کیا کردستان کا قیام قریب پہنچ چکا ہے؟

Nusrat-Javed-267x200نصرت جاوید

عراق اور شام میں کئی برسوں سے جاری انتشار کے تناظر میں کردستان نام کا ایک نیا ملک بنانے کا منصوبہ امریکہ اور یورپ کی کئی یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس نے عرصہ ہوا پوری تفصیلات کے ساتھ مکمل کرلیا تھا۔ اب اس منصوبے پر عملدرآمد کا وقت آن پہنچا ہے اور اس وقت کی اہمیت کو نہ سعودی عرب سمجھ پایا ہے نہ ایران۔ حتیٰ کہ ہمارا برادر ترکی بھی بہت دیر کے بعد بیدار ہوا ہے۔

مسلم اکثریتی ملک ہوتے ہوئے بھی ترکی،امریکہ اور اس کے حواریوں کے بنائے نیٹو کا بنیادی رکن بنا تھا۔ مقصد اس عسکری تنظیم کا دنیا کو کمیونزم سے محفوظ رکھنا تھا۔ یورپ کا ایک بڑا سرمایہ دار ملک ہوتے ہوئے بھی فرانس اس اتحاد میں شامل ہونے سے ہچکچا تا رہا۔ ترکی نے بالکل مزاحمت نہ کی تو اصل وجہ اس کی خلافتِ عثمانیہ کے زمانے سے روس کے ساتھ جاری مخاصمت تھی۔

خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد اتاترک کا بنایا جدید ترکی درحقیقت اناطولیہ کے باسیوں کا ملک تھا۔ یہ جفاکش کسان تھے جو اپنے نسلی اور ثقافتی رشتے داغستان، چیچنیا اور وسط ایشیاء کی ریاستوں سے جوڑے ہوئے تھے۔ ان سب علاقوں کو زارروس نے سامراجی طاقت کے زور پر ہتھیالیا تھا۔ سوویت یونین نے یہ انتظام سوشلزم اور ’’قومیتوں کے حقوق‘‘ کے بہانوں سے برقرار رکھا۔ اتاترک اور اس کے جانشینوں کی پہلی ترجیح لہذا اپنے ملک کو سوویت یونین کے تسلط سے بچانا ٹھہری اور وہ نیٹو کا حصہ بن گیا۔

نیٹو کا حصہ بن جانے کے بعد ترکی کی فوج اپنے ملک کا طاقتور ترین ادارہ بن گئی۔ بار ہا اس نے مارشل لاء لگاکر اپنے ملک کو یورپ جیسا بنانا چاہا۔ فوجی آمریت خواہ کتنی ہی نیک نیت کیوں نہ ہو اپنے ملک اور قوم کو یک جا کرتے ہوئے ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکتی۔ خلق خدا کے دلوں میں موجزن سوچ بالآخر اپنی راہ بناکر رہتی ہے۔ اور رجب اردوان کی جسٹس پارٹی عوامی جذبات کو جمہوری عمل کے ذریعے کسی منزل تک پہنچانے کا ایک ٹھوس مظہر ہے۔

اردوان اور اس کی جماعت نے اپنے ملک کو ہوشربا استحکام اور خوش حالی فراہم کی۔ اس خوش حالی اور استحکام کے بعد دلوں میں لوٹ آئیں خلافت عثمانیہ کے زمانے سے وابستہ کامرانیوں کی یادیں۔ مصر، عراق اور شام بھی لیکن اب بدل چکے تھے اور گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ۔ اردوان ایک بار پھر اناطولیہ کا کسان بن چکا ہے مگر اس وقت کے تقاضے نہیں سمجھ پارہا۔

روس کا ایک فوجی طیارہ جو شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کے لئے جارہا تھا اس کی حکومت نے مار گرایا ہے۔ اس طیارے کی تباہی کے بعد روسی صدر نے بہت جارحانہ کلمات ادا کئے۔ روسی وزیر خارجہ، جسے بدھ کی صبح مذاکرات کے لئے انقرہ پہنچنا تھا اپنا دورہ منسوخ کربیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا کے دانشور اس واقعے کے بعد روس اور ترکی کے درمیان ایک جنگ برپا ہوتی دیکھ رہے ہیں جو ان کے خیال میں بالآخر تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جائے گی۔ جس کے بعد شاید دجال بھی نمودار ہوجائے اور پھر وہی منظر بن جائے جس کی پیش گوئی ایماں کی حرارت والے بہت دنوں سے کئے چلے جارہے ہیں۔

میرا علم سوشل میڈیا پر چھائے دانشوروں کے مقابلے میں بہت ناقص ہے۔ ایمان سلامت مگر ذرا کمزور ہے اس لئے فی الوقت مجھے تو روس اور ترکی کے درمیان بھی کوئی جنگ ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ہمارے لوگوں کو شاید علم نہیں کہ برادر ملک ترکی کے گھروں اور فیکٹریوں میں جوگیس استعمال کی جاتی ہے اس کا 60فی صد روس سے درآمد کیا جاتا ہے۔ سردیوں میں اس گیس کی ضرورت زیادہ ہوجاتی ہے اور روس اگر اپنا تیل اور گیس نہیں بیچے گا تو گنجی نہانے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔

پیرس میں ہوئے حملوں کے بعد فرانس، امریکہ اور یورپ ممالک کے سامنے جو 9/11کے بعد امریکی صدر بش نے دوست یا دشمن کی صورت پیش کیا تھا۔ صدر اوبامہ مگر عراق اور افغانستان سے ملے زخموں کو ابھی تک نہیں بھرپایا۔ بڑھک بازی کو نظرانداز کردیں تو خوب سمجھ آرہی ہے کہ دل ہی دل میں اوبامہ اور اس کے لئے سوچنے والے خوش ہیں کہ شام کو داعش سے بچانے کا ذمہ پیوٹن نے اپنے سر لے لیا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری بالآخر پیوٹن کو ہلاشیری دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

عراق کبھی ایک متحد اور مشرق وسطیٰ کا ایک طاقت ور ملک ہوا کرتا تھا۔ اب نہیں رہا۔ بغداد میں بیٹھے حکمران اپنے تحفظ کی خاطر ایران کی طرف دیکھتے ہیں۔ سنی قبائل کا مقدر بنی ہے داعش اور ایسے ماحول میں استحکام اور خوش حالی کا جزیرہ بن چکا ہے تو صرف عراق کے حصہ میں آیا کردستان۔ تیل کی دولت سے مالامال اس علاقے میں کاروبار بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں اور نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے لئے کھل رہے جدید ترین تعلیمی ادارے۔

ایران والا کردستان اس رونق کو بڑے رشک سے دیکھ رہا ہے مگر اصل فکر مندی پائی جارہی ہے ترکی میں جہاں مشرقی اناطولیہ بھی اپنی سرشت میں محض کردستان ہے۔ انقرہ میں بیٹھے ’’ ایک قومایک زبان‘‘ کے جنون میں مبتلا حکمرانوں نے کبھی اس کی حقیقت کو لیکن تسلیم نہیں کیا۔ زمینی حقائق کو مگر ہمیشہ کےلئے نظراندازبھی تو نہیں کیا جاسکتا۔

مشرقِ وسطیٰ میں موجود ملکوں کے نقشے ایک بار پھر بدل کررہیں گے۔ بالکل ویسے یہ جیسے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد بدلے تھے۔ اس وقت یہ نقشے فرانس اور برطانیہ نے باہم بندربانٹ کے ذریعے بنائے تھے۔ اب فرانس کے شراکت کار امریکہ اور روس ہوں گے۔

سوشل میڈیا پر مسلم اُمہ کی بے بسی کا ماتم برپا کرنے والے اس تناظر میں ویسے ہی بے بس دکھائی دیں گے جیسے تحریک خلافت کے نام پر کئی برسوں تک برصغیر پاک وہند میں دہائی مچانے والے ثابت ہوئے تھے۔ مشتری ہوشیار رہے کہ میں یہ ’’اطلاع‘‘ بڑے دُکھی دل کے ساتھ دے رہا ہوں۔

روزنامہ نوائے وقت

2 Comments