خدا جنرل قمر جاوید باجوہ کا سایہ پاکستانی قوم پر قائم کررکھے

شرافت رانا

دنیا کے ہر شعبہ میں تاریخ میں بڑے بڑے کردار پیدا ہوئے ہیں۔ بہت بڑے بڑے جرنیل بھی دنیا بھر کی افواج میں پیدا ہوئے ۔ مگر پاکستان میں جو قیادت اور خصوصی طور پر فوجی قیادت اللہ پاک کی دین سے پیدا ہوئی اس کا نہ پوری دنیا کی تاریخ میں جوڑ ہے نہ موازنہ ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ ۔ قمر کا مطلب ہے روشن اور پورا چاند قمر جاوید باجوہ بلاشبہ پاکستان کی پیشانی پر نصب ایک روشن چاند ہیں۔بلاشبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فن سپاہ گری کو ایسا عروج بخشا ہے کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ فن حکومت سازی اور ڈپلومیسی میں قمر جاوید باجوہ نے نے اپنے ہی سینئرز کے سب طرح کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔ اس کی مثال نہیں ملتی ۔

جنرل صاحب نے پاکستان کی نصب شدہ حکومت کی ناکامی اور نالائقی کو محسوس کرتے ہوئے اسے مضبوط کرنے کے لئے جس قدر جدوجہد کی ہے ۔ وہ بے مثال ہے ۔ نواز شریف اور راحیل شریف اور موجودہ وزیراعظم کی ہر محاذ پر مکمل پسپائی اور ناکامی کے بعد پاکستان کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنبھالا ہے ۔ چین سے نئے سرے سے تعلقات پیدا کرنا ہوں یا چین سے رقوم کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرنا ہو ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ امریکہ کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ اس میں قمرجاوید باجوہ کا نہیں ٹرمپ انتظامیہ کا قصور ہے۔

سعودی عرب اور امارات کے ساتھ پاکستان کے معاشی اور سیاسی تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔جنرل صاحب موصوف بہت ہی زیادہ محنتی ہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے ہر لمحہ ہر میدان میں جدوجہد کرتے ہیں۔عمران خان کی حکومت کا اب تک واحد اچھا کام جنرل صاحب کو ایک نئے ٹینیور کے لیے ایکسٹینشن دینا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ جذبہ حب الوطنی میں ایکسٹینشن والے اجلاس میں کم از کم تین بار اپنی فائل خود لے کر گئے حالانکہ ان کو اس کام کے لیے اردلی اور جونیئر سٹاف بھی دستیاب تھا لیکن وہ عاجز اور منکسرالمزاج انسان ہیں کہ ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے ہیں ۔

ابھی حال ہی میں نصب شدہ حکومت نے شاہ محمود قریشی کو روس کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے اور موجودہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے روس کے ساتھ ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد ہو جائے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ وزیر خارجہ پاکستان اس کام کے لیے انتہائی غیرموزوں شخص ہیں اور غیر ضروری اور فضول گفتگو کرنے کے عادی ہیں ۔ اس وجہ سے میں ان کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں دیکھتا ۔

امید واثق ہے کہ عنقریب حکومت اپنی اس غلطی کو درست کرے گی اور وہاں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھجوایا جائے گا تاکہ پاکستان اور روس اس پوری دنیا کو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ ایک کیمپ میں ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان ایران افغانستان اور چین پر مشتمل ایک ایسا طاقتور فوجی بلاک بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے پاکستان دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوا کرے گا ۔

چونکہ پاک فوج نے فرسٹ جنریشن 48 میں۔سیکنڈ جنریشن۔65 میں ، تھرڈ جنریشن 71 میں ، فورتھ جنریشن کارگل میں تاریخی فتوحات حاصل کر رکھی ہیں۔ اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ففتھ جنریشن وار میں بھی ہماری فوجی قیادت ہمیں سرخرو کرے گی ۔ ففتھ جنریشن وار کی موثر قیادت کیلئے میری استدعا ہے کہ عاصم قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ قومی سطح پر ایک خلا پیدا کر رہی ہے ۔ وہی اس ڈاکٹرین اور وار کے موجد اور ابتدائی صناع تھے ۔ لہذا ان کی ریٹائرمنٹ کو واپس لے کر انہیں بھی تا عمر جنرل قرار دیا جائے تاکہ انڈیا اور پاک فوج کے دشمنوں کے دانت کھٹے کئے جا سکیں۔

جنرل صاحب کی کاوشوں اور ملکی خدمات کو آج تک وفاقی حکومت نے درست طور پر ریکگنائز نہیں کیا ہے۔ اور حکومت انہیں محض ایکسٹینشن پر ٹرخا رہے ہیں۔ میں وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جنرل صاحب کو بطور فیلڈ مارشل ترقی دی جائے۔ اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاکستان کے قومی مفاد میں تاحیات آرمی سٹاف مقرر کیا جائے۔

خدا انہیں عمر خضر عطا فرمائے ۔ اور ان کی شخصیت کا سایہ تا قیامت پاکستانی قوم پر موجود رہے ۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *