چینی منصوبے سی پیک سے متعلق کچھ غلط فہمیاں


قانون فہم

پروپیگنڈا کرنا یا منفی تاثر پیدا کرنا بہت ہی آسان کام ہے ۔ایک عام فہم بات پھیلائی گئی ہے کہ سی پیک میں کسی پاکستانی حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ تو چینی حکومت کا منصوبہ ہے۔یہ ایک انتہائی بد دیانتی اور غلط بیانی پر مبنی بات ہے۔ چینی حکومت کے منصوبے کا نام او بور تھا جسے آجکل بی آر آئی کا نام دیا گیا ہے۔بی آر آئی سے مراد ہے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو ۔

او بور کا مطلب تھا ۔ ون بیلٹ ون روڈ یعنی چین کے گرد انگریزی لفظ او کی شکل میں ریل روڈ نیٹ ورک کا حصار ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے اوبور پروجیکٹ کے ابتدائی منصوبے دیکھیں گے تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ چین اپنے تمام منصوبے او کی شکل میں چاروں طرف آباد ممالک کو آپس میں اور چین سے ریل روڈ نیٹ ورک کی شکل میں جوڑنا چاہتا تھا۔اوبور میں پاکستان کے لیے بھی تجویز کردہ منصوبہ دلی۔ لاہور۔ کابل ریل روڈ نیٹ ورک ہی تھا۔

صدر آصف علی زرداری نے سی پیک کو اوبور کا ترمیم شدہ منصوبہ بنوایا۔ اس منصوبہ کی بنیاد صدر زرداری کی جانب سے چین کو پیش کردہ یہ خیال تھا۔کہ گلف سے چین کو پیٹرول اور دیگر تجارت کے لیے 6000 کلومیٹر سے زائد سمندری سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہی مصنوعات پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے متصل چینی علاقہ میں بھجوانے کے لئے چین کو اپنے بندرگاہوں سے دوبارہ چھ ہزار کلومیٹر سے زائد سفر سڑک کے ذریعے پہنچانا پڑتا ہے۔

صدر زرداری نے چین کے مغربی حصہ کو گوادر سے جوڑنے کی خاطر سی پیک کا تصور دیا ۔جس کے لیے مشرف دور میں میں سنگاپور میں قائم شدہ امریکی کمپنی کو گوادر پورٹ کا دیا گیا لیکن پھر ٹھیکہ واپس لے کر چین کو دیا گیا۔ اور چین کو یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ گوادر سے خنجراب ریل روڈ نیٹ ورک بنا لے تو اس میں اس کا فائدہ ہے۔

یاد رہے کہ یہ ریل روڈ نیٹ ورک بی او ٹی یعنی بلڈ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر کی بنیاد پر چین نے بنانا تھا اور بیس سال تک چین نے اس کا ٹول ٹیکس جمع کرکے پاکستان کو نو فیصد منافع میں حصہ دار بنانا تھا۔جس کے بعد اس پروجیکٹ کی ملکیت حکومت پاکستان کو منتقل ہوجاتی۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سی پیک کے پی پی پی حکومت کے تصور میں ایک بھی منصوبہ قرض کی بنیاد پر نہیں بنایا جانا تھا بلکہ تمام منصوبے بلڈ آپریٹ ان ٹرانسفر کی بنیاد پر کیے جانا تھے۔

اس کے علاوہ صدر زرداری چین سے دو دیگر میدانوں میں مدد لینا چاہتے تھے۔ ایک وہ چینی زرعی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر پاکستان میں ہائبرڈبیج پیدا کرنے کی صلاحیت اور پاکستان کی زرعی پیداوار کو سینکڑوں گنا زیادہ کرنے کے لیے چینی انویسٹمنٹ چاہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ صدر زرداری چینی صنعتکاروں کو پیش کش کر رہے تھےکہ وہ پاکستان میں ایسی صنعتیں لگا ئیں جن سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو۔یعنی سی پیک کے منصوبہ کا پورا پراجیکٹ کی بنیاد پاکستان کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہی تھا۔

بدقسمتی سے سی پیک منصوبہ کی معاہدہ ہو جانے کے بعد حکومت میں کمیشن کھانے اور دیہاڑی لگانے والے ایک طاقتور گروہوں نےپی پی پی پر حملہ کر دیا اور اپنے ایجنٹوں کو حکومت میں لا کر سی پیک کا رخ بدلا گیا۔

میاں محمد نواز شریف کی سی پیک منصوبہ میں مداخلت سے سب سے پہلے لاہور کو کراچی سے جوڑنے کے لیے موٹروے تجویز کی گئی۔بلاشبہ یہ اپنی جگہ ایک نہایت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے لیکن آپ ذرا غور کریں کہ اگر پہلی موٹروے اسلام آباد۔ ڈیرہ اسماعیل خان کوئٹہ اور گوادر تعمیر کی جاتی تو نہ صرف ان علاقوں میں پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا بلکہ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہاں پر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر موثر کنٹرول بھی حاصل ہوتا۔

میاں محمد نواز شریف کے دور میں سی پیک منصوبہ کی آڑ میں کمرشل قرضے لیے گئے۔ بدترین قرضہ اورنج لائن اور پنجاب میں پانچ کول پاور ہاؤسز کے لیے حاصل کیا گیا جس پر شرح سود آٹھ فیصد سالانہ کے قریب ہے۔
اورنج لائن ایک ایسا سفید ہاتھی ہے جو فوجی بجٹ کے بعد دوسرا سالانہ بڑا نقصان پاکستانی معیشت کے لیے پیدا کرے گا اور بیسیوں سال پاکستان کے لیے اس کا قرضہ اتارنا سب سے بڑا مشکل کام رہے گا۔ حکومتی سطح پر کوئی بھی پروجیکٹ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں کوشش کی جاتی ہے کہ اس پر کم سے کم نقصان آئے اورنج لائن کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کے نقصانات زیادہ سے زیادہ حد پر پہنچ گئے ہیں ۔

اسی طرح پنجاب میں واقع کول فائرڈ پاور پلانٹس آپ کو بہت جلد بند کرنا پڑیں گے ورنہ پنجاب کی نصف آبادی بیماریوں اور موت کا سامنا کرے گی۔

چین سے ہائبرڈ پیچ بنانے کی ٹیکنالوجی کا پروجیکٹ میاں نواز شریف حکومت میں بند کر دیا گیا اور دو سو کے قریب پاکستانی سائنسدان جو یہ علم حاصل کر چکے تھے انہیں فارغ کردیا گیا۔

زراعت پر چینی حکومت کی مدد کے تمام پروجیکٹس نواز شریف حکومت نے ختم یا بند کر دیے۔اسی طرح کوئی ایسی صنعت پانچ سالوں میں پاکستان میں لگانے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا جس سے پاکستان کی برآمد کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *