بالشویک انقلاب اور پشتونخوا میں تنظیمی سیاست

پائندخان خروٹی

سیاسی تنظیم دراصل وہ شعوری اشتراک ہے جس میں انسان ایک نظریہ اور نظم و ضبط کے پابند ہوکر اپنا مجموعی نقطہ نظر سامنے رکھتا ہے اور اپنی پوری توجہ اپنے قومی یا اجتماعی اہداف کے حصول پر مرکوز رکھتا ہے جبکہ ہجوم میں لوگ جذبات اور عقیدت کی بنیاد پر عارضی طور پر حرکت میں آکر مجموعہ یا جمگھٹے کی شکل اختیار کرتے ہیں مگر تنظیمی اور نظریاتی سوچ و اپروچ سے عاری ہوتے ہیں۔ گویا ہجوم کے دوران غیرمنظم افراد کو منظم کرنے اور انقلابی نظریات سے ان کو روشناس کرانے کا عمل بھی سیاسی و تنظیمی دانشمندی ہے۔ تنظیم سازی کا آغاز ابتدائی طور پر کسی دانشور یا مفکر کے آئیڈیاسے ہوتا ہے اہل علم ودانش میں پھیلنے کے بعد یہی آئیڈیا رحجانبن جاتا ہے۔ جب اسے عوام اپنا لیں تو یہ تحریککی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہی تحریک مزید منظم ہونے کے بعد سیاسی تنظیم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ البتہ مارکسی لیننی تعلیمات میں ایک انقلابی پارٹی کو پیرلل اسٹیٹکی حیثیت حاصل ہے۔

ارتقاء اور ترقی کے تاریخی سفر میں اگر سیاسی تنظیموں کی تاریخ دیکھی جائے تو اٹھارہویں صدی کے وسط میں برطانیہ سے ٹوریز سیاسی جماعتیں (1834) ، امریکہ سے ری رپبلکن پارٹی (1854) اور مفکروں کی سرزمین جرمنی سے جرمن ورکر ایسوسی ایشن (1863) کی شکل میں آغاز ہوا لیکن دنیا کی پہلی منفرد اور منظم پولیٹکل پارٹی رشین سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی” 1898 میں قائم ہوئی۔ جدید دنیا میں آج اُسی طرز پر چلتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی اپنے نظم و ضبط، ڈھانچہ اور منظم افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی منظم اور نمایاں سیاسی تنظیم ہے۔اس ضمن میں پشتونخوا وطن میں سیاسی تنظیم بنانے کا عمل ارتقائی مراحل میں ہوا۔

سب سے پہلے پیر روشان بایزید انصاری نے مغل حکمرانوں کے خلاف روشانی تحریک چلائی۔ مغلوں اور انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہا جبکہ دوسری قابل ذکر تحریک نہضت مشروطيتہے۔ میری اب تک کی معلومات کے مطابق حاجی صاحب ترنگزئی کی تنظیم حزب اللہ 1911″، عبدالغفار خان المعروف باچاخان کی تنظیم اصلاح افغانہ 1921″ ، کاکاجی صنوبرحسین مومند اور سرحدی لینن مولانا عبدالرحیم پوپلزئی کی پارٹی انجمن زمینداران و نوجوانان 1926″ جو چند سال کے بعد نوجوانان بھارت سبھا میں ضم کر دی گئی اور عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاسی تنظیم انجمن وطن 1938″ میں باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔ علاوہ ازیں کسان تحریک، ویش زلمیان، صحافتی اور ادبی تحریکوں کی گرانقدر خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔

سردست ہم اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتے کہ تقسیم ہند سے قبل پشتونخوا وطن میں مندرجہ بالا سیاسی جماعتوں کی بنیاد کسی فرد واحد نے رکھی ہے یا یہ کریڈٹ اجتماعی دانشکو جاتا ہے؟ زیر نظر تحریر میں مذکورہ سیاسی جماعتوں کا سیاسی ڈھانچہ، نقطہ نظر اور سیاسی لائن کاجائزہ لینا مقصود نہیں ہے تاہم یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ پشتونخوا وطن میں تنظیمی سیاست کو متعارف کرانے کا سہرا مندرجہ بالا قومی تحریکوں، سیاسی تنظیموں اور ان کے قائدین کے سر ہے۔ برصغير پاک و ہند میں پشتونخوا ترقی پسند اشخاص ہی پہلی مرتبہ کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین کے باقاعدہ پارٹی ممبرز بن گئے۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے برٹش بلوچستان میں پریس ایکٹ کے نفاذ کے بعد ایک سیاسی جماعت انجمن وطنکی داغ بیل ڈالی۔ بعدازاں اس جماعت کا نام ورور پشتونرکھا گیا لیکن اگلے مرحلے میں اسے محکوم اقوام اور محروم طبقات کی مشترکہ تنظیم نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)” میں ضم کر دیا گیا۔

خان شہید اپنی آخری سانس تک اپنی سیاسی اور جمہوری نظریات سے وابستہ رہے۔ سیاسی تنظیم سازی کے حوالے سے چارسدہ باچاخان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کہتے ہیں کہ گاندھی جی اور جناح صاحب کیلئے سیاست میں آنے سے پہلے سازگار حالات اور سیاسی پارٹی موجود تھی جبکہ باچاخان اور خان شہید کے سامنے ایسا کچھ نہ تھا۔ یہ سیلف میڈ لوگ تھے۔” (1)۔

قومی آزادی اور عوامی انقلاب کے حوالے سے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے منفرد انداز فکر، اسلوب اور خیالات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ وہ چیزوں کو بین الاقوامی اور انسانی معاشرے کے تناظر میں دیکھنے کے حامی تھے۔ قومی آزادی کے تصور کو طبقاتی مسئلے سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تمام اقوام کی آزادیوں کو انسانی آزادی اور نجات کے طور پر دیکھا۔ برصغیر پاک و ہند کی آزادی کی جدوجہد ہو یا قومی حقوق کا مسئلہ، انہوں نے بلاتعصب و امتیاز مذکورہ تمام تحریکوں میں اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کیا۔ اسی لیے انہوں نے جیل کی کال کوٹھڑی میں آزادی اور بالشویک انقلاب سے متعلق کمیونسٹ کینڈین مصنفین چارلٹ اور ڈائی سن کارٹر کے خیالات سے متاثر ہو کر اور ان کی توثیق کرتے ہوئے بالشویک انقلاب سے متعلق ان کی تصنیف فیوچر آف فریڈم کا اردو ترجمہ کیا۔

مذکورہ کتاب 155 صفحات پر مشتمل ہے جس میں آزادی کے تصور کا سائنسی جائزہ لیتے ہوئے بیس مختلف اقسام کی آزادیاں بیان کی گئی ہیں۔ تحقیق طلب بات یہ ہے کہ کتاب کا ترجمہ تو عوام تک پہنچ گیا لیکن خان شہید کا اس کتاب کا تحریر کردہ دیباچہ چھپی ہوئی کتاب سے کیوں اور کس طرح غائب ہو گیا؟ یہ ایک معمہ ہے۔ بہرحال مذکورہ کتاب فیوچر آف فریڈم میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ آزادی کے فلسفیانہ تصور کو زیر بحث لانا ضروری نہیں سمجھتے اور نہ ہی اپنی ماضی کے چند قدیم آزادیوں سے محرومی کا ماتم کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک نئی اور روشن دنیا میں زندہ انسانوں کے حقوق و آزادی اُجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب میں بالادست طبقہ کی آزادی اور زیردست اکثریتی عوام کی آزادی کے فرق کو بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیینڈین مصنفین کے مطابق ہم وہ آزادیاں پیش کر رہے ہیں جن کا حقیقی زندگی میں سابقہ پڑتا ہے، یہ آزادیاں سوشلسٹ ممالک اور آزاد دنیا میں حقائق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (2)۔

کتاب کے عنوان دی فیوچر آف فریڈم کا انگلش سے اردو ترجمہ آزادی کا اُفق کے طور پر کیا گیا ہے لیکن تفصیلات کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ مترجم نے طلوع اور غروب آفتاب کے وقت اُفق اور شفق کے مابین جدلیاتی تعلق کو اچھی طرح محسوس کیا اور صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا جس کے مطابق کالونیل سسٹم کے خاتمے کے بعد اقتدار کی منتقلی طبقہ اشرافیہ کو نہیں بلکہ عوام کی اکثریت کو ضروری ہے جو اس سیاسی شعار (آل پاور ٹو دی سوویتس) کا عکاس ہے جو انقلابی لیڈر ولادیمیر لینن نے بالشویک انقلاب برپا ہونے سے قبل دیا تھا۔ اُفق پر جب آزادی کا شفق جلوہ گر ہوتا ہے تو تمام لوگوں کیلئے غلامی کے اندھیروں کو دور ہونا چاہیے۔

خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے زیر بحث کتاب دی فیوچر آف فریڈم کا مطالعہ کرنے کے بعد انھیں پہلی بار سوشلسٹ نظام کی حقیقت سے آگہی حاصل ہوئی جبکہ برصغیر پاک و ہند کے متعدد سوشلسٹوں سے گفتگو اور سیاسی مباحثوں کے دوران سوشلزم کی وہ تفہیم حاصل نہ ہو سکی جو پہلی بار اس کتاب سے حاصل ہوئی ہے۔ خان شہید کینیڈین مصنفین کی بالشویک انقلاب کے قائدین اور ان کے کارناموں سے متعلق زیر نظر کتاب پر مسرت کا اظہار کیا۔ مذکورہ کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ آزادی کا مسقبلنام ہی سے متاثر ہوا جب میں نے کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھے پہلی مرتبہ سوشلسٹ نظام میں زندگی سے تعارف حاصل ہوا حالانکہ اس سے پہلے سوشلزم کے بارے میں کئی دوستوں سے بحث و مباحثہ ہو چکا تھا لیکن برصغير کا کوئی سوشلسٹ مجھے سوشلزم کے متعلق ایسی باتیں نہ بتا سکا تھا۔ (3) ۔
بالشویک انقلاب اور خان عبدالصمد خان اچکزئی کے تناظر میں یہ بات بھی آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی معروف روسی ادیب اور ناول نگار میکسم گورکی کے شہرہ آفاق ناول ماںکا بھی بھرپور خیرمقدم کیا اور اپنے دیرینہ ساتھی سائیں کمال شیرانی کو باقاعدہ تاکید کی کہ وہ اس مایہ ناز ناول ماںکا پشتو ترجمہ کریں جس نے مفکر اعظم کارل مارکس کے مینی فیسٹو آف کمیونسٹ پارٹیکے بعد دنیا بھر کے ترقی پسند ادب اور سیاست کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماں ناول نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کو اشتراکی نظریات اور ترقی پسند ادب کی جانب مائل کیے۔

عبدالصمد خان اچکزئی کی ہمہ گیر شخصیت اور اُن کی خدمات کا جائزہ لینے کیلئے ہمیں مختلف شعبائے جات زندگی میں اُن کی گرانقدر خدمات کو دیکھنا ہوگا۔ اپنی ہمہ جہت شخصیت کے باعث وہ بیک وقت کئی محاذوں سیاست، صحافت اور ادب کے شعبوں میں سرگرم عمل تھے۔ دوسری جانب ان کی سیاسی خدمات کا دائرہ کابل سے ڈیلی، پشاور سے ڈھاکہ اور کوئٹہ سے لاہور وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی قریب سے مشاہدہ کرتے رہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ان کی شہادت کے نصف صدی گزر جائے کے بعد بھی کسی مورخ یا محقق کو یہ توفیق حاصل نہ ہوئی کہ وہ ہندوستان کے پایہ تخت ڈیلی، بنگلہ دیش کے پایہ تخت ڈھاکہ اور لاہور وغیرہ کی لائبریریز اور آرکائیوز میں خان شہید اور صنوبر کاکاجی وغیرہ سے متعلق معلومات اکٹھی کریں اور انھیں قلمبند کر کے عوام کے سامنے لائیں۔

وہ خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں پر نہ صرف گہری نگاہ رکھتے تھے بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں تمام حقائق سے شعور و آگہی حاصل کرنے کی عملی کاوشوں میں پیش پیش رہے۔ وہ وقت کے اہم سیاسی تحریکوں کی کمی بیشی کا ناقدانہ جائزہ لیکر عوام تک حقائق کو پہنچانے کا تاریخی فریضہ انجام دیتے رہے۔ وہ طاقتور سے طاقت چھینے اور کمزور کو طاقت دینے کے علمبردار تھے۔ وہ انسانوں یا دیگر اقوام سے محض ان کے رنگ، نسل اور عقیدہ کی بنیاد پر فاصلے رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ ساری زندگی حق شناسی اور حق پرستی میں بسر کرنے کے باوجود ہمارے مورخین اور مصنفین کی روایتی عینک خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی انتھک کاوشوں کا نہ احاطہ کر سکی اور نہ ہی عوام کو اُن سے موثر طور پر آگاہ کر سکی۔

اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص تاریخ اور تاریخی واقعات کو اپنی مخصوص عینک سے دیکھتا ہے جو ذاتی اور گروہی بنیادوں پر پیدا ہوتی ہیں۔ عوامی سطح پر خان شہید کے سیاسی مفکورہ روشناس نہ کرانے کے علاوہ اُن کی کاوشوں اور کارناموں کو تعلیمی نصاب کا مناسب حصہ نہیں بنایا گیا۔ ظاہر ہے کہ عوامی قائدین اور اولسی دانشور کو بالادست طبقہ اپنے مفاد میں نہیں سمجھتا تاہم آج پل پل بدلتی دنیا، ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا انقلاب اور بڑھتے ہوئے خلقی شعور کا تقاضا ہے کہ تاریخ کے اُن نظرانداز گوشوں، شخصيتوں اور شعبوں کو نئی قوت کے ساتھ روشن کیا جائے جنہیں ابن الوقت مصلحت کشوں نے آج تک اندھیرے میں رکھے ہیں۔

جمہوریت دراصل جمہور کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی تاریخ میں پہلا سیاسی اتحاد جگتو فرنٹ1954 ” سے لیکر موجودہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ستمبر 2020) تک جمہور کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے تقریباً آٹھ سیاسی اتحادیں بنے ہیں جو طبقاتی جدوجہد اور قومی برابری کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ناکام و نامراد ہو چکے ہیں۔ ہماری سیاسی تنظیمیں مزاحمتی رحجان پیدا کرنے میں ناکام کیوں ہو جاتی ہیں؟ پاکستان میں سیاست اور سیاستدانوں کی مفاد پرستی اور بڑی جماعتوں کی سمجھوتہ بازی پر کسی اور وقت تبصرہ کریں گے لیکن سردست بالشویک انقلاب، پشتونخوا وطن میں تنظیم سازی اور خان عبدالصمد خان اچکزئی کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ خان شہید متحدہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل اور بعد میں تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی اتحادوں اور جمہوری سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم اور اتحاد قائم کرنے کیلئے کوشاں تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے متحدہ ہندوستان کی آل انڈین پولیٹکل پارٹیز کانفرنس 1930″ منعقدہ لاہور میں بھی شرکت کی جہاں انھیں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے متعدد نامور رہنماوں کی بجائے صرف دو شخصیات بہت پسند آئی جن کا ذکر انہوں نے اپنی آپ بیتی زما ژوند او ژوندونمیں بھی کیا۔ یہ دونوں صف اول کے قائدین لینن انعام یافتہ ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور کاکاجی صنوبرحسین مومند تھے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پشتونخوا وطن اور برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے ناقابل فراموش ہیرو کاکاجی صنوبرحسین مومند کا تعارف ہمیں ممتاز سیاسی رہنماء سابق سینیٹر مرحوم عبدالرحیم مندوخيل کے پُرمغز مقالہ کے ذریعے ہوا۔(4)۔

نئے مورخین، مصنفین اور محققین کیلئے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ برٹش گورنمنٹ کو جب پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک رپورٹ اور قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ نقاط پیش کیے تو اس موقع پر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں جس کی چند سو کاپیاں بھی تیار کی گئیں جو پایہ تخت لندن اور دہلی کے آرکائیوز کے جھروکوں سے آج تک سامنے نہیں آسکی ہیں؟

ہر سیاسی شخصیت کی زندگی میں متعدد سماجی، ثقافتی اور مذہبی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قصہ پارینہ بن جاتے ہیں۔ یہاں برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن بلوچستان کے بیورو چیف محمد کاظم مینگل کی خان شہید سے متعلق ایک دلچسپ بات آپ کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس میں انہوں نے بتایا کہ برطانوی دور میں عبدالصمد خان اچکزئی نے سرداری یا سرکاری آفیسری کی پیشکش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ مجھے نوکری نہیں چاہیے بلکہ اپنے عوام کی آزادی چاہیےبہرحال یہ حقیقت ہے کہ خان شہید کا سیاسی مفکورہ اُن کے مذہبی اور ثقافتی پہلوؤں پر زیادہ حاوی ہے۔ اس طرح فکر و عمل کی مناسبت سے ان کے روشن پہلو انھیں مسقبل میں زندہ رکھنے کا باعث بننے ہوئے ہیں۔ پورے برصغیر کی تحریک آزادی اور پشتونخوا وطن میں تنظیم سازی اور عالمی سطح پر بالشویک انقلاب جیسے تاریخ ساز واقعات سے اُن کی گہری وابستگی انھیں دیر تک پورے خطے کے عوام کے ذہنوں میں روشن رکھے گی۔

حوالہ جات
۔1۔ مقالہ، سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت، خان شہید کی صد سالہ تقریب 1907 تا 2007، سہہ روزہ عالمی سیمنار، پایہ تخت کابل، اگست 2007۔
۔2۔ چارلٹ، ڈائی سن کارٹر، دی فیوچر آف فریڈم 1962، مترجم خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، ناشر گوشہ ادب جناح روڈ کوئٹہ، صفحہ 6، اشاعت دوم 2013۔
۔3۔ چارلٹ، ڈائی سن کارٹر، دی فیوچر آف فریڈم 1962، مترجم خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، ناشر گوشہ ادب جناح روڈ کوئٹہ، صفحہ 151،اشاعت دوم 2013
۔4۔ مقالہ، پائندخان خروٹی، عبدالرحیم مندوخيل جدلیاتی فلسفہ کا پیکر، فورم، کریٹکل گروپ ڈسکشن کوئٹہ
۔5۔ بیورو چیف بی بی سی بلوچستان محمد کاظم مینگل، رپورٹ بی بی سی ڈاٹ کام اردو، بعنوان عبدالصمد خان اچکزئی کی کہانی، دو دسمبر،
2021

Comments are closed.