بنُیاد پرستوں کا رُومانس

یوسف صدیقی 

مدرسہ جامعہ دَارلعلوم دیوبند میں ایک قدیم پس منظر رکھے والے ’’انا ر‘‘ کے درخت کے سائے سے اُبھرنے والی ’’جدید بنیاد پرستی‘‘ کی قیادت اَب ماضی والاکمزور ’’ملاں‘‘ کے ہاتھ میں نہیں ہے ،بلکہ اَب مولویوں کی قیادت ٹیکنالوجی اُور دیگر وسائل پر قابض’ ملاں‘ کے ہاتھ میں ہے ۔جس کا مقابلہ دلیل اور وکیل سے کرنا ناممکن ہو رہا ہے ۔رشید گنگوہی ،مولوی قاسم نانوتوی اور مولوی حسین مدنی کی قدامت پرستی کے وارث اپنے روحانی مرشدوں سے زیادہ ’’متحرک‘‘ نظر آ رہے ہیں۔

دیوبندی مولویوں نے قیام پاکستان کی مخالفت تو کر دی تھی ۔اور اس کے بعد آج تک اس ریاست کو ’تسلیم ‘ نہیں کیا ۔لیکن پھر بھی دیوبندی(ملاں) ریاست سے فوائد لینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔دیوبندیوں کی ایک جماعت ’’مجلس احرارِ اسلام‘‘ کے ایک مولوی مظہر علی اظہر نے قائد اعظمؒ کو ’’کافر‘‘ قرار دے دیا تھا ۔افسوس کا مقام ہے کہ رجعت پسندوں کے اِتنے بڑے ’’جرم‘‘ کو پاکستانی ریاست نے معاف کر دیا ہے؟؟ ۔اُور ہمارے نصاب کی کتابوں میں اس کا ذکرہی نہیں کیا جا رہاکہ مولویوں نے قیامِ پاکستان کے وقت کیا کیا ’’بدزبانیاں‘‘ کی تھیں ۔

بنیاد پرست مولوی نے اپنے ’’رومانس ‘‘کی ابتدا سرسید احمد خا ن ؒ کے خلاف’’زبان درازی‘‘ سے شروع کر دی تھی ۔تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔اشرف علی تھانوی نے جس انداز میں ’’بہشتی زیور ‘‘ نامی کتاب لکھ کر لوگوں کے گھر کو مخصوص ’’اسلامیانے‘‘ کے عمل سے گزارنے کی کوشش کی، اِس طرح کے’’ تحرک‘‘ کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ دارلعلوم دیوبند کی تجلیاں ابھی بکھررہی تھیں کہ مولانا مودودی بھی میدان عمل میں آ گئے ۔اور الجہاد فی الاسلام نامی کتاب لکھ کر ’’نطشے‘‘ بننے کی کوشش شروع کر دی ۔مودودی کے زمانے میں مغرب کے ساتھ ساتھ سوویت یونین بھی ملاؤں کے حریفوں میں شامل تھا ۔

مولانامودودی نے خلافت و ملوکیت،تنقیحات،تفہیمات،احیائے دین اُور ’’پردہ‘‘ نامی کتابیں لکھ کر مغربی تہذب اُور سوویت یو نین کے خلاف اپنے قلمی جہاد کا آغاز کر دیا۔مودودی کا جہاد اس وقت تک جاری رہا جب تک پاکستان میں ’’جدیدیت ‘‘ اور تہذیب مغرب کو گناہ نہیں سمجھا جانے لگا ۔تبلیغی جماعت کے مولوی الیاس اُور مولوی ذکریا نے عوام کے اندر ’’چھ نمبروں‘‘ کا رُومانس پختہ کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔اُور یہ دونوں حضرات برصغیر کے طول و عرض میں لوگوں کو ’’رہبانیت‘‘کی مشقیں کروانے لگے ۔قیام پاکستان کے بعد تبلیغی جماعت نے لوگوں میں مخصوص اسلام کی چھاپ لگانے کے لیے دن رات ایک کر دیا ۔تبلیغی جماعت والوں کا یہ ’’کارِ خیر ‘‘اب بھی جاری ہے ۔

اسی طرح پاکستان کادوسرا بڑا عسکری مذہبی طبقہ ’’سلفی‘‘ طبقہ ہے۔جس کو وہابی بھی کہتے ہیں۔اس طبقے کی جڑیں بھی مولوی ثنا اللہ اور مولوی وحید الزمان کے ساتھ نتھی ہیں۔نواب صدیق حسن خان اور وحید الزمان کی کتابوں میں ’’سلفی اسلام‘‘ کی شان ملتی ہے ۔’’سلف صالحین‘‘ کے رومانس میں مبتلا غیر مقلد لوگ جہاد کو غیر معمولی اہمیت دینے لگے ۔اور ان کے شوق کی آبیاری کے لیے کئی میدان بھی مہیا کیے گئے ۔انہی میدانوں میں ’’ختم نبوت ‘‘ کے لیے مناظرے کا بھی ایک میدان تھا ۔مولوی ثنا اللہ امرتسری نے کئی لوگوں کو کافر قرار دیا ۔انہی نے شیعہ کو بھی کا فر قرار دیا ۔

علاوہ ازیں جدید بنیاد پرستوں کے سرخیل پروفیسر عبد اللہ بہاولپوری اور ابو بکر غزنوی نے بھی اپنے زمانہ عروج میں خوب فتوے دیے ۔پاکستان ایک فرقہ بریلوی ہے ۔جس کا سرخیل احمد رضا خان بریلوی تھا ۔احمد رضا کا تعلق انڈیا کے شہر بریلی سے تھا ۔دیوبندیوں اور اہلحدیثوں کے مقابلے میں بننے والا یہ فرقہ قدامت پرست نظریات کے ساتھ ساتھ تصوف کا بھی پُرچارک ہے ۔احمد رضا بریلوی کا ایک جماعتی ساتھی عبد العلیم صدیقی تھا ۔اس کا بیٹا احمد نورانی صدیقی پاکستانی ریاست کے بریلوی طبقے کا پسندیدہ ’’لیڈر‘‘ رہا ہے ۔احمد نوارانی 2002 میں لندن میں انتقال کر گیا ۔اس وقت وہ ایک رجعتی ملا ملٹری اتحاد ایم ایم اے کا صدر تھا ۔اس کی موت کے بعد ہی قاضی حسین احمد صدر بنا ۔احمد نورانی کافی دفعہ سینٹ اور قومی اسمبلی کا ممبر رہا ۔اس نے ایک سیاسی جماعت کی بھی بنیاد رکھی ۔پاکستان کے بریلوی فرقے کا سیاسی اظہار یہ ہی جماعت رہی ہے ۔

بریلویوں کا پس منظر بھی دیوبندی طبقے کی طرح ’’ فتوے بازی ‘‘ کے ارد گرد گھومتا ہے ۔اور ایک بات ان دونوں میں مشترک نہیں ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ ’’بریلوی ’’جہاد‘‘ کا شوقین نہیں ہے ۔کشمیر ،افغانستان،بوسنیا اور عراق کے اندر بریلوی نے کبھی جامِ شہادت نوش نہیں کیا ۔ اور اب پاکستان میں بریلوی طبقے پر کچھ عرصہ سے ’’تشدد‘‘ کے الزام بھی لگ رہے ہیں ۔پاکستانی دیوبندی ملاں حق نواز جھنگوی کی ’’سپاہ صحابہ‘‘ کے مقابلے میں بریلویوں کے ایک عسکری اتحاد ’’سنی تحریک ‘‘ نے کراچی میں اپنے مخالفین پر تشدد کرنے کا الزام ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کی شیعہ حکومت اس جماعت کو ’’خرچہ پانی ‘‘ دیتی ہے ۔تاہم ثروت اعجاز قادری کے روحانی پیشوا،اور سنی تحریک کے بانی مولوی سلیم قادری کے 90ء کے خطبات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کہ ’’سپاہ صحابہ‘‘ کے خلاف بننے والی یہ جماعت سیکولر حلقوں کے بھی خلاف ہے ۔

سنی تحریک بھی بنیاد پرستی سے اپنارومانس نہیں چھوڑ رہی ۔ممتاز قادری نے ایک سیکولر بزنس مین گورنرکو شہید کر کے بنیاد پرستی سے اپنے رومانس کی تجدید کی تو بریلوی طبقے نے اسے غازی علم دین کا رتبہ دینے کی کوشش کی ۔بنیاد پرست ’’ملاں‘‘ خواہ کسی بھی مسلک کا ہوں وہ اپنے رومانس کی تجدید کرتا رہتا ہے ۔اوروہ کبھی بھی سیکولرازم سے مصلحت نہیں کرتا ۔بنیاد پرستی کے علمبر دار جب سے میدان عمل میں آئے ہیں،ان کوکسی نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے کسی نے کبھی دلچسپی نہیں لی جس کی وجہ سے بنیاد پرستی کے علمبردار اب باہم ایک دوسرے فرقے سے دست و گریباں ہوچکے ہیں ۔

پاکستان میں اِس وقت مسلکوں کی لڑائی بہت شدت اختیار کرتی جار ہی ہے ۔’’مسلمان‘‘ کو ڈُھونڈنا مشکل ہو رہا ہے ۔کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو یہ بات کہے کہ میں ’’مسلم ‘‘ ہوں ،بلکہ ہر شخص اپنی نسبت کسی نہ کسی ’فرقے ‘ کے ساتھ جوڑ رہا ہے ۔وہابی ،دیوبندی ،بریلوی اورمماتی فرقے سر فہرست ہیں ۔اس کے علاوہ کئی قسم کے فرقے اپنی اپنی دعوت بڑی شدت سے پھیلا رہے ہیں۔پاکستان میں دیوبندی اور وہابی فرقے کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔دیوبندی اُور وہابی فرقوں کو جنرل ضیا الحق کے زمانے میں رِیاستی سرپرستی میں عروج بخشا گیا تھا ۔ڈالر جہاد میں شمولیت اختیار کرنے والے ملاؤں نے پاکستانی ریاست سے خوب پیسہ وصول کیا ۔

اسی دور میں دینی مدرسوں کی ریاست کی طرف سے مالی امداد کی جاتی ۔ پاکستان میں 60ء کے عشرے میں کمیونزم کا اِحیا شروع ہوا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان کے بائیں بازو کے کارکنوں کو بہت حوصلہ ملا۔ اُور وہ اپنی دعوت کوپھیلانے لگے ۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ زبانی یاد ہوا کر تا تھا ۔لوگ کارل مارکس اور ولادیمر لینن کی تصنیفات کا مطالعہ کرکے سیاسی اکھاڑے میں اُترا کر تے تھے ۔پرولتاریہ بین ا لاقومیت کا نظریہ ’’خلافت ‘‘ کے نظریے کو پیچھے چھوڑنے لگا تھا ۔ان حالات میں مذہبی جماعتوں کے ’’ملاں‘‘ سیخ پا ہو گئے ، یوم شوکت اسلام اُور ’’نظام مصطفی ‘‘ جیسی تحریک چلانے لگے ۔اِن کی اِس حرکت کے پیچھے ریاست کی ’’اِقلیتی غیرت بریگیڈ‘‘ تھی ۔

جب ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی تو بائیں بازو کے کارکن لوگوں کوضیائی آمریت کے خلاف بھڑکا رہے تھے ۔اِس چیز کو دیکھتے ہوئے جنرل ضیا الحق نے مذہبی فرقوں اُور لسانی قوتوں کی سرپرستی شروع کر دی تھی ۔اسی دور میں سرمایہ داروں نے بھی جنرل ضیا الحق کی ’’بیت‘‘ کرنا فرض عین سمجھا ۔میاں نواز شریف ’اِینٹی بھٹو گروپ‘‘ کے سربراہ بن کر ابھرے ۔بائیں بازو کے مزدوروں ،کارکنوں ،دِہکانوں اُور نوجوانوں کو اِنقلابی جدو جہد سے رُوکنے کے لیے ضیا الحق نے کئی’’ پینترے‘‘ بدلے ۔ افغانستان کے ڈالرجہاد میں سب سے زیادہ فائد ہ جماعت اسلامی اُور دیوبندی تحریکوں کو ہوا ۔مولوی سمیع الحق جہادیوں کا ’روحانی باپ‘‘ کہلاتا ہے ۔یہ آدمی سینٹ کا مسلسل ممبر بھی بنتا رہا ہے ۔یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان جہاد کے قائدین ملاؤں پر آج بھی ریاست کی ایک’’ اِقلیتی لابی‘‘ قدر کر رہی ہے ۔

اسی طرح حکمت یار جس کو کابل کا قصاب بھی کہا جاتاہے،اس وحشی درندے کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہے ۔کیونکہ جب حزب اسلامی افغانستان کا قیام عمل میں آیا تو اس کے دستور کی بنت کاری میں کئی شقیں جماعت اسلامی پاکستان کے دستور سے لی گئی تھیں۔دیوبندی فرقے کو دوام بخشنے والے ہم عناصر میں سے ایک اہم عنصر ’’مدارس‘‘ ہیں۔اسلامی ریاست میں مدارس کی تعداد کودوگنا ضیا الحق کے دور میں کیا گیا ۔ان مدارس میں پاکستان کے غریب اور خستہ حال لوگ اپنی اولادوں کو داخل کرادیتے ہیں۔انہی مدرسوں میں پھر دہشت گرد تیار ہوتے ہیں جو وزیر ستان اور افغانستان میں تباہی کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔

دینی مدارس میں اسلام کی غلط تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو متشدد بنے کے لیے ان کی ذِہن سازی کی جاتی ہے ۔دیوبندی مدرسوں میں طلبہ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ’’طاغوت‘‘ اِس وقت ساری دنیا میں اقتدار پر قابض ہے۔اُورطاغوتی طاقتوں کی موجودگی میں مشرقی اور اسلامی تہذیب کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ۔طاغوتی طاقتوں کو جہاد کے ذریعے ہی اقتدار و اختیار کے مناصب سے بے دخل کیا جا سکتا ہے ۔دیوبندی بنیاد پرستوں کے روحانی مرشد جہادی جدبے کے فروغ کے لیے بڑے بڑے جلسوں اور کانفرنسوں سے خطاب کر تے ہیں۔

بنیاد پرستوں کے جہاد کا ایک اہم محور پاکستان کے کچھ مذہبی فرقے ہیں۔احمدی اور شیعہ اس سلسلے میں دیوبندی بنیاد پرستوں کے ’’ہٹ لسٹ ‘‘ پر ہیں۔دیوبندی علماء اور مدرسوں کے مدیر باقاعدگی سے ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ اور ’’ردِ روافض‘‘ کے جلسوں کا اہتمام کر تے ہیں۔بنیاد پرستوں کا اس وقت اپنے مقاصد سے رومانس جاری ہے ۔ریاست بنیاد پرستوں کا ساتھ دے رہی ہے ۔چشتیاں میں جامعہ مظاہر العلوم نام کا ایک مدرسہ ہے ۔جو کہ انڈیا کے شہر سہارنپور میں ایک دیوبندی مولوی زکریا کے مدرسے کی نسبت سے اپنا نام ’’ مظاہر العلوم ‘‘ رکھتا ہے ۔اس مدرسے کے مدیر کا تعلق ایک سیاسی اور سرمایہ دارفیملی سے ہے ۔

قاری ضیا اللہ نے قبرستان کی جگہ پر قبضہ کر کے اپنے مدرسے اور رہائش گاہ کو تعمیر کر لیا ہے ۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بنیاد پرستوں کے مذہبی رومانس میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔یہ ایک معمولی سی مثال ہے ورنہ پاکستان میں بنیاد پرستوں کے رومانس کو ’’بڑھاوا‘‘ دِینے کے لیے ریاست ہمہ تن خدمت کے لیے تیار رہتی ہے۔قربانی کی کھالوں پر کتوں کی طرح لڑنے کا رواج بہت پرانا ہے ۔تاہم دینی مدرسے آج اکیسویں صدی میں بھی قربانی کی کھالوں پر اپنی ملکیت اور حق ثابت کر نے کے لیے طرح طرح کے ’’حیلے‘‘ اختیار کر تے ہیں۔

بنیاد پرستی،مذہبی ا نتہاپسندی ،دہشت گردی ،عسکریت پسندی اور شدت پسندی میں ایندھن فراہم کرنے والے ہمارے ’’ ملاں ‘‘ نہ صرف امن کے دشمن ہیں بلکہ انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں ان سے جان چھڑانے لیے ہم سب کو متحد ہوکرجد و جہد کرنا ہو گی ۔بنیاد پرستوں کے رومانس سے بہت تباہی پھیل چکی ہے ۔اب ہمیں ا ن کو مزید آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے !!۔

12 Comments