البغدادی سے تو چھٹی ملی لیکن دہشت گردی سے چھٹی مشکل

ظفر آغا

جولائی 2014 کی چلچلاتی گرمیوں میں ایک صبح عراق کے شہر موصل کی النور مسجد میں ایک غیر معروف شخص خطبہ دینے کھڑا ہوا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ اس وقت سے یہاں ایک اسلامی خلافت کا قیام ہو گیا۔ اس غیر معروف شخص کا نام ابو بکر البغدادی تھا اور اس کے اس بیان نے دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ اس کے دو اسباب تھے۔

اول تو یہ کہ سنہ 1920 کی دہائی میں ترکی خلافت کے زوال کے تقریباً 100 سال بعد یہ پہلی اسلامی خلافت تھی جو اس کرہ ارض پر وجود میں آئی۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ البغدادی کے اس اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد اس کی فوج نے عراقی فوج کو موصل سے مار بھگایا، بلکہ پورے شہر پر خلافت کا قبضہ ہو گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں، البغدادی کی فوج نے جلد ہی عراق کے دارالخلافہ بغداد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی عراق کی سرحد پار کر البغدادی کے فوجیوں نے شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر اسلامی خلافت کا پرچم بلند کر دیا۔ نوبت یہاں تک آئی کہ جلد ہی بغدادی کی فوج بغداد کے دروازے تک پہنچ گئی۔

ظاہر ہے کہ اس حقیقت سے دنیا کانپ اٹھی کہ جلد ہی بغداد پر البغدادی کا قبضہ ہوگا اور اس طرح پورا عراق اسلامی خلافت کے زیر سایہ ہوگا۔ صرف اتنا ہی نہیں البغدادی کے ماننے والوں نے اپنی خلافت میں دہشت کا ایک ایسا نظام قائم کیا جس نے دنیا کا دل دہلا دیا۔ لوگوں کے ہاتھ کاٹے جا رہے ہیں، انسانوں کو باقاعدہ جانوروں کی طرح حلال کیا جا رہا ہے، تو صاحب عورتوں کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ اور یہ سب مناظر انٹرنیٹ کے ذریعہ تشہیر کیے جا رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ یورپ میں درجنوں ممالک جیسے فرانس پر ایسے وحشت ناک حملے کیے جا رہے ہیں جن میں دو تین سال کے اندر ہزاروں افراد مارے گئے۔ البغدادی سے قبل اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ دہشت کی دنیا میں صف اول کے دہشت گرد گردانے جاتے تھے۔ لیکن ابو بکر البغدادی اور اس کی اسلامی خلافت دہشت کی سیاست میں اسامہ اور القاعدہ دونوں سے چار ہاتھ آگے نکل گئے۔

لب و لباب یہ کہ البغدادی جیسا کوئی دوسرا دہشت گرد حالیہ تاریخ میں نہ پیدا ہوا اور نہ ہی اس کی آئی ایس آئی ایس جیسی دوسری کوئی دہشت گرد تحریک پیدا ہوئی۔ اس نے مغرب کی منافرت اور دہشت میں اسامہ اور القاعدہ کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ البغدادی اور اس کی خلافت میں کسی قسم کے انسانی حقوق کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ وہ خود اور اس کے ماننے والے جس کو چاہیں ماریں، لوٹیں اور جس عورت کی چاہیں آبروز ریزی کریں۔

لیکن دوسری حیرت کی بات تو یہ تھی کہ البغدادی اور اس کی خلافت کی ساری دنیا اور بالخصوص یورپ کے مسلم نوجوانوں میں اس قدر اپیل تھی کہ ہزارہا نوجوان اپنے گھر بار چھوڑ کر البغدادی کی خلافت میں پہنچ کر اس کے لیے جان دینے کو تیار تھے۔ حد تو یہ ہے کہ صرف نوجوان مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی البغدادی کی کال پر اس کی خلافت میں پہنچ گئیں۔

آخر کار دنیا بھر میں البغدادی کے خلاف شور مچ گیا۔ سنہ 1917 سے امریکہ کی قیادت میں عربوں سمیت دنیا بھر کی مختلف فوجوں نے البغدادی کو گھیرنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ اس کی فوج نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور آخر کار اس کی خلافت سمٹ کر شام کے ایک کونے تک رہ گئی جہاں ادلب کے علاقہ میں البغدادی بھی اپنے فوجیوں کے ساتھ پناہ گزین تھا۔

لیکن جیسے کہا جاتا ہے کہ آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، یہی حال کچھ البغدادی کا پچھلے ہفتے ہوا۔ جیسے امریکی فوجیوں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ان کی پناہ گاہ میں گھس کر مارا تھا، ویسے ہی امریکی کمانڈز نے البغدادی کو بھی گھیرا۔ آخر کار البغدادی نے ان کے ہاتھوں سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی اور اس طرح دنیا کے سب سے مشہور و معروف دہشت گرد ابو بکر البغدادی اور اس کی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔

لیکن اس پوری کہانی میں سب سے اہم سوال جو اٹھ کر سامنے آیا وہ یہ ہے کہ آخر ابو بکر البغدادی جیسے وحشی انسان دشمن جیسی شخصیت اور اس کی قائم کردہ دہشت انگیز خلافت میں ایسی اپیل کیوں تھی کہ اس کے لیے ہزاروں مسلم نوجوان، یہاں تک کہ مسلم عورتیں بھی یورپ کی آرام و آسائش اور اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنی جان نچھاور کرنے وہاں پہنچ گئے! صرف البغدادی ہی نہیں، اس سے قبل ایسے ہی اسامہ اور القاعدہ کے لیے بھی نہ صرف مسلم نوجوانوں نے دہشت گردی قبول کی بلکہ اپنی جان تک دی۔ آخر کیوں! یہ جنون کیوں اور اس کی کیا وجہ! ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی تو بات ضرور ہوگی کہ مسلم نوجوان کے ایک حصے میں البغدادی اور اسامہ جیسوں کی اپیل ہے، اور وہ اپیل کیوں ہے!

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مسلم ممالک و تہذیب اور مغربی تہذیب اور وہاں سے اٹھنے والی سیاست کے درمیان جو سینکڑوں برس سے تصادم چلا آ رہا ہے اور اس تصادم نے مسلم ذہنوں میں جو ایک نفسیاتی گرہ پیدا کر دی ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ خواہ وہ اسامہ بن لادن ہوں یا القاعدہ یا پھر البغدادی یا ان کی تنظیم آئی ایس آئی ایس ہو، دونوں کو اسلام یا مسلمان سے اتنا لینا دینا نہیں تھا جتنا کہ مغرب مخالفت اور مغرب دشمنی سے لینا دینا تھا۔ ان دونوں کا ہی نشانہ مغرب تھا۔ ان کے اعمال سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے وجود کا واحد مقصد مغرب کی تباہی و بربادی ہی ہے۔ لیکن ایسا کیوں! پھر اسامہ و البغدادی کی مغرب دشمنی کی مسلم نوجوانوں میں کیوں اپیل ہوتی ہے!۔

دراصل مسلم تہذیب و مغربی تہذیب و سیاست کے آپسی تصادم و ٹکراؤ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر آپ نصف اٹھارہویں صدی تک کی عالمی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ واضح طور پر نظر آتاہے کہ اس وقت تک بلکہ تقریباً اس کے سو سال بعد تک پوری دنیا میں مسلم تہذیب اور مسلم سامراج کا ڈنکا بجتا تھا۔ بغداد کی خلافت کے دور سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے عروج تک دنیا میں مسلم شاہوں اور خلافہ کی حکومتیں تھیں۔

حد یہ ہے کہ اسپین میں باقاعدہ ایک مسلم خلافت قائم تھی۔ پھر بعد میں ترکی خلافت کے زیر سایہ مشرقی یورپ یہاں تک کہ موجودہ روس کا بھی ایک حصہ شامل تھا۔ یعنی مغربی سامراج کے عروج سے قبل دنیا کے کثیر حصے پر مسلم سامراج کا غلبہ تھا اور مسلم تہذیبی قدریں دنیا بھر میں حاوی تھیں۔ لیکن نصف اٹھارہویں صدی میں سائنس کی کھوج بین نے یورپ کی کایا پلٹ کر دی۔ اس طرح یورپ میں ایک نئی انڈسٹریل تہذیب نے جنم لیا۔ اس تہذیب نے جمہوریت پر مبنی ایک نئی سیاست، سرمائے کاری پر مبنی ایک نئی معیشت اور سائنس پر مبنی ایک نیا نظام تعلیم پیدا کیا۔

یہ ایک بڑا ترقی پسند انقلاب تھا جب کہ اس انقلاب کے وقت مسلم ممالک اسی شاہی زمیندارانہ سیاست، معیشت اور نظام تعلیم کے اسیر تھے جو صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ سائنس اور انڈسٹری پر مبنی یورپ نے ترقی پسند قدروں کے ساتھ جب مسلم سامراج پر حملہ شروع کیا تو مسلم ممالک ایک کے بعد لگاتار اپنی حکومتوں سے ہاتھ دھوتے چلے گئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تمام عالم عرب سے لے کر 1857 میں مغلوں کے زوال کے ساتھ ساری دنیا میں مسلم ممالک مغرب کے زیر سایہ ہو گئے۔ اور اس طرح دنیا بھر میں صرف مسلم سامراج ہی نہیں بلکہ مسلم تہذیب کا بھی زوال ہو گیا۔ اور آخر کار سنہ 1920 کی دہائی میں ترکی خلافت بھی نیست و نابود ہو گئی۔

لیکن مغرب اور مسلم سامراج کا یہ تصادم کئی سو سال تک جاری و ساری رہا۔ اس تصادم نے مسلم ذہنوں میں مغرب منافرت پیدا کر دی۔ اسامہ بن لادن اور البغدادی اسی تاریخی تصادم کی علامت ہیں جن کا بنیادی جذبہ یہ ہے کہ کسی طرح مغرب کو نیست و نابود کر دوبارہ ویسی ہی شان و شوکت والی خلافت قائم کر دیں جیسے کہ کبھی پہلے ہوتی تھیں۔ البغدادی کی خلافت نے ایک بڑے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں وہ خواب پھر جگا دیا جس کی تعبیر حاصل کرنے وہ گھر بار چھوڑ کر اپنی جان کی بازی لگانے البغدادی کی خلافت میں پہنچے۔

لیکن یہ خواب ایک خام خیال ہے۔ اس خیال پر مبنی ہر شخص کا وہی حشر ہوگا جو البغدادی اور اس کے ماننے والوں کا ہوا۔ لیکن یہ جذبہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک مغربی سامراج فلسطین جیسے سیاسی ناسور کو انصاف دلوانے سے گریز کرتا رہے گا۔ اس لیے ابھی البغدادی تو ختم ہو گیا، لیکن کل کو دوسرا البغدادی پیدا ہو جائے یا دوسری خلافت اٹھ کھڑی ہو اس امکان سے ابھی بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز، نیو دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *