جدید ترقی کا تصور نو آبادیاتی تناظر میں


 مہر جان

قوم دوست انسانوں کو نہ صرف رجعت پسند کہا جاتا ہے بلکہ ترقی مخالف شد و مد سے کہا جاتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے کالونائزر ز کو کالونائزڈ کی ترقی کی بہت فکر ہوتی ہے اور کالونائزر ترقی سے نہ صرف نالاں نظر آتے ہیں بلکہ اس کی خلاف مکمل مزاحمت کی راہ عمل بھی اکثر اپناتے ہیں؟ دراصل “غیر ترقیت “ ترقی ہی کی پیداوار ہے کیونکہ ترقی کا پورا دارومدار غیر ترقیت پہ ہی منحصر ہے جب بھی “جدید ترقی” کا علمی و تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ جدید ترقی کے خمیر میں استحصال کس طرح علمیات کے پردوں میں پنہاں ہے علمیات کا پہلا وار ہمیشہ سے نفسیات پہ ہوتا اور کامن سینس کو علمیات کے ہتھیار سے مینوفیکچر کیا جاتا ہے تاکہ عام آدمی اپنی استحصال کو استحصال ہی نہ سمجھے آیئے جدید ترقی میں چھپے استحصال کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔

استحصال کی بنیادی طور پر کئی جہات ہیں، جس میں دو بہت اہم ہیں، ایک کا تعلق پیداوار کے ساتھ ہے، اور ایک کا تعلق علمیات میں پنہاں ہے۔ پیداواری استحصال بنیادی طور پر اپنا ایک علمیت رکھتی ہے، اور اسی علمیت سے اسکو جواز مہیا ہوتی ہے وہ مخصوص علمیت جس سے استحصال مترشح ہوتی ہے جو جدید ترقی” کہلاتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ترقی کا موجودہ رائج شدہ تصورپورے انسانی تاریخ میں نہیں رہا ہے، یہ روشن خیالی پروجیکٹ کے علمیت سے نکلی ترقی کا نیا تصور ہے، اور اسی ترقی کے جدید تصور کی بنیاد پر نو آبادیاتی نظام کواٹھارویں صدی میں وسعت دی گئی۔

یاد رہے کہ ترقی کے جدید تصور کو پہلی بار تاریخ میں نافذ کیا گیا، اور یہ جدید ترقی کا تصور ایک منزل کا نام نہیں بلکہ ایک پروسس کا نام ہے جس میں متناہی طاقت و دولت سے لامتناہی طاقت و دولت کی خواہشات کی حصول کی معاشرتی صف بندی کی جاتی ہے، اور اس صف بندی کے لیے بنیادی طور پر ریاست اور سائنس کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے (ریاست و مذہب کا گٹھ جوڑ) جب بھی یہاں سائنس کی بات ہوتی ہے، اس سے مراد وہی سائنس ہے، جس کے تحت بم بنا کر گرانے والے ترقی یافتہکہلاتے ہیں اور ان کے خلاف مزاحمت کاررجعت پسند کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تاریخ کا بھونڈا مذاق ہے جو علمیت کے نام پہ رچایا جاتا ہے، جب متناہی طاقت و دولت سے لامتناہی طاقت و دولت کا حصول مطمع نظر ٹہرا تو سب سے پہلے ترقی کے نئے تصور کو معاشرے کی سطح پر قائم کیا گیا بعد ازاں اس کو جینیات میں لایا گیا۔

یعنی “ترقی میں ھیگل کی تاریخ اور ڈارون کا تصور ارتقاء کو یکجا کیا گیا، جس پہ مارکس نے سائنسی رنگ جمایا اور جب یہ نعرہ عوام تک پہنچا تو استعمار کو اس سے طاقت ملی”۔

جدید ترقی کے تصور کا تصور آخر ہے کیا؟ آیئے اس کی خصوصیات پہ اک نظر ڈالتے ہیں

تعین رُخ

نقطہ عروج

تسلسل

عدم انعکاسیت

تعین رخ کا مطلب کہ جدید ترقی بنیادی طور پر یک رُخی ہوتی ہے، جو کہ عمودی نہیں ہوتی، بلکہ افقی ہوتی ہے، اس میں ترقی یافتہ اور پسماندہجیسے تصورات در آمد ہوتے ہیں یعنی جدید ترقی میں قوموں کے حوالے سے یہ بتایا جاتا ہے کہ کونسا ملک اس یک رخی ترقی میں آگے ہے اور کونسا پیچھے ہے، اس جدید تصور ترقی سے ماقبل قوموں اور ملکوں کے بارے میں “ترقی یافتہ / پسماندہ ” کا تصور نہیں پایا جاتا تھا، بلکہ ممالک صرف مختلفہوا کرتے تھے، لیکن جدید دنیا میں ملکوں کا “مختلف” ہونے کا تصور سرمایہ داری نے ختم کر دیا، اب ملکوں کے بارے میں ترقی میں ترقی یافتہ اور پسماندہ کا تصور عام ہوا، جس طرح کے اس ترقی کے یک رخی دوڑ میں سب سے آگے یورپ اور امریکہ کو تصور کیا جاتا ہے، پھر مشرقی یورپ یعنی روس کو اور اس کے ساتھ چین ، پھر ہندوستان کو، پھر افریقی ممالک آتے ہیں، اور آخر میں سرخ ہندی آتے ہیں۔

باالفاظ دیگر پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کا تصور جو بالکل نیا تصور ہے، جو بیسویں صدی میں رائج کیا گیا، نفسیاتی برتری اور کمتری کے تناظر میں جو بلکل غلط تصور ہے۔ترقی کے اس یک رخی جہت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا کی ساری اقوام یورپ کے مقلد محض بن جائیں، ان کی طرز زندگی اور طرز فکر کو مثل اعلیٰ کے طور پر اپنائے، یعنی غلامی کی بدترین شکل کے تانے بانے ترقی کے جدید تصور میں ضم ہو جائیں، دنیا پر ایک ہی طرح کے کلچر کے غلبے کا نفاذ ہو، اس نفاذ کے لیے اگر ہارڈ پاور کی بھی ضرورت پیش آجائے تو ترقی یافتہ ممالک کے لیے جواز پہلے سے علمیات میں موجود رہتا ہے کہ اس یک رخی طرز ترقی میں ہم سب سے آگے ہیں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔

جدید تصور ترقی کی دوسری اہم خصوصیت، اسکا نقطہ عروج ہے، یعنی میں جس حالت میں ابھی ہوں یہ تمام پچھلے حالتوں سے بہتر ہے، جو خامیاں اس جدید سماج میں پائی جاتی ہے، وہ مستقبل میں حل ہو جائیں گی، سائنسی منہاج کی تنزلی، ٹیکنالوجی کی تباہیاں اور فطرت کے استحصال جیسے بڑے بڑے مسائل مستقبل میں خود بخود حل ہو جائینگے کیوںکہ تاریخ آگے بڑھ رہی ہے، ہر آنے والا زمانہ پچھلے زمانے سے بہتر ہوتا ہے، جدید ترقی ایک قسم کی مستقبل مرکز ہوتی ہے، فرد کا کوئی “حال” نہیں ہوتا، وہ بس مستقبل سے عظیم تبدیلیوں کا خواہاں ہوتا ہے، جدید ترقی کے بطن سے نکلی دہشت پسند رویوں سے جس طرح بیسویں صدی میں قتل عام ہوا، جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی، ترقی کے اس تصور سے الگ نہیں ہے۔

ترقی کی تیسری خاصیتتسلسل کہلاتی ہے، یعنی ترقی وہ ہے جس میں مسلسل و مستقل آگے بڑھنے کا رجحان پایا جاتا ہو، وہ کسی بھی طرح انسانی تاریخ سے سبق لینے کا یارا نہیں رکھتا ہو، جدید ترقی کے تصور میں انسانی تاریخ کے کلچر اور روایات سے کسی بھی طرح کی روشنی اخذ نہیں کی جاتی، تاکہ انسانی زندگی کو اپنے ماضی سے ایک ربط برقرار رہے، اور ایک قسم کی معنویت کا اظہار ممکن ہوسکے۔ جو قوم بھی اپنے روایات و اجتماعیت کی طرف اگر تھوڑا بہت بھی ربط برقرار رکھنا چاہتا ہو، جدید ترقی کے غیر فطری دوڑ سے پیچھے رہ جائے گا، یہ وہ جبر ہے جو ترقی کے نام پر جس سے تیسری دنیاکے لوگ مسلسل متاثر ہورہے ہیں، لیکن بہت کم روشن خیالوںکو ترقی کے نام پر اس جبر کا شعور ہے۔

ترقی کی چوتھی خاصیت اسکا عدم انعکاسیتہے ، جس میں ماضی سے مستقبل کا تعین نہیں ہوتا، بالکل حال سے مستقبل کا ایسا تعین ہوتا ہے جس میں سرمایہ میں بڑھوتری، طاقت اور علم کا لامحدود حصول ممکن ہوسکے، اور ترقی یافتہ ممالک ہر طریقے سے باقی اقوام پر اپنا تسلط کو قائم و دائم رکھ سکے. جدید ترقی کا تصور یورپ اور امریکہ نے باقی اقوام پر طاقت کے بل بوتے پر نافذ کیا ہے، جس میں اس کی ترقی ممکن ہوتی رہی ۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں جو لوٹ مار کی، اس کے بنیاد پر انگلستان نے ترقی کی، امریکہ نے افریقہ میں لوٹ مار کی، اس کے بنیاد پر ان کی ترقی ممکن ہوئی، ہر ترقی یافتہ ملک نے غیر ترقی یافتہ ملک کا زبردست لوٹ مار کیا، تب ہی تو کہا جاتا ہے کہ دراصل غیر ترقیت”اصل میں ترقی ہی پیدا کردہ ہے، جو ان کے استحصالی رویوں کے خلاف کھڑے رہے اسے ہارڈ پاور کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ راستی خود مختاری اور ترقی کے نام پر نو آبادیاتی نظام لایا گیا، حتیٰ کہ بڑے بڑے مفکرین اس ترقی کے تصور سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے سامراج کے ظلم اور لوٹ مار سے قطع نظر ہوکر ہندوستان میں سماجی تبدیلی کو سراہا، آج علمیت کا ایسا جال پھیلا دیا گیا کہ اس جال میں گر کوئی مزاحمت کی راہ کسی بھی حوالے سے اپنا ئے تو انہیں ترقی مخالف، رجعت پسند، جیسے القابات سے نواز کر خود سامراج کے گود میں بیٹھ کر ترقی پسند، روشن خیالی کا درس دے رہے ہوتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *