ارشد محمود
میری اس تجویز کردہ اپیل پر کہ مغربی ممالک اپنے ہاں بسنے والے اور نئی امیگریشن کے امیدوار مسلمانوں سے ایک حلف نامہ لیں، کہ وہ مغربی تہذیب کی سیکولر اقدار پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اس پر بہت سے‘تعلیم یافتہ اور بظاہر لبرل مسلمانوں‘ نے میرے اس موقف کو دوسری ‘انتہا پسندی‘ قرار دیا ہے۔
مجھے نہیں سمجھ آئی، یہ انتہا پسندی کہاں سے ہو گئی؟ پہلی بات تو یہ ہے، کہ زندگی کے بارے میں سیکولر فکر تہذیب جدید کی پہلی سیڑھی ہے۔ کہ مذہب اور عقائد ہر ایک کا پرائیویٹ فعل ہے۔ ان کو سماجی و سیاسی قوانین کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
مغرب کی ایک اپنی طرز زندگی ہے۔ جس میں فرد کی آزادی اور اسے اپنی خوشی کے حصول کا حق دیا گیا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں میں فرد کی آزادی بھی حرام ہے، اور فرد کی خوشی کا حق بھی حرام ہے۔ اسلام میں انسانی حقوق نام کی بھی کوئی چیز نہیں۔ اسلامی نظام و اقدار ایک سخت گیر قبائلی اور جاگیرداری اقدار پر مبنی ‘ضابطہ حیات‘ ہے۔ جس میں اللہ، رسول، مقدس کتابیں اور مولوی حکم چلاتا ہے۔
انسانوں کو تو اپنے لئے قوانین بنانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ تاریخی ارتقا میں مغربی معاشرے انسانی معاشرے کی ترقی یافتہ سطح ہے۔ جب کہ ‘اسلامی ضابطہ حیات‘ چودہ سو سال قدیم صحرائی قبائلی معاشرے کی اقدار کو تقدیس دیئے ہوئے ہے۔ اسلام اپنی فطرت میں ایک سیاسی ، جارحانہ اور غلبہ کرنے والا مذہب ہے۔
مسلم ممالک کے باشندے اپنے پس ماندہ، نیم خواندہ معاشروں کی جہالت زدہ اقدار کو لے کر مغرب میں جا بستے ہیں۔ مغرب والوں کی سادہ لوح “حماقت” کہ وہ ان کو بھی ‘انسان‘ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جب کہ یہ ‘انسان‘ کم اور مسلمان زیادہ ہوتے ہیں۔ اسلام میں تو دوسرے کے مذہب کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک تو ہر انسان ‘مسلمان‘ ہی ہوتا ہے۔ پیدا ہونے پر اس کو کافر بنا دیا جاتا ہے۔۔ اب اس کو ‘دین فطرت‘ کی طرف لانا۔۔۔تمام مسلمان فرقوں و گروہوں کا اولین فریضہ بن جاتا ہے۔
پھر یہ اپنی مساجد میں خاص کر یورپی ممالک اور امریکہ وکینیڈا میں اسلام کے غلبے کی تبلیغ کرتے ہیں کہ ایک دن اسلام اس ملک کا سرکاری مذہب بنے گا، اور جمہوریت کی بجائے نام نہاد خلافت کا نظام ہو گا۔ وغیرہ
ان کا یہ ذہنی خبط اور خناس کہ“ہم بھی اسلام کے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔اور باقی کی غیر مسلم انسانیت کو بھی فوری طور پر دائرہ اسلام کے اندر داخل ہوجاناچاہئے“۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی، فکری اور تہذیبی تصادم ہے۔ جس کا بظاہر کوئی حل نہیں۔ یا تو مسلمانوں کے ہاتھوں انسانیت کی ہزاروں سالہ ترقی اور ارتقا کے نتیجے میں حاصل ہونے والی تہذیب جدید کو برباد کروا دیاجائےیا مسلمانوں کی جارحانہ فطرت کو برقرار رکھا جائے۔
مسلمان سے یہ حلف لینا تو ‘انتہا پسندی‘ کے زمرے میں آتا ہے کہ وہ مغرب کا مستقل باسی ہونے سے پہلے سیکولر اقدار کی حما یت کا عہد کرے۔ لیکن یہ انتہا پسندی نہیں ہے کہ ایک مسلم فیملی یہاں سے جانے کے بعد جب اپنا بچہ اسکول میں داخل کرانے جائے۔ تو جا کر اسکول انتظامیہ کو کہے، کہ ہمارے بچے تو مخلوط ماحول میں نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ لڑکیوں لڑکوں کی کلاسیں جدا کی جائیں۔
پھر دوسرے دن جا کر مطالبہ کریں کہ ہمارے بچے تو یہ نصابی کتابیں تو نہیں پڑھ سکتے۔ اس میں تو سور اور غیر مسلم علامتوں کا ذکر ہے۔ پھر کہیں، کہ ہمارے بچے تو موسیقی اور ڈانس کی کلاس نہیں لیں گے۔ پھر کہیں گے، کہ ہمارے بچے تو اسکول کے ڈریس کوڈ پر نہیں چل سکتے۔۔۔پھر کہیں گے، کہ ہمارے بچوں نے نماز پڑھنی ہوتی ہے۔ اپنا ٹائم ٹیبل تبدیل کریں۔۔ اور اسکول میں مسجد کی جگہ مخصوص کی جائے۔۔ پھر کہیں اس محلےمیں مسجد بنائی جائے۔۔اور اس پر طاقت ور قسم کے کم از کم چار لاوڈ سپیکر لگائیں جائیں۔۔
پھر مدرسے کھولنے شروع ہوجائیں۔ مولوی، پیر، جہادی مبلغ سب پہنچنے شروع ہو جائیں۔۔ جب تھوڑی سی آبادی ہو جائے، تو نماز کے لئے کھڑے ہو کر سڑکوں کو بلاک کردیں۔ اس کے بعد نوجوانوں کے جتھے گھومنے لگیں، کہ اس علاقے میں شراب، پب خانے، سور فروختگی کو بند کیا جائے۔۔۔ گویا ‘مالک‘ باہر۔۔اور صحرا کا اونٹ یورپی خیمے کے اندر۔
سیکولرازم کا تقاضہ ہے مذہب کو ذاتی مسئلہ سمجھا جائے آپ اپنے گھر میں یا کسی مخصوص جگہ جا کر اپنی عبادت کر لیں نہ کہ سڑکوں، بازاروں یا پارلیمنٹ کے احاطوں میں نماز باجماعت کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔
♠
2 Comments