غیر قانونی تارکین وطن معیشت اور سلامتی کے لیے خطرہ

آرمی چیف سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پہ مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کئی مبصرین کے خیال میں یہ بیان حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

دورہ پشاور کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی طرف سے دیے گئے اس بیان کو کئی حلقے ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ مبصرین اور سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کا بیان، غیر قانونی طور پہ مقیم تارکین وطن خصوصاً افغان مہاجرین قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے اور یہ کہ پاکستان کے سکیورٹی کے مسائل پاکستان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔

آرمی چیف نے یہ بیان جمعرات سات دسمبر کو پہلی نیشنل ورکشاپ خیبر پختونخوا ون کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ سید عاصم منیر کا کہنا تھا غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان غیر ملکیوں کو ایک مہذب اور باوقار طریقے سے ان کے ممالک واپس بھیجا جا رہا ہے، جو مروجہ روایات اور ضابطوں کے مطابق ہے۔

تاہم سکیورٹی کے کئی ماہرین اور تجزیہ نگار آرمی چیف کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کے خیال میں پاکستان کی اندرونی سلامتی میں غفلت کا الزام غیر ملکیوں پہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ڈاکٹر فیض اللہ جان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا الزام غیرملکی تارکین وطن، خصوصاً افغانوں پہ ڈالنا، انہیں قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے: ”یہ افغان دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت محنت مشقت کر کے اپنا گزارا کرتی ہے۔ پاکستان میں سلامتی کا مسئلہ خالصتاً ایک اندرونی معاملہ ہے جس کے ذمہ داری یہاں کے حکمرانوں کو لینی چاہیے۔

معروف صحافی سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن بات ہے کہ ریاست سلامتی کے بحران کی ذمہ داری افغان مہاجرین پہ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، اس طرح کے بیانات ان لوگوں کے احتساب سے رخ موڑنے کے مترادف ہیں، جو سلامتی کے ذمہ دار ہیں۔ افغان مہاجرین کو افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں کنٹرول کرے‘‘۔سمیع یوسف زئی کے مطابق افغان طالبان اپنے لوگوں کی افغانستان میں فکر نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں مہاجرین کی کوئی فکر ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، پاکستان میں سلامتی کا مسئلہ اس کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پاکستان نے افغان مجاہدین اور بعد میں افغان طالبان کی حمایت کی اور افغان طالبان پاکستانی طالبان کو اپنی ہی تحریک کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس پیچدہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں عسکریت پسندی بڑھی‘‘۔اس صحافی کے مطابق پاکستان کے ذمہ داران اپنے نا اہلی کو چھپانے کے لیے یہ الزام افغان مہاجرین پہ ڈال رہے ہیں۔

دہشت گردی اور عسکریت پسندی پر کئی تحقیقی مقالے لکھنے والے عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ افغان مہاجرین میں سے کچھ تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی میں ملوث ہوں تاہم اس کا امکان بہت ہی کم ہے: ”یہ امکان اس لیے کم ہے کیونکہ ٹی ٹی پی کا پاکستان کے اندر بہت مضبوط نیٹ ورک ہے۔ ان کے سارے کے سارے رہنما باجوڑ، جنوبی اور شمالی وزیرستان اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کا بڑا مضبوط رابطہ پنجابی طالبان سے بھی رہا ہے، جنہوں نے ماضی میں جی ایچ کیو، مہران ایئر بیس اور کئی دوسرے مقامات پر حملے کیے‘‘۔

عرفان اشرف کے مطابق غیر ملکیوں میں القاعدہ سے وابستہ لوگوں نے بھی پاکستان میں حملے کیے لیکن القاعدہ کو بھی مقامی طور پر ٹی ٹی پی سپورٹ کر رہی تھی اور جب القاعدہ کے لوگ بھاگ کر یہاں آئے تو ٹی ٹی پی والوں نے ہی انہیں پناہ دی تھی‘‘۔

عرفان اشرف مزید کہتے ہیں، میرے خیال میں افغان مہاجرین کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے حملوں میں ملوث ہوں۔ یہ کہنا کہ افغان مہاجرین کا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہاتھ ہے اس حقیقت کی نفی کرتا ہے کہ پاکستانی طالبان ملک کے اندر طاقتور ہیں‘‘۔

تا ہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ آرمی چیف کا بیان کسی حد تک صحیح ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار امتیاز عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف طالبان ہیں جو دہشت گردی میں ٹی ٹی پی اور داعش کے ذریعے ملوث ہیں اور ان کی حمایت یا سرپرستی تحریک طالبان افغانستان کر رہی ہے‘‘۔

امتیاز عالم کے مطابق تاہم افغانوں کی اکثریت معاشی تارکین وطن ہیں: ”اس کے علاوہ کئی افغان جیسے کہ فنکار، صحافی، لکھاری وغیرہ طالبان کے ظلم کا شکار ہیں اور ایسے افراد تو سیاسی پناہ ملنی چاہیے‘‘۔

بشکریہ:۔

dw.com/urdu

Comments are closed.