عالمی ثقافتی ورثے میں اضافہ

17454194_403

یونیسکو کی کمیٹی کا حال ہی میں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ایک اجلاس ہوا۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوگنڈا کے مادی بول لائرے

میوزک اور رقص کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا جائے۔ یہ اس ملک کے مادی برادری کی سب سے پرانی ثقافتی میراث ہے۔

بتایا جاتا ہے ابھی بھی کبھی کبھار شادی کے موقع پر یا پھر فصل کی کٹائی کے وقت مادی بول لائرے موسیقی و رقص پیش کیا جاتا ہے۔ یوگنڈا کی نوجوان نسل کو اپنی اس ثقافت میں کوئی خاص رغبت نہیں ہے اور ان کا موقف ہے کہ موسیقی و رقص کا یہ انداز بہت پرانا ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ مادی بول لائرے میوزک کو بجانے کے لیے کچھ خاص آلات کا  استعمال کیا جاتا ہے۔ ان آلات کے لیے خام مال جن درختوں یا جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے وہ ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

پرتگال کے بیسالہائس نامی ایک گاؤں میں سیاہ مٹی سے بنائے جانے والے برتن بہت مشہور ہیں۔ یونیسکو نے ان برتنوں کو بھی ایک ایسا غیر مادی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، جسے فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔

سیاہ مٹی سے بنائے جانے والی یہ برتن سجاوٹ اور کھانا پکانے دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق نوجوان نسل کی عدم دلچسپی اور صنعتی طور پر ان برتنوں کی مانگ کم ہونے کی وجہ سے اس ثقافت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ برتن آج بھی پرتگال میں پسند کیے جاتے ہیں اور اس گاؤں کی پہچان بھی ہیں تاہم ان کی فروخت سے ہونے والی آمدنی اس ثقافت بچانے کے لیے کافی نہیں ہو پا رہی۔

عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں جس تیسرے نگینے کا اضافہ کیا گیا ہے، وہ ہے یوکرائن کے کوسیک گیت۔ کوسیک گیت یوکرائن کے دنیپروپیتروفسک کے علاقے کی ثقافت ہیں اور ان میں جنگ کی المناکیوں اور کوسیک سپاہیوں کے نجی تعلقات کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔

فن کی یہ قسم بھی لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تیزی سے تنزلی کا شکار ہے اور اسے بھی فوری طور پر تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بیلجیم کی بیئر اور کیوبا کا رمبا رقص بھی یونیسکو کی اس فہرست میں شامل ہے، جسے دس سال قبل ترتیب دیا گیا تھا۔

اس فہرست میں ایران اور افغانستان میں منائے جانے والے نوروز تہوار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق بیلجیم میں بیئر کی ڈیڑھ ہزار سے زائد اقسام ہیں اور یہ شراب سازی کی ایک زندہ دل ثقافت ہیں۔ یونیسکو کی جانب سے یہ فہرست تیار کرنے کا مقصد ثقافتی ورثے کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ کرنا بھی ہے۔

DW

Comments are closed.