کیا چین سپر پاور بن سکتا ہے؟

بیرسٹرحمید باشانی

دانشورکہتے ہیں اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے۔ اس صدی میں ایشیا کےکئی ممالک غربت اورپسماندگی سےنکل کرخوشحال ممالک کی صفوں میں شامل ہوجائیں گے۔  اورکچھ  ملک ترقی پذیرسے ترقی یافتہ  بن جائیں گے۔ان معنوں میں یہ صدی ایشیا کی صدی ہے۔  مگرسب سے بڑھ کریہ چین کی صدی ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں چین پرلگی ہیں۔  دنیاچین کو بڑی تیزی سے ایک سپرپاوربنتےدیکھ رہی ہے۔  دانشورحلقوں میں اب یہ بحث نہیں کہ چین سپرپاور بن جائے گا یا نہیں، بلکہ بحث اس بات پر ہے کہ چین کتنےعرصےمیں سپر پاوربن جائے گا۔

 دوسری طرف چین بھی اپنی عظمت رفتہ کی بحالی اورایک سپرطاقت بننے کے بارے میں پر عزم ہے۔خود چین کے دانشورحلقوں میں اس پر بحث جاری ہے۔ ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس کا خیال ہے کہ چین ایک سپرپاوربن چکا ہے۔ اب اگر کوئی دیر ہے تو وہ اس امر کے اعلان کی دیر ہے۔  اورچینی رہنماؤں کی آگے بڑھ کراپنا کردارمتعارف کرنے کی دیرہے۔ لیکن چین میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے، جن کارویہ بہت زیادہ محتاط ہے۔  ان کا خیال ہےکہ چین میں ایک سپرپاوربننے کا ایک پوٹینشل توموجود ہے، مگراس پوٹینشل کوبروئےکارلانے کے لیے بہت طویل عرصہ درکار ہے۔ اوراس باب میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

چینیوں کی طرح عالمی سیاست پرگہری نظررکھنے والے دنیا بھر کےدانشور بھی اس سوال پر تقسیم ہیں۔ ایک دانشورحلقے کی رائے ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کےعالمی کردارمیں بنیادی تبدیلی کی وجہ سے اب امریکہ دنیا کا واحد لیڈرنہیں رہا ہے۔  صدرٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کی سیاست میں امریکی کردارمحدود کر دیا ہے۔  اس سے عالمی سیاست میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔  چین اس خلا کوبھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ چینی رہنما اس ضرورت کاادراک کرسکیں، اورعالمی سٹیج پراپنا کردارادا کرنے کے لیےتیارہوں۔  اس موضوع پرآج دنیا بھرمیں ایک دلچسپ بحث ہو رہی ہے۔

جن لوگوں کا خیال ہے کہ چین کوسپرپاوربننے کے لیےطویل وقت درکارہے،  ان میں کئی نمایاں چینی دانشورشامل ہیں۔  یہ لوگ چین کےنظام اورحکمران اشرافیہ کا حصہ ہیں رہے ہیں۔  وہ اس نظام کو گہرائی سے سمجھتے ہیں، اوراندرکی خبراورمعلومات رکھتے ہیں۔  ان میں ایک لیومنگ فوبھی ہے۔  کرنل لیوایک چینی پروفیسرہے۔  وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پڑھاتارہا ہے۔  یہ چینی فوجی اشرافیہ کی اکیڈمی ہے، جس میں پیپلزلبریشن آرمی کے بڑے افسروں کوتربیت دی جاتی ہے۔

 کرنل لیومنگ فو نےکئی برس پہلےچین کا خواب نامی کتاب لکھی تھی۔ اس کتاب میں چین کے سپرپاوربننے کی خواہش، ضرورت اورامکانات پربحث کی گئی ہے۔  لیو کا خیال ہے کہ امریکہ کے برابرآنے کے لیے چین کونوے سال کا عرصہ درکار ہے۔   چین نے گزشتہ چند دھائیوں کے دوران بےمثال ترقی کی ہے۔ لیکن اس کے باوجودچین اورامریکہ کی جی ڈی پی میں بڑافرق ہے۔   گزشتہ کئی دھائیوں سےچین ایک طرح سے دنیا کی فیکٹری رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی مینوفکچرنگ اورایکسپورٹ بہت بڑھی ہے۔  تیزرفتار ترقی کی وجہ سے چین اورامریکہ کی جی ڈی پی کے فرق میں کافی کمی ہوئی ہے۔

 کورونا سے پہلے2018 میں چین کی جی ڈی پی تیرااعشاریہ ستائیس ٹریلین ڈالرتھی، جوکہ امریکہ سے سات ٹریلن ڈالرکم تھی۔  امریکہ کےبرابرآنےکےلیےلیوکےخیال میں چین کو تیس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔  یہ کورونا سے پہلے کی بات ہے۔ کورونا کے بعد کی صورتحال اورنتائج اس سے قطعی مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔

  لیو کے خیال میں فوجی طاقت کے اعتبار سے چین اورامریکہ میں بہت بڑا فرق ہے۔  کورونا سے پہلے امریکہ کا سالانہ فوجی بجٹ610 ارب ڈالرتھا ۔  یہ بجٹ امریکہ کی کل جی ڈی پی کا تین اعشاریہ ایک پرسنٹ ہے۔  دوسری طرف چین کا کل فوجی بجٹ 228 بلین تھا، جو چین کی کل جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ نو فیصد ہے۔  ضرورت اورخواہش کےباوجود چین اس بجٹ میں خاطرخواہ تبدیلی نہیں لاسکتا۔  چینی لیڈرشعوری طورپرایسا کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس معاملے میں انہوں نے سوویت یونین سےسبق سیکھا ہے۔

کئی چینی ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی طاقت کی کمزوری سے ان کا کچھ زیادہ نہیں بگڑسکتا، لیکن اگر معاشی حالات خراب ہوں اورعوام مسائل کا شکار ہوں تو تو نظام کو خطرہ ہے۔  سوویت یونین کی تباہی کی ایک وجہ بے تحاشا فوجی اخراجات بھی تھے۔   چینی لیڈراس غلط تجربے سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیے وہ اپنی فوجی طاقت بڑھانے یا فوج کو جدید بنانے کا کام بھی آہستگی اورسلیقے سے کر رہے ہیں۔ اس سست رفتار اور محتاط سلسلہ عمل میں لیو کےخیال میں امریکہ کے برابر ہونے کے لیے ان کومزید تیس سال درکار ہوں گے۔

 کرنل لیو کی یہ رائے ہے کہ ثقافتی لحاظ سے امریکہ کے برابرہونے کے لیے بھی چین کو کم ازکم تیس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔  گویا تیس سال میں چین جی ڈی پی بڑھائے گا، جس کے بعد وہ اس قابل ہوگا کہ وہ فوج پرامریکہ کے برابرخرچ کر سکے، جس کے بعد اسے اپنی فوج کو جدید بنانے کے لیے اتنا ہی عرصہ درکار ہوگا۔  ان دوچیزوں میں امریکہ کی ہمسری کے بعد کلچر، زبان اوردنیا میں اپنی ساکھ بنانے کا عمل شروع ہوگا، جوتیس سال سے کم عرصے میں نتائج نہیں دے سکتا۔

لیو کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سوبرسوں میں مختلف عالمی طاقتیں ابھرتی رہی ہیں۔  سولہویں صدی میں پرتگال آیا، اس کے بعد ہالینڈ، اٹھارویں اورانیسویں صدی میں برطانیہ، بیسویں صدی میں امریکہ اور اکیسویں صدی میں چین کی باری ہے، مگر یہ وقت طلب اورصبرآزما کام ہے  

پروفیسرلیواگرچہ فوجی پس منظررکھتے ہیں، لیکن ان کی رائے کو زیادہ بڑے فوجی حلقوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔  کئی ایک بڑے فوجی تجزیہ کاروں نے لیوکےتجزیےاورنتائج سےاختلاف کیا ہے۔

لیکن اگراس باب میں فوجی حلقوں میں اتفاق بھی ہو پھربھی چین میں اس طرح کے اہم معاملات میں فیصلہ سازی کا اختیارسویلین کےپاس ہے۔  چین کےسویلین رہنما ان مسائل اورمشکلات سے آگاہ ہیں،  جوان کو داخلی محاذ پردرپیش ہیں۔ ان مشکلات کے مقابلے کے لیے ان کو داخلی فوکس اورعالمی استحکام کی ضرورت ہے، تاکہ ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہے۔  بیرونی سطح پرایک سخت گیراورجارحانہ موقف ان کو اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے پرمجبور کرسکتا ہے، جس کی خطرناکیوں سے حکمران اشرافیہ اگاہ ہے۔

 لیونے تین چیزوں کی نشاندہی کی، جن میں امریکہ کی برابری کے لیےچین کو نوے سال کا عرصہ درکار ہے۔  مگرکچھ دوسرے فیصلہ کن عناصربھی ہیں، جن کولیو نے نظراندازکیا ہے۔  اس میں ایک بڑاعنصرعالمی برادری میں چین کی بطورسپرطاقت قبولیت اوراثرورسوخ ہے، جس میں امریکہ کے مقابلے کے لیے اسے کئی پاپڑ بیلنے ہوں گے۔ امریکہ کی سپرپاور بننے، اوربطورسپرپاوردنیا میں بالادستی قائم کرنےکا ایک ذریعہ اس کے عالمی اتحاد تھے۔  

ان عالمی اتحادوں کی ایک مثال نیٹو ہے،  جس میں انتیس ملک شامل ہیں۔ آسٹریلیا اورنیوزی لینڈی لینڈ کے ساتھ اس کا 1951کا دفاعی معاہدہ ہے۔  جاپان اورجنوبی کوریا کے ساتھ۔ دفاعی معاہدات ہیں۔  کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اورانگلینڈ کے ساتھ فائیوآئیزانٹلیجنسکی شراکت کا معاہدہ اوربندوبست ہے۔  ایک سپرپاوربننے کے لیے کسی ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک وقت میں کئی خطوں اوربراعظموں پراپنا معاشی اورفوجی غلبہ قائم کرنے اوربرقراررکھنے کی پوزیشن میں ہو ۔ یہ ایک مہنگا کام ہے۔ اس کی بہت بڑی قیمت ہے۔ امریکہ نے دنیا بھرمیں اپنےسینکڑوں فوجی اڈے قائم کرکے اس ضرورت کو پوراکیا۔ اس سطح کی فوجی موجودگی کے لیے چین کو لمباعرصہ اوربڑے وسائل درکارہوں گے۔

ایک سپرپاورکے لیے داخلی استحکام بنیادی شرط ہے۔ چین کے لیے اندرونی سیاسی حالات،  جمہوری حقوق اورشہری آزدیاں ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ چین کوداخلی محاذپرجن گھمبیرمسائل کا سامنا ہے، ان میں ایک کرپشن ہے۔  اگرچہ کرپشن کی روک تھام کے لیےسخت سزاوں کا رواج ہے، لیکن اس پراس طرح قابونہیں پایاجارہا، جس کی ضرورت ہے۔  آزاد پریس کے بغیرکسی بھی ملک میں کرپشن کوروکنا مشکل ہوتا ہے۔ ان چیزوں کےعلاوہ قانون کی حکمرانی، آزادعدلیہ اورمعاشی انصاف بھی ایک ایسے ملک کے لیےلازم ہے، جو دنیا پربطورسپرپاورحاکمیت کا خواہش مندہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *