کیا پاکستان میں عسکری اشرافیہ کی مرضی کے بغیر تبدیلی ممکن ہے؟

لیاقت علی

بیس20ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کل جماعتی کانفرنس اور اس کے 26نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ پر بہت زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ کانفرنس سے ن لیگ کے رہنما میاں نواز شریف کی دوٹوک تقریر کو بھی بہت سراہا گیا ہے اور اس کو پاتھ بریکنگ قرار دیا جارہا ہے۔ جہاں تک اس کانفرنس کا تعلق ہے تو یہ یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کانفرنس کی بدولت سیاسی قوتوں کے مابین اختلاف کم کرنے اور اتفاق پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور عوام میں بھی اپنے حقوق کے حوالے شعورو آگاہی میں اضافہ ہوگا۔

کانفرنس نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں عمران حکومت کو اقتدار کرنے کے لئے اپنے مرحلہ وار پلان کا اعلان کیا ہے جو اگلے تین سے چار مہینوں پر محیط ہے۔ سوال یہ ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے نتیجے میں بننا والا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ موجود ہ حکومت کوعوامی قوت کے سہارے اقتدار سے محروم کرنے میں کامیاب ہوسکے گا؟۔ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے عوام ان جماعتوں کی تحریک پر سڑکوں پر نکلیں گے اور عمران حکومت کو گھر بھیجنے تک سڑکوں پر رہیں گے؟

پاکستان میں عوام کی قوت اور طاقت سے حکومتوں کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کی تاریخ بہت کم زور ہے۔ یہاں جب بھی اقتدار پر قابض حکومت خواہ فوجی تھی یا سول کے خلاف کوئی تحریک چلی بالآ خر اس کی قیادت کو فوجی اشرافیہ سے کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتہ کرنا پڑا اور حکومت کو گھر بھیجنے کا کریڈٹ عوام کی جدوجہد کی بجائے غیرمنتخب قوت کو حاصل ہوگیا۔

پاکستا کے قیام کے بعد پہلے دس سالوں میں تمام وزرائے اعظم سازشوں سے بنے اور سازشوں ہی کی بدولت محروم اقتدار ہوئے۔ عوام کی قوت اور طاقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ غیر منتخب مقتدر حلقے جسے چاہتے وزیر اعظم بناتے اور جب چاہتے اپنے ہی مقررہ کردہ وزیر اعظم کو گھر بھیج دیتے تھے۔ سیاسی چوری چکاری کا یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد دس سالوں تک چلتا رہا۔

سنہ1958میں فوج نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرلیا اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی۔ جنرل ایوب خان کے پہلے پانچ سال تو کسی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر میں ایوبی آمریت کو چیلنج کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ 30۔ اپریل1967 کو چھ سیاسی جماعتوں نے ملک کر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا جس کا ایجنڈا جنرل ایوب کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ قرار دیا گیا تھا۔ چند ماہ بعد کچھ سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے اس کا نام بدل کر پاکستان ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھ دیا گیا تھا۔

ڈیک کی جدوجہد اور کوششوں کی بدولت جنرل ایوب خان سیاسی قوتوں سے مذاکرات پر تیار ہوئے اور انھوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ آئینی اور سیاسی امور پر تصفیے کے لئے گول میز کانفرنس بلائی۔ ڈیک نے اس کانفرنس میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ افتتاحی اجلاس ہوا ایجنڈے کے نکات طے کئے گئے لیکن جنرل ایوب خان کے مخالف جنرلز نے اس کانفرنس کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر کانفرنس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری حکومت بحال ہوگئی تو فو ج کے لئے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنا مشکل ہوگا۔

چنانچہ جنرل ایوب خان کے مخالف فوجی دھڑے نے بھٹو اور بھاشانی کے ذریعے اس گول میز کانفرنس کا ناکام بنا کر جنرل ایوب خان کو مجبور کردیا کہ وہ اقتدار فوج کے کمانڈر انچیف جنرل یحیی خان کے حوالے کردے۔ جنرل یحیی خان نے 1970 میں انتخابات کرائے لیکن اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ جنرل یحیی خان کے اس غیر جمہوری اقدام کو مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت اور رائے عامہ بھرپور حمایت حاصل تھی۔

دسمبر1971 میں پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کی بدولت فوج کے ایک دھڑے نے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے اور اقتدار سویلین لیڈر شپ کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔ بھٹو کو بیرون ملک سے واپس بلا کر انھیں اقتدار سونپ دیا گیا۔ ابھی بھٹو کو اقتدار سنبھالے دو ہی سال ہوئے تھے ایک درجن سے زائد فوجی افسروں نے بغاوت کا منصوبہ بنایا جو بروقت پکڑا گیا اور سازش میں شریک افسروں مختلف المیعاد سزائیں ہوئیں۔

بھٹو کے خلاف ملک کی کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں نے یونایئٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ قایم کیا جس کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا اور وہ تھا بھٹو حکومت کا خاتمہ۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود یو۔ڈی۔ایف بھٹو حکومت کا ختم نہ کرسکا۔ جب بھٹو نے مارچ 1977 میں انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تو راتوں رات نوسیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد۔۔۔ پاکستان قومی اتحاد قائم کیا گیا۔ اس اتحاد کا یک جماعتی ایجنڈا تھا اور وہ تھا بھٹو حکومت کا خاتمہ اور اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے باہمی اتحاد کا واحد نکتہ یہی تھا۔ قومی اتحاد نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر تحریک چلائی جو محض شہروں تک محدود تھی۔ اپنی تمام تر قوت اور طاقت کے باوجود یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔

لیکن جوں ہی بھٹو اور قومی اتحاد کی قیادت کے مابین مذاکرات شروع ہوئے تو جی۔ایچ۔کیو بھی میدان میں آگیا۔ فوجی اشرافیہ قطعا یہ نہیں چاہتی تھی کہ متحارب سیاسی قوتوں کے مابین سمجھوتہ ہوجائے اور اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن ہوسکے چنانچہ اصغر خان سے فوجی مداخلت کے لئے خط لکھوایا گیا۔ بیگم نسیم ولی خان نے مارشل لا کے نفاذ سے کم کسی بات کو ماننے سے انکار کردیا تھا چنانچہ 5 جولائی فوج نے مارشل لا لگا کر سویلین سے سویلین کو اقتدار کی منتقلی کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا۔

جنرل ضیا کے خلاف 1979 میں تحریک بحالی جمہوریت کا قیام عمل میں آیا۔ ایم۔آر۔ڈی میں شامل سیاسی جماعتوں کی کارکنوں اور رہنماوں بے پناہ مصائب برداشت کئے طویل عرصے تک جیلوں میں مقید رہے لیکن جنرل ضیا کو اقتدار سے محروم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ فوج پوری قوت اور یکسوئی سے جنرل ضیا کی قیادت میں متحد تھی۔

جنرل ضیا کی موت کے بعد فوجی اشرافیہ ایک بار پھر وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور انتخابات کرائے۔ انتخابات میں بے نظیر کی قیادت میں پیپلزپارٹی کو کامیابی ملی لیکن فوج نے مشروط اقتدار بے نظیر کے سپر د کیا۔ پنجاب سازش کے تحت نواز شریف کے سپر د کردیا گیا تاکہ بے نظیر کی وفاقی حکومت کو اپاہج بنایا جاسکے۔ نواز شریف کے تعاون سے جلد بے نظیر کی حکومت کو چیف آف دی آرمی سٹاف نے گھر بھیج دیا۔ نواز شریف بر سراقتدار آئے لیکن بے نظیر نے جنرل عبدالوحید کاکڑ سے مل کر نواز شریف کو گھر بھیج دیا اور خود وزیراعظم بن گئیں۔ ایک دفعہ پھر نواز شریف نے صدر لغاری سے مل کر بے نظیر وزیر اعظم ہاؤس نکال باہر کیا اور خود وزیر اعظم بن گئے۔

اس مرحلے پر ایک دفعہ پھر نواز شریف کے خلاف نواب نصراللہ خان کی قیادت میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بنایا گیا لیکن یہ الائنس اس وقت کچھ نہ کرسکا جب تک خود فو ج کو نوا ز شریف کو نکال باہر کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ یہاں بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کہ بارہ اکتوبر سے دو دن پہلے دس اکتوبر کو نواب زادہ نصراللہ خان کی زیر صدارت جی۔ڈی۔اے نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ 29۔اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت کے خلاف نشتر پارک کراچی میں جلسہ منعقد کرکے اپنی تحریک کا آغاز کرے گا لیکن اس اعلان کے دو دن بعد ہی فوج نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔

پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے سات سال بعد بے نظیر اور نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے۔ یہ چارٹر غیر منتخب اور غیر جمہوری قوتوں کے لئے موت کا پیغام تھا۔ چنانچہ فوج نے بے نظیر سے این آراو کرلیا اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ بے نظیر این آراو پر دستخط کرنے کے بعد پرامید واپس لوٹیں لیکن غیر منتخب قوتوں ان کی شخصی موجودگی کو پاکستان میں برداشت نہیں کرسکتی تھیں چنانچہ انھیں شہید کرکے سویلین لیڈر شپ کو چتاونی دی گئی کہ ان کی حکم عدولی کی سزا موت ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کرائے پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا لیکن حاکموں نے جلد ہی ن لیگ کو اپنی گرفت میں لے کر اسے پیپلزپارٹی کے خلاف صف آرا کردیا اور اس کے بعد جنرل کیانی،جنرل شجاع اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کھل کھیل کھیلتے رہے۔ اس تکون کو ن لیگ کی مکمل پش پناہی حاصل تھی۔

سنہ2013 میں الیکشن جیت کر نواز شریف برسر اقتدار آئے تو عسکری اشرافیہ نے ان کے خلاف محاذ بنالیا اس محاذ میں اس دفعہ سپریم کورٹ چیف جسٹس میاں نثار شامل تھے۔ فوجی اور عدالتی اشرافیہ باہم ایک مٹھ ہوکر عمران خان کو نواز شریف کے خلاف میدان میں اتارا۔ ان کا دھرنامکمل پشت پناہی سے ہوا تھا اور اس دھرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ مقصد نہ تھا کہ نواز شریف کی منتخب حکومت کو ختم کیا جائے چنانچہ حیلے بہانوں سے نواز شریف کو کم زور کیا گیا ور ایک کم زور عدالتی فیصلے کی رو سے انھیں وزارت عظمی سے محروم کردیا گیا۔ الیکشن میں عمران کو کھلا موقع دیا گیا گلی سنجیاں کی گئیں تاکہ مرزا یار بلا شرکت غیرے دندنانا پھرے۔

الیکشن ہوئے نواز شریف کو سزا ہوئی وہ بیرون ملک گئے سب کچھ مالکوں کی مرضی اور منشا اور ان کے لکھے ہوئے سکرین پلے کے مطابق ہوا اور اب بھی ہورہا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی اقتدار کی منتقلی جمہوری طریقے سے کبھی نہیں ہوئی جب بھی ہوئی وہ عسکری اشرافیہ کے خواہش، تعاون اور مدد کے بغیر نہیں ہوئی۔ پاکستان کے عوام نے اپنے جمہوری حقوق کی بازیابی کے لئے ایک سے زائد مرتبہ تحریکیں چلائیں لیکن ان تحریکوں کو غیر منتخب قوتوں نے اچک لیا اور اپنے مقاصد کے حصول اور تحفظ کے لئے استعمال کرلیا۔

عسکری اشرافیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ عوام کی طاقت اور قوت سے حکومت تبدیل ہو کیونکہ ایک دفعہ ایسا ہوگا تو پھر عسکری اشرافیہ کے لئے ریاستی پر کنٹرول اور غلبہ رکھنا مشکل ہوجائے گا اس لئے قرائن اور تاریخ سے یہ لگتا ہے کہ نیا بننے والا یہ اتحاد۔۔۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکے گا جب تک کہ فوج کے ایک دھڑے یا گروپ کو اس کی ضرورت نہیں پڑجاتی اس وقت اس کو محض مختلف اوقات اور مواقعوں پر بیانات جاری کرنے پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *