حسن اَلبنا کی جدید بُنیاد پرستی

یوسف صدیقی 

مصر کے شہر اِسماعیلیہ کے قریبی گاؤں شمشیرہ میں ایک گھڑی ساز عبد الرحمن اَلبنا کے گھر میں پید ا ہونے والا بچہ جس کا نام ’’حسن اَلبنا‘‘ تھا ،اِبتدائی عمر میں ہی ایک قسم کی’’باغی‘‘ اُور ’’سرکش‘‘ فطرت کا حامل تھا ۔مصر کی سڑکوں،قہواہ خانوں، سینماؤں اُورصوفیاء کیحجروں میں جا کر لوگوں کو’’اِنقلابی سرکشی ‘‘پر آمادہ کر نے والے اِس بچے نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرق وسطیٰ میں لاتعداد لوگوں کو اَپنا ہمنوا بنا لیا ۔

حسن اَلبناکی سوچ ،فکر اُور فلسفے کو قدیم بُنیاد پرستی اُور ’’پتھر ‘‘کے دور کی روایات کی یادوں نے دلائل فراہم کیے ۔اُس نے بہت کم عرصے میں مشرق اُور مغرب کو آپس میں دست و گریباں کرنے کا ’’کارِ عظیم ‘‘ سر انجام دَے دِیا ۔اخون المسلمون کا پہلا بانی ’’مرشد عام‘‘ حسن اَلبنامشرق وسطیٰ میں جدید بُنیاد پرستی اُور ’’سیاسی اِسلام ‘‘ کے اِحیا کے اولین داعیوں میں سے تھا۔حسن اَلبنا نے بچپن ہی میں سیاسی اِسلام اُورسُنی بنیاد پرستی کی تشریح و توضیح کرنے کے لیے کم پڑھے لکھے لوگوں کو مخاطب کیا ۔وہ ایک اَیسے سماج کو قائم کرنے کا متمنی تھا ،جس میں رِیاست قدیم ’’پتھر ‘‘کے دور کی روایات پر عمل کرے ۔

تاہم حسن اَلبنا نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جوطریقہ کار منتخب کیا وہ ’’جدید ‘‘ تھا ۔یعنی لوگوں کومدلل ’’گفتگو‘‘ اُور عقیدے پر ’’ عمل ‘‘کی تاثیر سے قائل کر کے ’’جدید جمہوری اصولوں‘‘کے تحت حکومت کا تختہ اُلٹنا ۔کم پڑھے لکھے اَفراد کو مخاطبِ اوّل بنانے کے بعد حسن اَلبنا نے یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی نوجوان نسل کو اَپنی جماعت کا حصہ بنانا چاہا، اِس کام میں اُسے کامیابی بھی ملی ۔وہ قدیم مسلم جنگجوں سے محبت رکھتاتھا ۔ حسن اَلبناکے اَپنے گھر کا ایک واقعہ اِس سلسلے میں دلالت کرنا ہے ۔

حسن اَلبناکی لڑکی سناء حسن اَلبنا لکھتی ہے ’’جب انھیں معلوم ہوا کہ اِن کا بیٹا سیف الاسلام ’’عام قسم‘‘ کے ناول پڑھ رہا ہے ،تو اُنھوں نے اپنے بیٹے کو منع کرنے کے بجائے تاریخ کے واقعات اُور ’’عظیم شخصیات‘‘ جیسے صلاح الدین ایوبی ،کے بارے میں کئی اچھی کتا بیں لا کردیں۔اِس چیز کا نتیجہ یہ نکلا کچھ عرصہ بعد سیف الاسلام کی’ پسند‘ بدل گئی۔‘‘واضح رہے کہ مسلم جنگجوں طارق بن زیاد،موسی بن نصیر اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ محبت رَکھنے والایہ’’ بنیاد پرست ملاں‘‘ اَپنی زِندگی کے دَرمیانی دور میں ’’جہادِ فلسطین‘ ‘ کا مرکزی کردار بن کر بھی اُبھرا تھا ۔

جہادِ فلسطین میں مصر یوں کو شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہوئے حسن اَلبنا اپنی کتاب ’’رسالہ الجہاد‘‘ میں لکھتا ہے ۔’’اللہ تعالیٰ نے جہاد کو ہر مسلمان پر فرض کر دیا ہے ۔یہ ایک لازمی اُور حتمی فریضہ ہے ،جس سے کسی کو چھٹکارہ اُور مفر ممکن نہیں ۔دُنیا میں کوئی قدیم یاجدید نظام یا تمدنی قانون موجود نہیں ہے، جس میں جہاد اُور دفاع کو اِتنی اَہمیت دی ہو ،اُور اِس کے لیے ساری اُمت کو ایک صف میں جمع کیا ہو ،تاکہ پوری قوت کے ساتھ ’’حق‘‘ کا دفاع کیا جا سکے ۔یہ تعلیمات صرف دینِ اسلام اُو راُس کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے ۔ ‘‘۔

حسن البنا کی یہ تحریر پڑھ کر ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حسن اَلبنا لوگوں کو ’’جہاد‘‘ کیے نام پر میدانِ عمل میں لانے کے لیے عقید ے کی پیچیدگیو ں کو عوامی اِقدامات میں تبدیل کر نے کا ملکہ رکھتا تھا۔یہی چیز بیسویں صدی میں اُبھرنے والے سیاسی اِسلام کی پہچان ہے ۔ مندرجہ بالا تحریر سے یہ بات بھی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے کہ اخوان المسلمون کا تصورِ جہاں(ورلڈ ویو) قدامت پسند اِسلامی اصطلاحات میں بیان کیا گیا تھا ۔جس میں ماضی بعید کے معاشرے کو بحال کرنے کی دعوت دی گئی تھی ۔

اُور پھر جب جہادِ فلسطین کے نام پر ’’آگ‘‘ بھڑکی، تو حسن اَلبنا نے فوری اِسلام کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کیا ۔اُور اِس کے ساتھ اَپنے آپ کو قابل قبول بنانے کے لیے حسن اَلبنا نے ’’جدید بنیاد پرستی‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ ایک مغربی مفکر گورویڈال لکھتا ہے ۔’’بحرانی حالت میں حسن اَلبنا کا ردِعمل اِسلام کی اَصل کی طرف رُجوع کی وکالت تھا ۔یعنی بنیاد پرستی کی طرف دعوت!۔حسن اَلبنا کی تحریک ما قبل اِحیائی تحریکوں کا راست وِرثہ تھی۔‘‘۔

حسن اَلبنا نے اخوان المسلمون کے کارکنوں کی قدیم اِسلامی زاویوں پر تربیت کرنے کے لیے خفیہ بنیادوں پر ’’معسکر‘‘ قائم کیے ۔جہادی تربیت کے علاوہ اِفراد کو باہمی طور پر متحد رکھنے کے لیے ’’اِسراہ‘‘ کا نظام قائم کرنا ،حسن اَلبنا کے لاثانی کارناموں میں سے ایک ہے۔ اسرا اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے جس کامطلب ہے خاندان!۔جماعتی بنیادوں پر بننے والے ’’اخوانی خاندان‘‘ میں اِسرہ،کتیبہ،رحلۃ ،المعسکر،دورہ،ندوہ اُور موتمر کے دَرجے قائم ہیں۔

حسن اَلبنا اَپنی ’’خلافت‘‘ قائم کرنے کے لیے اِنسانی جسم کے ’’جبلی بڑھوتری‘‘ کو ضروری خیال کرتا تھا ۔اُس نے ’’جسمانی تعلیم‘‘ کے لیے کتیبہ اُور رحلتہ کے شعبے قائم کیے ۔اِن شعبوں میں سخت جسمانی مشقت کروائی جاتی ہے ۔تاکہ کارکنوں سے بوقتِ ضرورت ’’دہشت گردی ‘‘ کروائی جا سکے ۔ اِس کورس میں کسی صحرا،میدان یا شہر سے باہر کسی مقام پر انسانی جسم پر تجربے کیے جاتے ہیں، تاکہ انسانی جسم میں ’’لچک ‘‘ کی جگہ سختی اور نرمی کی جگہ وحشت آ جائے۔’

معسکر‘‘ نامی شعبہ میں اخوان المسلمون والے نجی طور پر’’اِسلامی فوج‘‘ تیار کر تے ہیں۔اِس فوج کی جنگی مشقیں ہو تی ہیں ۔’’دورہ ‘‘نامی شعبہ میں اخوان کے کارکن کسی پرانی روایات کے امین مقام پر جاکر سیر کرتے ہیں ،اُور سیر کرنے کے علاوہ اُس تاریخی مقام کے سا تھ جڑی روایات پر اَپنے موقف کا اعادہ کرتے ہیں۔’’ندوہ‘‘ نامی شعبہ میں ماہرین تیار کیے جاتے ہیں ،جو سیکولرازم ،کیمونزم اُور کیپٹلزم پر بحث و مباحثہ کرنے کی تیاری کر تے ہیں ،اُور ’’میں نہ مانوں ‘‘کے عزمِ سے لبریز ہو کر میدان جہاد میں کود پڑتے ہیں ۔ 

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔نوجوانی کی عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ انسان کسی بھی نظریے کی عصبیت کا شکار ہو جاتا ہے ،اُوربعد میں اِنسان اس نظریے کے کٹر پیروکاروں کی صف میں جا ملتا ہے ۔حسن اَلبنا نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی جنگ میں ایندھن بنانے کے لیے کتنا بے تاب ہے، اِس چیز کو اُس کی مندرجہ ذیل تحریر میں دیکھا جا سکتا ہے ،جواُس نے نوجوانوں کے نام لکھی ۔وہ لکھتا ہے۔

’’اخوان المسلمون کی تحریک کے مراحل متعین اُور واضح ہیں۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے ۔وہ تمام وسائل بالکل ہماری نگاہ کے سامنے ہیں جن کو استعمال کر کے ہم اپنے وضع کردہ مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔سب سے پہلے ’’مسلمان‘‘ فرد ،پھر مسلمان گھرانے ، پھر مسلم سوسائٹی، اُور اِس کے بعد اِسلامی رِیاست کا قیام اُور پھر اِس کے بعد عالمِ اسلام کی تمام سرزمینوں کو یک جا کر کے ’’اِسلامی مملکت ‘‘کا قیام ہمارے پروگرام کا حصہ ہے۔جہاں اِسلام کا پرچم سر بلند ہو ۔اِس کے بعد ہم تمام انسانیت کے سامنے برملا اُور ہر حالت میں اِس دعوت کا اعلان کریں گے۔اُور دُنیا کے کونے کونے تک اِس کو پہنچائیں گے‘‘۔

ان الفاظ کی تاثیر نے ہزاروں نوجوانوں کو البنا کا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔حسن اَلبنا کے ان دلائل سے لیس ہو کر عرب نوجوان قاہر کی سڑکوں پر آج بھی ’’رَجعت پرستی‘‘ کے نتائج ڈھونڈ رہے ہیں۔اِسی چیز سے اَیمن اَ لظواہری متاثر ہوا ۔جب اُسے پتہ چلا کہ ’’بنیاد پرستی‘‘ کی عسکری میدان میں لڑائی پرانی روایات کے مطابق اُسامہ بن لادن لڑ رہا ہے ،تو وہ القاعدہ سے جا ملا ۔ موجودہ دور میں کہیں پر اِن بنیاد پرست سیاسی تحریکوں کو دہشت گردی کرنے کی اِجازت ہے، جیسے قطر اُور پاکستان میں یہ ’’ملاں‘‘ کھل کر دہشت گردی کر رہے ہیں ، اُور کہیں اِن پر پابندی ہے، جیسے مصر اُور دیگر عرب ممالک میں ’’سیاسی اِسلام ‘‘کو پھیلنے سے رُوکنے کے لیے رِیاستوں نے سنجیدہ اِقدامات شروع کر دیے ہیں ۔

اِن اِقدامات میں اَبھی حال میں ہی قطر کا بائیکاٹ کرنا بھی شامل ہے ۔کیونکہ قطر میں اخوان المسلمون کے ایک رہنما یوسف القرضاوی موجود ہے ،جو اِس وقت اَپنے جماعتی بھائیوں کو ’’نظریاتی دلائل‘‘ کا اِیندھن فراہم کر رہا ہے ۔سیاسی اِسلام کی نمائندہ اِن دہشت گرد اُور جدید بنیاد پر ست تنظیموں کے کردار پر بحث کرتے ہوئے جان لیفان لکھتا ہے کہ ’’جنگجو قائدین کا تیسرا گروپ ’روایت پسند ،ترقی پسند ‘ مغرب کے لیے سب سے زِیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، اَگرچہ مختصر مدت میں وہ عرب حکومتوں کے موجودہ سیاسی قائدین کے لیے اِس سے بھی زِیادہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔

یہ پیشہ ور اِنتہا پسند،آیت اللہ (ملاؤں)سے زِیادہ دنیاوی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ اُن کا نصب العین سیاسی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے ،اُور قائم رَکھا جا سکتا ہے ۔وہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ’’تشدد ‘‘ کوسوچے سمجھے ذریعے کے طور پر اِستعمال کر تے ہیں ۔اِن کی طاقت گروہی نظم و ضبط اُور جذبہ ہے ۔مجھے اِن کی اُور یورپی کیمونسٹوں کی تنظیمی مماثلت ہمیشہ غیر معمولی محسوس ہوئی ہے ۔خود کو چھُپا کریہ آپس میں رابطہ رکھتے ہیں ۔حملے کی تیاری کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دَیتے ۔

اِس کی نُمایاں مثال عرب دُنیا میں اخوان المسلمون اُور پاکستان میں جماعت اِسلامی ہے ۔‘‘اِن اَلفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حسن اَلبنا کو بیسویں صدی میں سُنی اِسلام کی اِحیائی تحریکوں لاثانی اَہمیت اُور حیثیت حاصل ہے ،اِس لیے وہ عقیدے کی پیچیدگیوں کو عوامی اقدامات میں بدل کر اپنی ’’خلافت ‘‘ قائم کر نے کے عزم کو لے کر عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا موقف بیان کرتا رہا ،اُس کے تصورِ سیاست میں گھڑی سازی کی بارِیک بینی ، اُور ایک ’’مُلاں‘‘ کی ضد ملتی ہے ۔وہ اَپنے مخالفوں (خواہ ان کا تعلق وفد پارٹی سے ہو یا نہ ہو ) کو واجب القتل سمجھتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب اُس کی فکر کی مزید تشریح اُس کے رُفقاء میں سے سید قطب نے کی تو قطب کی تعلیمات کے نتیجے میں ’’نائن الیون ‘‘کا عظیم سانحہ ہو گیا ۔حسن اَلبنا مغربی تہذیب کی بالادستی کو علمی سطع پر چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ عقلی سطع بھی چیلنج کرتا ہے ۔اُس نے چھوٹے بڑے تقریباََ بیس کے قریب رسالے مغربی تہذیب کے خلاف لکھے ۔اِس کے علاوہ حسن اَلبنا کے ساتھیوں محمد الغزالی اُوربہی الخولی نے بھی طویل تحریریں لکھ کر مغرب کے خلاف فضا بنانے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔اِن’’جدید ملاؤں‘‘ کی تحریریں پاکستان سمیت دُنیا بھر میں بسنے والے بُنیاد پرست عناصر عام کر ر ہے ہیں ۔یہ لوگ بُنیادی پرستی کی اِحیائی جنگ جیتنے کے لیے ’’جہادی جرائم ‘‘ کے علاوہ سیاسی میدان میں زُور آزمائی بھی کر رہے ہیں۔

جیسا کہ تحریر کے اِبتدا میں لکھا گیا ہے کہ حسن اَلبنا ایک سرکش اُور باغی فطرت کا مالک تھا ، اُوراَب حسن اَلبنا اِس دُنیا میں نہیں ہے ۔لیکن اُس کی سرکشی ، اُور جنونیت کی وراثت اُس کے کٹرپیروکاروں کے قبضے میں ہے ،وہ اِس وقت سا ری دُنیا پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔اَپنے خواب کی تعبیر پانے کے لیے لوگوں کو قتل کر نا، اُموال لوٹنا اُورتشدد کر نا اِن کا شیوہ ہے ۔اِس وقت دُنیا اکیسویں صد ی کے دُوسرے عشرے میں پہنچ چکی ہے ۔اَیسے حالات میں دُنیا کے معصوم لوگوں کو اِن ملاؤں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔۔

مہذب دُنیا کو چاہیے کہ وہ اِن جنونیوں کو نکیل ڈالے ،اُور اِن کو مزید تباہی پھیلانے کی اجازت ہر گز نہیں دینی چاہیے۔

5 Comments