ریاست کی غدار ساز فیکٹری

liaq

لیاقت علی ایڈووکیٹ

قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارے حکمرانوں نے’ غدار‘ بنانے کا کام شروع کر دیا تھا ۔سب سے پہلے’ غدار‘ صوبہ سرحد کے منتخب وزیر اعلی ٰ ڈاکٹر خان صاحب اور ان کے بھائی عبدالغفار خان قرار پائے تھے ۔ الزام یہ لگایا گیا تھا کہ انھوں نے پاکستان کے جھنڈے کو سلامی نہیں دی تھی ۔

سلامی نہ دینا تو محض بہانہ تھا مقصد صوبہ سرحد کی منتخب حکومت کو توڑنا تھا کیونکہ مسلم لیگ کو 1946 کے صوبائی الیکشن میں بر ی طرح شکست ہوئی تھی اور خان برادران کی قیادت میں کانگریس کی صوبائی حکومت قائم ہوگئی تھی جو مسلم لیگ کی فیوڈل قیادت کو کسی صورت قبول نہیں تھی۔

چنانچہ اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے صوبائی وزیر اعلی کو ’غدار‘ قرار دے کر صوبائی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا اور یہ کام اپنے وقت کے ’عظیم آئین و قانون کے پابند‘ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا ۔ بات صرف یہاں تک نہ رکی جب عوام نے منتخب حکومت کی بر طرفی پر احتجاج کیا تو وزیر اعلی ٰخان عبدالقیوم کے حکم پر قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے بھابڑہ میں سینکڑوں پختونوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا ۔

خان برادران کے بعد’ غداری ‘کا قرعہ سندھ کے صوبائی وزیر اعلی ٰ ایوب کھوڑو کے نام نکلا ۔ انھوں نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی اور مرکز کے حوالے کرنے کو مسترد کر دیا تھا جو ہماری ’اس وقت کی ایم ۔کیو۔ایم ‘ کو قابل قبول نہیں تھا چنانچہ کھوڑو مردود حرم قرار پائے اور ان کو صوبائی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے ۔’غدار‘ قرار پانے کے چند ہی سال بعدڈاکٹر خان صاحب مغربی پاکستان جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے ،کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے ۔

خان برادران کے بعد دوسرا غدار حسین شہید سہروردی قرار پائے تھے جنھیں خود قائد ملت خان لیا قت علی خان نے نہ صرف ’غدار‘بلکہ’ کتا‘تک کہا تھا لیکن چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ یہی ’غدار‘پاکستان کا وزیر اعظم بنا اور آج ہم انھیں جمہوریت کے چمپئین کے طور پرجانتے ہیں اور اس پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ ہماری حکمران اشرافیہ کا سلوک جمہوری ہوتا تو شائد مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی نوبت نہ آتی ۔

اے۔کے۔فضل الحق نے مارچ 1940میں قرار دار لاہور جسے بعد ازاں قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا تھا مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کی تھی لیکن جب پاکستان بن گیا تو مولوی فضل الحق کو بھی ’غدار‘ کہا گیا ۔’ غداری‘کے الزام کی آڑ میں انھیں مشرقی پاکستان کی وزارت اعلی ٰ اور گورنر شپ سے بر طر ف کیا گیا ۔آج ہم ہر یوم آزادی پر ان کی قد آدم تصاویر اپنے شہروں کے چوکوں اور شاہراؤں پر لگاتے اور انھیں قیام پاکستان کے بانیوں میں شمار کرتے ہیں ۔

سیاسی رہنما’ غداری ‘کی فیکٹری چلارہے تھے توفوج بھی اس کام میں پیچھے نہیں تھی ۔ جنرل ایوب خان نے اپنے مخالف فوجی افسروں کو’ پنڈی سازش کیس ‘کے نام پر فوج سے برطرف کرکے ملک دشمن قرار دیا تھا ۔ اس طرح فوج کا سربراہ بننے کی راہ ہموار کر لی تھی ۔ ویسے تو ایوب خان تقریبا سبھی سیاست دانوں کو’ ملک دشمن‘ او’ر غدار‘سمجھتے تھے لیکن مشرقی پاکستان کے سیاست دانوں پر ان کی نظر خصوصی تھی ۔

انھوں نے اگرتلہ سازش کیس کے نام پر شیخ مجیب الرحمان اور ان کے ساتھیوں کو’ غدار‘ قرار دے دیا ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل ایوب خان کو شیخ مجیب الرحمان کو نہ صرف رہا کر نا پڑا بلکہ گول میز کانفرنس میں ان کے ساتھ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مذاکرات بھی کر نا پڑے تھے ۔

جنرل یحییٰ خان نے’ غدار سازی‘ کی فیکٹری میں نئی منزلوں کا اضافہ کیا۔مارچ 1970میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونے والی کسان کانفرنس میں مشرقی پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما مسیح الرحمان نے مارشل لا انتظامیہ پر تنقید کی تو انھیں’ غدار‘ قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا اور فوجی عدالت نے اس الزام میں انھیں فی الفور سزا بھی سنادی لیکن جلد ہی ’غداری ‘کا یہ الزام دھل گیا اور وہ رہا ہو کر مشرقی پاکستان چلے گئے۔ مسیح الرحما ن’ غدار‘ سے یکا یک ’محب وطن‘کیسے بنے اس بارے عامۃ الناس کو کچھ معلوم نہ ہو سکا ۔

عبداللہ ملک بائیں بازو کے معروف صحافی تھے انھوں نے لاہور کی انجیئنر نگ یونیورسٹی کے ایک سمینار میں جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت کی مخالفت کی تو انھیں گرفتار کرکے ’غداری ’کا مقدمہ بنا دیا گیا ۔ فوجی عدالت نے نہ صرف انھیں دس سال قید بلکہ کوڑوں کی سزا بھی سنائی تھی لیکن عمر رسید ہ ہونے کی بنا پر کوڑوں کی سزا پر عمل درآمد نہ ہوسکا تھا ۔

سنہ1970کا الیکشن جب عوامی لیگ بھاری اکثریت سے جیت گئی اور اس نے اقتدار منتقلی کا مطالبہ کیا تو ہماری حکمران اشرافیہ کا پتہ چلا کہ مجیب الرحمان تو غدار ہے چنانچہ مجیب الرحمن کو گرفتار کرکے انھیں مغربی پاکستان منتقل کیا گیا اور مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ مجیب الرحمان پر مغربی پاکستان میں ’غداری اور ملک دشمنی ‘ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا لیکن پھر اسی’ غدار اور ملک دشمن ‘مجیب کو پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے پورے سرکاری پروٹو کو ل کے ساتھ بیرون ملک سے روانہ کیا تھا ۔

غدار سازی ‘کی اس صنعت کو ترقی کی نئی منازل سے ہمکنا ر کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی بھر پور کر دار ادا کیا تھا ۔ انھوں نے تمام منتخب بلوچ اور پختون قیادت کو’ غدار‘ قرار دے دیا تھا ۔’حیدر آباد ٹربیونل‘ غداری کا مقدمہ ہی تو تھا ۔ اس مقدمے میں ولی خان، عطا ء اللہ مینگل ، غوث بخش نزنجو، ڈاکٹر عبد الحی کے ساتھ حبیب جالب اور معراج محمد خان جیسے سیاسی کارکن بھی شامل تھے ۔

یہ مقدمہ کئی سال چلتا رہا لیکن ایک سوال حل طلب رہا کہ قانون کی زبان میں ’نظریہ پاکستان ‘ سے کیا مراد ہے ۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار اس سوال کا جواب قانونی انداز میں دینے سے قاصر رہے تھے ۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ ملزموں نے ’نظریہ پاکستان‘سے انحراف کیا ہے اور ’ریاست پاکستان کے خلاف جنگ ‘ کی ہے ۔

قومی اتحاد اور بھٹو کے مابین مذاکرات میں ایک وجہ ڈیڈ لاک حید ر آباد کے اسیروں کی رہائی بھی تھا ۔ بھٹو موقف اختیار کیا کرتے تھے کہ سکیورٹی ادارے ان اسیروں کی رہائی میں رکاوٹ ہیں ۔پھر وہ موقع بھی آیا کہ ان ’غداروں ‘ کو ملنے کے لئے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا ء الحق خود حیدر آباد گئے اور انھیں رہائی کا مژدہ سنایا ۔

سندھ کے قوم پرست رہنما جی۔ایم سید تو عمر بھر’غدار ‘ ہی رہے ۔ انھوں نے کبھی کوشش ہی نہ کی کہ انھیں ’محب وطن‘ تسلیم کیا جائے لیکن ان کی ’کھلی غداری‘ کے باوجود ہمارے حکمران بالخصوص جنرل ضیا ء الحق ان کی آشیر واد لینے کے لئے ان کے در دولت پر حاضری دیا کرتے تھے ۔

سنہ1980کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹوکو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا ۔ ہمارے سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں نے اپنی نگرانی میں آئی ۔جے ۔آئی بنوائی تاکہ بے نظیر کو اقتدار میں آنے سے روکا جائے کیونکہ ان کے نزدیک بی بی کا بر سر اقتدار آنا پاکستان کی سالمیت اور ایٹمی پروگرام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو ا ۔ وہ ایک سے زائد مرتبہ بر سر اقتدار آئیں ، پاکستان کی سالمیت کو کچھ نہ ہوا اور نہ ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند ہوا ۔

سنہ1990کی دہائی میں نواز شریف سکیورٹی رسک قرار پائے تھے کیونکہ’ وہ مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالتے ہوئے بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہار ی واجپائی کے ساتھ مل کر دونوں ممالک میں دوستی کروانا چاہتے تھے ‘۔ اور یہ بات ہمارے حقیقی حکمرانوں کو ناقابل قبول تھی ۔ نواز شریف کو بر سر اقتدار آنے سے روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈا آزمایا گیا لیکن ہر مرحلے پر ناکامی ہوئی اور نواز شریف بر سر اقتدار آکر رہے ۔

اب ہم نے ایم کیو ایم اور اس کے رہنما الطاف حسین کی’ غدارانہ ‘تراش خراش شروع کی ہے ۔ ہمارا میڈیا بڑھ چڑھ کر الطاف حسین کے ’غدارانہ کارناموں ‘کی تشہیر میں لگا ہوا ہے ۔الطاف حسین شرابی ہے ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو کیا پاکستان کی سیاسی قیادت میں وہ واحد شخص ہے جو شرابی ہے ؟۔

الطاف حسین بھتہ مافیا کا سرغنہ ہے یہ بھی درست ہے ، الطاف حسین نے سیاسی مخالفین کو قتل کروایا ، کوئی شبہ نہیں ۔لیکن یہ سب پتہ کب چلا اس وقت جب اس نے سر اٹھا کر چلنے کی بات کی ۔گذشہ تیس سالوں میں کوئی حکومت ایم کیو ایم کی مدد کے بغیر نہیں بن سکی اور مستقبل میں بھی نہیں بنے گی ۔ یہ صرف ڈھونگ ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔

غدار ساز ی کی فیکٹری کو بند کرنے اور سیاسی پارٹیوں اور افراد سے سیاسی انداز میں نبٹنے کی ضرورت ہے ۔ ایم کیوایم کراچی اور حید ر آباد کی منتخب قیادت پر مشتمل ہے اگر کوئی ادارہ سمجھتا ہے کہ عوام کی منتخب قیادت کو سزا دے کر آگے بڑھ سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے اور اس بھول کا خمیازہ ہم ماضی میں ایک سازائد دفعہ بھگت چکے ہیں ۔

One Comment