کابل یونیورسٹی حملہ اور غیریقین بین الافغان ڈائیلاگ

محمدحسین ہنرمل

کابل کو ایک مرتبہ پھر نام شدت پسندوں نے خون آلود کردیا۔رواں سال مئی میں اس شہر میں نومولود بچوں کے ایک اسپتال کودہشت گردوں نے نشانہ بناکر درجنوں ننھے پھولوں کو روند ڈالااور اب کی بارانسانی لہوپرپلنے والوں نے اس ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں خون کی ہولی کھیل کر دم لیا۔کابل یونیورسٹی میں پیر کو تین داعشی جنگجووں نے گھس کر پانچ گھنٹوں تک طلبا اور طالبات کو یر غمال بنائے رکھا اور شام تک اٹھارہ طلبا وطالبات بشمول چار دیگر افرادکو شہید اورستائیس کو گھائل کردیا گیا،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

داعش یا دولت اسلامیہ العراق والشام نے پچھلے پانچ سالوں سے افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں، ننگرہار، فراح، لوگر، ہلمند اورزابل میں اس خونخوار تنظیم کے اصل چراہ گاہیں ہیں جہاں سے یہ معصوم افغانوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔بنیادی سوال اب یہ ہے کہ کیا افغانستان کا قضیہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جارہا ہے؟ مجھے اس سوال کا جواب بدقسمتی سے اثبات میں ہے مل رہاہے کیونکہ اس جنگ زدہ ملک کے اسٹیک ہولڈرز(طالبان اور افغان حکومت) اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔

قطرکے دارالحکومت دوحہ میں اٹھائیس فروری کوافغان طالبان اور امریکہ کے بیچ امن مذاکرات ہوئے جس میں طالبان نے افغان سرزمین کو امریکہ کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی اور جواب میں امریکہ نے اپنی افواج افغان وطن سے نکالنے کی حامی بھری تھی۔اول تو امریکہ نے ان مذاکرات کے دوران سب سے بڑی عیاری یہ کی کہ اس نے اشرف غنی حکومت کو آن بورڈ لینے سے احتراز کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان حکومت نے اس عمل سے لاتعلق رہنے کااعلان کیا اور پہلے دن سے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کرکے امریکہ کو یہ بتادیا کہ وہ اس پروسس میں انہی کی رویے وجہ سے نالاں ہیں۔

افغان حکام کے اس بیان کے نتیجے میں طالبان نے سات روزہ سیز فائر کو ختم کرکے ملک میں دوبارہ اپنے حملوں کو بحال کردیا۔قیدیوں کے تبادلے پر ڈیڈ لاک لگ بھگ آٹھ مہینوں تک برقرار رہا اور بالآخر دونوں اطراف سے بے شمار جانی نقصانات کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے قیدیوں کورہاکردیا۔

اب پچھلے ڈیڑھ ماہ سے قطرافغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا عمل توجاری ہے لیکن سردست اس کا خاطر خواہ نتیجہ نکل نہیں پارہا۔ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کیسے اور کس طرح کامیاب ہونگے جب فریقین دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر انتہائی حدتک بداعتماد ہیں اور ہر حملے کے بعد فی الفور ہر ایک کو مخالف کا ہاتھ نظرآتاہے۔ دوحہ معاہدے میں تو طالبان نے امریکہ پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیاتھا تاہم افغان فوج اور حکومت کے خلاف طالبان کے حملوںمزید شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔

گذشتہ ماہ کی 21 تاریخ کو افغانستان کے شمال میں صوبہ تخار میں طالبان کے ایک حملے میں کم از کم 34 افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ صوبہ ہلمند اور قندھار میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے سینکڑوں گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ طالبان اپنے اصل دشمن اور فساد کی جڑ امریکی فورسز پر مزید حملے نہ کرنے سے برملا طور پر اعلان کرچکے ہیں اور اپنے کلمہ گو افغانوں پر تابڑ توڑ حملے کرنے پر مصر ہیں۔ بین الافغان مذاکرات تو اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب طالبان مکمل طور پر سیز فائر کرکے افغان حکومت کا اعتماد بحال کرے۔

طالبان کا سیز فائر نہ کرنے پر مسلسل اصرار کا نتیجہ اب یہ نکل رہاہے کہ افغان حکومت کو ہر اس حملے کے پیچھے بھی طالبان کا ہاتھ نظرآتاہے جس کی ذمہ داری ببانگ دہل داعش قبول کرتی ہے۔ مثلاًرواں برس بارہ مئی کو کابل میں ایک زچہ بچہ اسپتال پرحملہ ہواجس میں 24 خواتین سمیت نومود بچے بھی شہید ہوئے تھے۔طالبان نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی لیکن اس کے باوجود طالبان ہی کو حملے کا ذمہ دار قرار دیاگیا۔

پیر دو نومبر کو کابل یونیورسٹی میں فائرنگ حملے سے بھی طالبان نے سختی سے لاتعلقی کا اظہار کیاتھااور حملے کے چند گھنٹے بعد دولتِ اسلامیہ(داعش) نے ٹیلی گرام نامی ایپ پر ایک بیان میں کھلے الفاظ میں حملے کی ذمہ داری قبولی کرلی لیکن حکومت کے نمائندوں نے اس کے باوجود بھی طالبان کو اس میں ملوث قرار دیا۔اسی طرح اگست 2018 میں جب کابل میں ایک ٹیوشن سینٹر پر حملہ ہوا تھا جس میں آٹھ افراد شہید ہوئے تھے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔داعش ہی نے نے گذشتہ ماہ ایک تعلیمی مرکز کے باہر حملہ کی ذمہ داری اپنے سرلی تھی اور داعش ہی نے پچھلے سال کابل میں شیعہ رہنما عبدالعلی مزاری کی یاد میں ہونے والی تقریب میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔

رواںسال چھ مارچ کو اعلیٰ افغان سیاستدانوں کی ایک تقریب کے دوران فائرنگ سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی اور طالبان نے ان سب حملوں سے خودکو لاتعلق قرار دیاتھا لیکن افغان حکومت بدستور طالبان ہی کو ذمہ دار قرار دیتی رہی ۔دوسری طرف اس نوعیت کے بھیانک حملوں کے بعد جب افغان حکومت طالبان کو ذمہ دار ٹھہرتی ہے تو جواب میں طالبان حکومت کو ملوث قراردے کراسے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش قراردیتے ہیں۔مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کابل اور دوسرے علاقوں میں روز ہونے والے حملوں میں ملوث نہیں رہے ہیں لیکن بتانا یہ مقصود ہے کہ جس حملے کی ذمہ داری داعش اپنے سر لیتی ہے اور طالبان اس سے برات کا اعلان کرتے ہیں تو بغیرکسی ٹھوس شواہد کے انہیں کیونکرذمہ دار قراردیاجاتاہے ؟

اسی طرح داعشی حملوں کے پیچھے طالبان کو بغیر ثبوت کے کیوں افغان حکومت کا ہاتھ نظرآتا ہے؟بین الافغان مذاکرات کو اگر افغانستان کے یہ اصل اسٹیک ہولڈرز اگر حقیقی معنوں میں کامیا ب کروانا چاہتاہے تو سب سے پہلے انہیں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنا ہوگا۔ اور اعتماد کی فضا تب قائم ہوسکتی ہے جب طالبان مکمل سیزفائر کرکے مذاکرات کوسنجیدگی سے جوائن کریں ۔اسی حساب سے افغان حکومت کو ہراس حملے میں طالبان کا ہاتھ ڈھونڈنا نہیں چاہیے جس کا اسے خود عین القین ہوتاہے کہ حملے میں داعش ملوث ہے ۔ اس طرح کی فضا جب بن جائے تو مجھے یقین ہے کہ افغانوں کے بیچ یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں گے ورنہ خدانہ کر ے اس بدقسمت ملک سے باقی ماندہ امن کا جنازہ بھی نکل جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *