گلگت بلتستان کے علاقوں کی بندر بانٹ

13767348_10208177711053468_2656519165861739623_o (2) (1)

علی احمد جان

گلگت بلتستان کہاں ہے اور کیا ہے اس سوال کا جواب اگر پاکستان میں عام لوگوں سے پوچھا جاتا ہے تو اس کے کئی جوابات مل جاتے ہیں۔ کوئی اس کو پاکستان کا ایک صوبہ سمجھتا ہے تو کوئی اس کو خیبر پختون خواہ کا حصہ تو کوئی اس کو آزاد کشمیر کا۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف اس علاقے سے متعلق پھیلائی جانے والی وہ کنفیوژن ہے جو بظاہر بڑی ارادی معلوم ہوتی ہے ۔ جب ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں “کے ۔ ٹو کا پاکستان”اور پھر کہتے ہیں کہ بلتستان پاکستان میں شامل ہی نہیں جہاں کے ٹو کا پہاڑ ہے تو ہمارے بچے ایسے ہی جوابات دیں گے اور کنفیوز رہیں گے ۔

جغرافیائی لحاظ سے گلگت بلتستان کی سرحدیں کشمیر، چین، افغانستان،ا ہندوستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں اور قطبین کے بعد سب سے بڑے برف کا ذخیرہ بھی ادھر ہی پایا جاتاہے۔ دنیا کی آٹھ ہزار میٹر بلند چودہ میں سے پانچ چوٹیاں یہاں پر ہیں اور اس سے کم اونچائی کے یہاں پر موجود پہاڑوں کا حساب لگانا ہی مشکل ہے۔ پاکستان کو سیراب کرنے والا دریا اور ہزاروں سالوں سے اس خطے کی تہذیب و تمدن کا پالن ہار دریاۓ سندھ بھی یہی سے ہی گزر کر جاتاہے۔ پاکستان کےچین سے تجارتی روابط کا دارومدار بھی اسی خطے پر منحصر ہے۔

گلگت بلتستان کا تعلق پاکستان سے ایسا نہیں جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں ۔ یہ علاقہ پاکستان اور ہندوستان سے انگریزوں کے جانے تک ریاست جموں وکشمیر کی عمل داری میں تھا کیونکہ جموں وکشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں نے انگریزوں کیساتھ مل کر یہاں قتل عام کے بعد اس پر زبردستی قبضہ کیا ہوا تھا اور پھر انگریزوں نے اس کو ایک معاہدے کے تحت اپنی عملداری میں لیا ہوا تھا۔

یہاں کے لوگوں کو انگریزوں کی عملداری میں آنے سے قبل کشمیری ڈوگروں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والے مظالم یاد تھے جس میں یاسین میں تمام مردوں کا قتل عام اور عورتوں اور بچوں کا مال غنیمت میں لے جانا اور ان کی آپس میں تقسیم جس کے منظر عام پر لانے کی پاداش میں سر جارج ھایٔیورڈ کا قتل کشمیری ڈوگروں کی اس بربریت کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔ نگر نلت کی جنگ میں انگریز فوج کے نقصان کا اندازہ اس بات پر لگایاجا سکتا ہے کہ تین اعلیٰ ترین فوجی اعزازات(وکٹوریہ کراس) اس لڑائی میں شریک برطانوی فوج کو ملے تھے۔

سنہ ۱۹۴۷ میں جیسے ہی انگریز اپنا معاہدہ ختم کرکے چلے گیٔے اور علاقے کی بھاگ ڈور دوبارہ کشمیری ڈوگروں کے حوالے کردی تو یہاں کے مقامی باشندوں نے ایک کامیاب فوجی بغاوت کے بعد اپنے علاقے کا کنٹرول یکم نومبر ۱۹۴۷ کو مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان سے مبینہ الحاق کے چار دن بعد ہی دوبارہ حاصل کرلیا۔ اس کنٹرول کو حاصل کرنے کےلیے کی گئی جدوجہد کی داستان کومضمون کے طوالت کے پیش نظر کسی اور دن کےلیٔے اٹھا رکھتے ہیں۔

اس خطے کا کنٹرول حاصل کرنے کے فوراً بعد ایک عبوری انقلابی حکومت تشکیل دی گئی اور اس علاقے کے مقامی راجوں کی طرف سے اپنے ہمساۓ میں وجود میں آنے والی ریاست پاکستان کے بانیان اور حکمرانوں کو ایک خط لکھا گیا کہ وہ اس علاقے میں حاصل کی گئی آزادی کو برقرار رکھنے میں ان کی مدد کریں۔ جواباً ایک تحصیلدار کی بحیثیت پولیٹیکل ایجنٹ آمد ہوئی اور پاکستان سے الحاق کی دستاوزات پر کسی قسم کا جواب تاحال وصول نہ ہوا۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے قبضے پر ایک جنگ اور اس کے بعد اقوام متحدہ میں دونوں حریف ممالک ہندوستان اور پاکستان نے پندرہ اگست ۱۹۴۷ سے قبل جموں و کشمیر کے زیر اثر و کنٹرول پورے خطے کو متنازع تسلیم کرتے ہوئے استصواب راۓ تک اپنے اپنے کنٹرول میں رکھنے پر متفق ہوگئے۔ دوسال بعد اٹھائیس اپریل ۱۹۴۹ کو کراچی میں حکومت آزاد کشمیر کے صدر اور پاکستان کے ایک وزیر کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت گلگت بلتستان کا کنٹرول آزاد جموں و کشمیر نے گلگت بلتستان کے کسی نمایٔندے یا فرد سے بغیر مشاورت کے حکومت پاکستان کے حوالے کیا جو تا حال جاری ہے۔

حکومت پاکستان بغیر کسی بڑی انتظامی تبدیلی کے اس خطے کو چلاتی رہی اور ذوالفقار علی بھٹونے ۱۹۷۲ میں یہاں راجگی نظام اور فرنٹیر کرایٔم ریگولیشن(ایف سی آر) کو ختم کرکے آفسر شاہی کے ماتحت ایک منتخب مشاورتی کونسل کی تشکیل کر دی ۔ یہ مشاورتی کونسل مختلف مراحل سے گزر کر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی بن گئی اور ۲۰۰۹ میں ایک صدارتی انتظامی حکم نامے کے تحت یہاں صوبائی طرز کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ وجود میں لایا گیا جو پاکستان کے آئین ا ور دستور سے باہر ہے۔

اس دوران ریاست جموں و کشمیر کا ایک قانون ( سٹیٹ سبجیکٹ رول) جس کے تحت یہاں کے باشندوں کو بھی حق باشندگی کا تحفظ حاصل تھا یک طرفہ طور پر بغیر کسی مشاورت کے ختم کیا گیا اور غیر مقامی افراد کو یہاں زمینیں خریدنے اور شہریت اختیا ر کرنے کا حق دیا گیا جس سے وسیع پیمانے پر مقامی آبادی کی حق تلفی ہو تی رہی ہے جو ہنوز جاری ہے۔ اس قانون کے خاتمے کے خلاف مقامی لوگ آج بھی صداۓ احتجاج بلند کر رہے ہیں مگر کویٔ شنوائی نہیں ہوررہی ہے۔

اس دوران حکومت پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین سے شاہراہ ریشم کی تعمیر سےقبل سرحدات کے از سر نو تعین کے لیٔے ایک عبوری معاہدہ بھی کیا جس کے تحت اس خطے کے شمال میں ایک بڑا علاقہ چین کے سپرد کیا گیا۔ اس معاہدے میں اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان تنازع کشمیر کا فریق ہے اور اس تنازع کے حل ہونے کے بعد اس معاہدے کا از سر نو جایٔزہ لیا جاییٔگا اور سرحدات کا تعین بھی از سر نوع ہوگا۔ مگر اس معاہدے کے نتیجے میں اس خطے کا اپنے ہمساۓ تاجکستان سے زمینی رابطہ ٹوٹ گیا جس سے سرحد کے دونوں طرف بسنے والے خاندان مستقل طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے ہمساۓ خیبر پختونخوا جس کو انگریز سرکار نے روس کے خوف سے پہلے ہی گلگت بلتستان کا علاقہ چترال دے دیا تھا اور اب کوہستان پر اس کا غیر اخلاقی اور اور غیر آئینی قبضہ جاری ہے اس پر مستزاد یہ کہ حالیہ برسوں میں اس صوبے کی طرف سے اپنے زیر قبضہ کوہستان کے ذریعے گلگت بلتستان کی جغرافیائی حدود میں مزید دراندازی کی گئی ہے۔ یہ دراندازی دیامر بھاشا کے علاقے میں ایک سرحد کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں خون خرابہ کرکے کی گئی۔

چونکہ دیامر بھاشا ڈیم کلی طور پر گلگت بلتستان کے حدود میں تعمیر ہورہا ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی قانونی طور پر یہاں کے لوگوں کا حق ہے مگر پاکستان کی حکومت اپنے بناۓ ایک قانون کے تحت بجلی پیدا کرنے والے یونٹ کے مقام اور اس کی ملکیت پر بجلی کے پیداوار میں حاصل آمدنی میں حصے کا تعین کرتی ہے اس لیٔے گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس حق سے محروم رکھنے کے لیٔے دریا کی دوسری طرف کی زمین پر کوہستان کے ذریعے حق جتا یا جارہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کوہستان خود کسی طور پر پختونوں اور افغانوں کا حصہ نہ ہونے کے باوجود مقبوضہ ہے اس ناجائز قبضے کے نتیجے میں یہ دراندازی ہو رہی ہے۔

دوسری طرف چترال اور غذر کے بیچ میں شندور کے میدان پر چترال سکاؤٹ کے ذریعے سے قبضہ جاری ہے۔ یہ قبضہ بھی چترال کے نا م پر کیا جارہا ہے جو خود فطری طور پر گلگت بلتستان کا حصہ ہے ۔ شندور میں مقامی لوگ دونوں جانب سے صدیوں سے ایک طریقہ کار کے تحت یہاں سے مستفید ہو رہے تھے ایسے میں سالانہ ایک میلے کے انعقاد اور اس کی آمدنی کی حصہ داری کے لیٔے چترال سکاؤٹس نے یہاں پر قبضہ شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔

نہ صرف شندور پر سرکاری قبضہ جاری ہے بلکہ یہاں سے ملنے والے سرحدی علاقوں پر سوات کے مسلح جتھوں کے ذریعے قبضہ کرایا جارہا ہے۔ چونکہ ان علاقوں کے تاریخی طور پر مالک مقامی لوگ انتہائی شریف النفس اور غیر مسلح ہیں اور وہ سرکار کے حمایت یافتہ اور طالبان کے تربیت یافتہ مسلح جتھوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں اس لیے ان کو دیوار کیساتھ لگایا گیا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان کی سرحدیں اس خطے کے تنازع کے حل تک حکومت پاکستان کے پاس بطور امانت ہیں جس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا اپنے وعدے کے مطابق بطور فریق ریاست کےصرف نہ وہ خود پابند ہے بلکہ اپنے شہریوں کو بھی خلاف ورزی سے روکنے کی پابند ہے ۔

جب ہندوستان نے اپنے زیر تسلط جموں و کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کی کوشش کی تو بطور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ میں احتجاجاً حکومت پاکستان کا موقف پیش کیا جس کے تحت کشمیر کے تنازعہ کے آخری حل تک کسی بھی فریق کو متنازع خطے یا اس کے کسی حصے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

حکومت پاکستان کی یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے موقف کی خود پاسداری کرے اور گلگت بلتستان کے حدود اور اس کی سرزمین میں ارادی اور غیر ارادی دراندازی، قبضے اور حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات کو روکے اور لوگوں کو اقوام متحدہ کے قرار دادوں کے مطابق سیاسی اور دیگر بنیادی حقوْق کی فراہمی کو یقینی بناۓ ۔

اگر اس خطے میں دراندازیوں اور جبری قبضے کا سلسلہ نہ رکا تو ایک طرف پاکستان اقوام عالم کی نظروں میں اپنی اخلاقی برتری کھودے دےگا اور اس تنازعہ کے حل کے لیٔے درکار حمایت سے محروم ہو جائے گا تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام کے اعتماد کو دھچکا لگے گا ۔

ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوۓ گلگت بلتستان کے سرحدی خلاف ورزیوں کو مذاق نہ سمجھا جاۓ کیونکہ ان سرحدوں کی حفاظت حکومت پاکستان پر ایک بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہے۔

8 Comments