‘‘ کا نام دیا ۔ بات اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مقامی پولیس حرکت میں آئی اور اس علاقے میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی۔ یوں غیر حجابی مسلمان لڑکیوں نے سکون کا سانس لیا۔

مغربی ممالک میں مقیم مسلمان وہ واحد گروپ ہے جن کےمطالبات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ بھی چاہیئے جن کے حصول کی خاطر وہ ان کی مطالبات کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے کی خبر ہے کہ سرکاری بجٹ میں مساجد کو دیئے جانے والے فنڈز کی رقم بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تو سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے۔ لیکن مقامی معاشرے سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کو اس مجبوری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لہذا مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں اور گروہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ اور کوئی بعید نہیں کہ کسی وقت دائیں بازو کی کوئی جماعت بر سر اقتدار آ کر مسلمانوں کا ناطقہ بند کر دے۔ 

آگ کا دریاکےآخری حصے میں قرۃ العین حیدر مسلمانوں کی نفسیات کا ایک ہی فقرے میں مکمل تجزیہ پیش کر دیتی ہے۔ اس کے بقول ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی دھرتی سے پیار نہیں کیا۔ یہ ہر لمحے میرے مولا مدینے بلا لو مجھےکا ورد کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی دھرتی ماتا کی بجائے کسی دوسرے دھرتی کی محبت میں گرفتار ہیں، ان سے یہ امید کرنا گو عبث ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ ملک سے محبت کریں گے۔ لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا۔ 

موجودہ صورت حال میں میں وہ لوگ جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا یا رائے ساز سمجھتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ مسلمانوں کے ہر فعل کا دفاع کرنے کی بجائے انہیں سمجھائیں کہ وہ معاشرے سے ہر وقت طلب کرنے کی بجائے کچھ دینا بھی شروع کریں۔ مقامی لوگوں سے تعلقات بڑھائیں۔ نہ کہ اپنے آپ کو گیٹوز تک محدود رکھیں۔ ان ممالک کو اپنا وطن سمجھیں اور اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔ کیونکہ ہمارے یہ اختیار کردہ ممالک ہماری اگلی نسلوں کا وطن ہے۔ وگرنہ مستقبل میں ایک خانہ جنگی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ جس کے نقصان کا ہم ابھی اندازہ تک نہیں کر سکتے۔

6 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *