معروف مارکسی دانشور، عظیم سوشلسٹ، سی آر اسلم


عمر فاروقی

معروف مارکسی دانشور، بائیں بازو کے عظیم انقلابی اور پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے بانی سی آر اسلم کی شخصیت کا تصو ر علم کے ایسے گھنے سایہ دار درخت جیسا ہے جس کی چھاؤں انقلابیوں کی ایک پوری نسل نے فکری اور شعوری آسودگی حاصل کی۔مارکسی فلسفہ پر ان کا عبور،علمیت اور کردار وعمل اپنے ہم عصر دیگر تمام مارکسی اساتذہ سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ بیک وقت مارکسی دانشور اور انقلابی کارکن تھے۔ سی آر اسلم برصغیر پاک و ہند کی مارکسی تحریک کے ان بڑے رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے خطہ میں سامراج کی بالادستی کی مزاحمت کیلئے سوشلسٹ تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مارکسی تحریک کے دوبڑے رجحانات یعنی پیکنگ نواز اور ماسکونواز کے درمیان واضح نقطہ نظر رکھتے ہوئے اس وقت سوویت یونین کے طرز عمل کو بہتر قرار دیا ، وہ چاہتے تھے کہ محنت کش طبقہ ملک کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے انقلابی بنیادوں پر ایک ایسی انقلابی طبقاتی سیاسی جماعت تشکیل دے جو ملک کے مزدوروں، کسانوں اور کچلے ہوئے طبقات کی نمائندہ پارٹی ہو۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد انہوں نے مارکسی شعور سے لیس کارکنوں کو ساتھ لیتے ہوئے پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نصب العین ملک میں مزدور طبقہ کی قیادت میں سوشلسٹ انقلاب تھا۔ پاکستان سوشلسٹ پارٹی نے سی آر اسلم کی قیادت میں مزدوروں، کسانوں اور طالب علموں کو منظم کرنے کے لئے پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، کسان کمیٹی اور سوشلسٹ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آرگنائزیشن جیسی نظریاتی تنظیموں کی بنیادیں مضبوط کیں۔

دیہاتی پس منظر میں پلے بڑھے جناب سی آر اسلم 1909ء میں ایک عام کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے منشی فاضل کیا اور 1936ء میں لاء کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ ملٹری اکاؤنٹس میں بھی نوکری کی مگر اسی دوران کمیونسٹ رہنما کامریڈ ھزارہ سنگھ کے صحبت میں مارکسی نظریے سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد نوکری کو خیر باد کہتے ہوئے انقلابی سیاست کو ہمیشہ کے لئے اپنالیا۔ انہوں نے مارکسی فلسفے کو سمجھنے کے لئے معاشیات میں ماسڑ کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عظیم انقلابی اے گوش اور دادا فیروزالدین منصور لاہور میں مقیم تھے۔ یوں اس عرصے میں سی آر اسلم ان عظیم شخصیات کے ساتھ مل کر پارٹی کو منظم کرتے رہے وہ پارٹی کی اسٹوڈنٹس ونگ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کے صدر رہے بعد ازاں انہوں نے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

سنہ 1948ء میں کلکتہ میں منعقد ہونے والی آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی کی دوسری کانگرس میں پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی منظم کرنے کا فیصلہ کیاگیا تو سی آر اسلم، سوبھوگیان چندانی، محمد حسین عطا، جماالدین بخاری، مرزاابراہیم، سید سبط حسن، افضل خان، ایرک سپرین، دادا فیروز الدین منصور سینٹرل کمیٹی کے رکن اور سجاد ظہیر سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔

سی آر اسلم زندگی میں کئی بار پابند سلاسل ہوئے وہ 1948،1950میں نام نہاد راولپنڈی کیس، 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے موقع پر اور پھر ضیاء الحق کے مارشل لاء میں گرفتار کئے گئے۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد ہونے کے بعد عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی میں بھی کام کیا۔انہوں نے فیض احمد فیض، مرزا ابراہیم، وی وی گری جو بعد میں انڈیا کے صدر بھی بنے کے ساتھ ملکر ریلوے کے مزدوروں کو منظم کیا۔ پاکستان کے ایک بڑے اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے حوالے سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ اس اخبا رکا ڈیکلئریشن جناب سی آر اسلم کے نام سے تھا اور وہ اس اخبار کے پبلشر تھے۔

سی آر اسلم نے سیاسی، معاشی اور سماجی موضوعات پر مارکسی نقطہ نظر سے معرکہ آراء تحریریں لکھیں جو گاہے بگاہے عوامی جمہوریت اور دیگر نظریاتی رسالوں میں شائع ہوتی رہیں ۔ ان کی ایک کتاب’’تاریخ اور جدلی مادیت‘‘ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ پاکستان کے ہزاروں انقلابیوں نے سی آر اسلم کی زیر قیادت پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے قیام اور ان کی زیر قیادت کام کرتے انقلابی شعور کی منزلیں طے کیں اور سماج میں پھیلے ہوئے فرسودہ خیالات کے خلاف انقلابی خیالات کا نعرہ بپا کرتے رہے۔ تنظیم کاری کا سبق حاصل کیا، محنت کش طبقے کی طاقت کا ادراک کیا اور بورژوا پارٹیوں کی سحرانگیزیوں سے نکلنے کا روشن راستہ پایا۔

پاکستان میں ہزاروں مارکسی کامریڈوں اور بائیں بازو کے انقلابی کارکنوںکو فخرہے کہ انہوں نے سی آر اسلم جیسے عظیم مارکسی استاد سے بہت کچھ سیکھا اور ان کے ساتھ علمی، فکری ، شعوری اور سیاسی رہنمائی کیلئے ان کا طالب علمی کا تعلق رہا ۔ سوشل ڈیموکریٹک فورم کے روح رواں راجہ ولایت خان کہتے ہیں ’’ آج ہمارے لیجنڈ کمیونسٹ اور سوشلسٹ رہنما سی آر اسلم کی 14 ویں برسی ہے۔ انہوں نے 10 جولائی 2007 کو ہمیں چھوڑا۔ ان کے وژن اور تعلیمات کو رہنما اصول رہیں گے۔ ان کے خیالات آج بھی ہمارے موجودہ سیاسی اور معاشی منظرنامے سے متعلق ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک فورم ا ن کے ویژن کی میراث ہے۔

Comments are closed.