نریندر مودی کا عمران خان کو پیغام

رحمان بونیری

ہندوستان کے وزیراعظم نریندرا مودی نے عمران خان کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ “اگر سچے پٹھان ہوں تو اپنا وعدہ پورا کرو” مودی کو شاید پشتونوں کے بارے میں اتنا ہی علم ہے کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں سے پھرتے نہیں ہیں( ممکن ہے مودی نے فلم خدا گواہ دیکھ رکھی ہو) مگر لگتا کہ مودی کو نہیں معلوم کہ عمران خان کی ایک وجہ شہر ت یو ٹرن لینا بھی ہے۔

پلوامہ کے خونریز حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں نے ایک جانب ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دے رکھی ہیں تو دوسری جانب انکے بیانات میں سیاسی اور سفارتی چالیں بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کے بعد اپنے ملک کے دفاع اور حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب کے دھمکی کے ساتھ دو دفعہ ہندوستان کو پیشکش کی ہے کہ اگر انکو ثبوت فراہم کئے جائے تو تحقیقات اور کارروائی کرنے کو تیار ہے۔

جبکہ دوسری جانب ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے راجھستان میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد کیلئے فون کرکے یہ بھی درخواست کی تھی کہ بہت ہوگئیں جنگیں آوجہالت اور غربت کے خلاف ملکرلڑتے ہیں۔

مودی کے مطابق عمران خان نے ان سے وعدہ کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ وہ پٹھان کا بچہ ہے اسلئے صرف سچ بولتا ہے اور اپنی بات کبھی نہیں بھولتا۔وزیراعظم مودی نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب حساب کتاب کا وقت آگیا ہے، انکے مطابق اب پاکستان کا “دانہ پانی بند کیا جائیگا”۔

انہوں نے کہا کہ انڈین فوج کو مکمل اختیار دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردی کو جنم دینے والی فیکٹریوں کو بند کیا جاسکے، مودی کے مطابق شاید یہ کارنامہ سرانجام دینا انکی قسمت میں لکھا گیا ہے۔
ہر چند کہ مودی نے پاکستان کو کھل کر دھمکیاں دیں مگر ساتھ ساتھ عمران خان کو انکا وعدہ بھی یاد دلایا کہ اگر واقعی پٹھان کا بچہ ہے تو اپنے وعدے کا مان رکھ لے۔

مودی نے شاید پشتونوں کی وفاداری کی کہانی فلم خدا گواہ میں دیکھ رکھی ہوں یا ممکن ہےکسی نے انکو بتایا ہو کہ پشتون اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں مگر شاید انکو یہ نہیں معلوم کہ جنابِ عمران خان ایک وجہ شہرت وعدہ سے پھرنا یا یوٹرن لینا بھی ہے۔

دسمبر 2018 کو پاکستان کے انگریزی روزنامہ پاکستان ٹو ڈے نے عمران خان کے وعدوں سے پھرنے کی ایک لمبی فہرست شائع کرتے ہوئے لکھا تھا کہ عمران خان کو انکے سیاسی مخالفین یو ٹرن خان کے نام سے پکارتے ہیں۔

عمران خان نے جواب دیتے ہوئے جو نظریہ پیش کیا تھا اسکے مطابق بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو حالات کے مطابق خود کو بدلنا جانتا ہو۔

پاکستان اور ہندوستان کے مابین ماضی میں بھی تناؤ کی صورتحال رہی ہیں اور لڑائیاں ہوتی رہی ہیں مگر اس بار جنگ کی تیاریوں اور غیر معمولی حالات کے باجود لگتا ہے کہ اقتصادی بھنور میں پھنسا عمران خان اور ہندوستاں کو ایشیا میں اقتصادی چیمپین بنانے کا خواب دیکھنے والا مودی جنگ سے بچنا پسند کرینگے جبھی تو مودی نے عمران خان کو وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے پر دان منتری سچے پٹھان ہے تو انکو اپنے شبدوں کو کسوٹی پر کسنے کی ضرورت ہے۔
رحمان بونیری، سینئر صحافی ہیں اور واشنگٹن میں کام کر رہے ہیں

@rahmanbunairee

Comments are closed.