امریکی صدر کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار

محمد شعیب عادل

ایک نرگسیت زدہ شخص کے لیے اپنی شکست تسلیم کرنا بہت مشکل ہے۔ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر اور عزیز انھیں سمجھا رہے ہیں کہ شکست تسلیم کر لیں لیکن وہ تیار نہیں۔ شاید یہ امریکی الیکشن کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہورہا ہے۔ بنیادی طور پر صدر ٹرمپ فاشسٹ رویوں کے مالک ہیں انھیں جمہوریت پہلے دن سے ہی نا پسند تھی۔ وہ ہر صورت اپنے بات منواتے تھے۔ ان کی رائے سے اگر ان کا کوئی قریبی دوست یا مشیر بھی اختلاف کرتا تھا تو وہ فوری طور پر اسے معطل کردیتے تھے۔ ان کی صدارت کے پہلے سال انھوں نے اپنے ہی تعینات کردہ کئی مشیر اور وزیر فارغ کیے جو کہ امریکی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوئے۔

امریکہ اگر آج ایک سپر پاور ہے تو وہ اس کا آئین اور پہلی ترمیم آزادی اظہار رائے ہے۔صدر ٹرمپ کواس وقت آئین بھی برا لگتا تھا جب وہ انہیں کسی کام سے روکتا تھا۔ وہ آزادی اظہار رائے کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اگر کوئی ان کی شخصیت یا کاروباری ادارے کے متعلق کچھ لکھتا تو اسے فیک نیوز قرار دے دیتے تھے۔ انھوں نے وائیٹ ہاوس میں ان صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگائی جو ان سے سخت سوال کرتے تھے۔اگر کوئی ان سے انکم ٹیکس کی ادائیگی کے متعلق پوچھتا تو کہتے میں ملین اینڈ ملینز ٹیکس دیتا ہوں ۔ اور ان کے عقیدت مند سر دھنتے تھے۔

وہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے بات بھی نہیں کرنا چاہتے تھے کئی دفعہ ان کے مشیروں نے کہا کہ مختلف ایشوز پر ان کے ساتھ میٹنگ کرلیں اور جب بادل نخواستہ کی بھی تو کہا کہ میرا یہ پلان ہے اگر آپ کو منظور ہے تو درست وگرنہ سلاما لیکم۔ اور یہ میٹنگ شروع ہونے کے دس منٹ بعد ہی ختم ہوجاتی تھی۔ ایک دفعہ وائیٹ ہاؤس نے سپیکر نینسی پلوسی کو مذاکرات کے لیے بلوایا تو تو کافی انتظار کے بعد انہیں بتایا گیا کہ صدر نے ملاقات کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اپنے مخالفوں کی تذلیل پر خوش ہوتے تھے۔

انہوں نے سفید فام نسل پرست گروہوں کی حوصلہ افزائی کی۔ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحا ل پر اگر کسی ریاست کے گورنر نے اختلاف بھی کیا اس کو اپنا مخالف بنا لیا۔ان کی نرگسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی یا اداکار نے ان پر تنقید کی ہے تو ٹوئٹر پر اس کے پیچھے پڑجاتے تھے حالانکہ یہ ان کا مقام نہیں تھا۔ امریکہ کا ہر صدر اپنے پر ہونے والی تنقید کو برداشت کرتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ نے بھی بھاری تعداد میں ووٹ لیے ہیں۔ کچھ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ ہار گئے ہیں بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ میرا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔۔۔ اور وہ اپنے ووٹرز اور پارٹی کے لیے 2024 میں دوبارہ الیکشن لڑنے کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

ایسے ووٹرز کے لیے یہ بیانیہ قابل قبول ہے کیونکہ ان کے کئی حامی ان پر اندھا اعتقاد رکھتے ہیں۔ جیسے کرونا وائرس کے شروع کے دنوں میں انھوں نے ایک ملیریا کی دوائی تجویز کر دی کہ اس کے استعمال سے کرونا نہیں ہوگا۔ حالانکہ ڈاکٹرز اور سائنسدانوں نے کہا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر ٹرمپ اڑے رہے اور وہ دوائی ایف ڈی اے (یعنی فیڈرل ڈرگ اتھارٹی) سے فوری طور پر منظور کروائی۔ اور جن لوگوں نے بھی اس پر اعتراض کیا انہیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔

یاد رہے کہ ایف ڈی اے جب کوئی دوائی پبلک کے لیے استعمال کی اجازت دیتی ہے تو اس کے ساتھ ٹرائل رپورٹ سمیت کی گئی کئی تحقیقی نتائج بھی بتانا ہوتے ہیں۔اس دوائی کو زبردستی کرونا وائرس کے مریضوں پر آزمایا گیا لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا اور بالاخر تمام ڈاکٹرز نے اس دوائی کا استعمال بند کیا لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں نے وہ دوائی خرید لی۔ اسی طرح ایک دفعہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈیٹر جنٹ لکویڈ پینے سے وائرس مر جاتا ہے تو کئی دیوانوں نے وہ بھی پی لیا۔

امریکی الیکشن 2020 کی ڈائری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *