غریب کی سفارتکاری

شہزادعرفان

حال ہی میں شرم الشیخ، مصر میں تقریباً 200 ممالک کے سفارت کاروں نے اتوار کے روز دو ہفتوں کے موسمیاتی مذاکرات کا اختتام ایک فنڈ کے قیام پر اتفاق کرتے ہوئے کیا جو غریب، کمزور ممالک کو امیر ممالک کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے بدتر ہونے والی موسمیاتی آفات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

پاکستان کی وزیر ماحولیات شیری رحمٰن نے شرم الشیخ مصر میں حالیہ عالمی کانفرنس میں دو سو ممالک کے لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کہ یہ اعلان پوری دنیا کی کمزور کمیونٹیز کو امید فراہم کرتا ہے جو موسمیاتی تناؤ اور تبدیلیوں سے متاثر ہوکراپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،شیری رحمٰن نے کہا، پاکستان حالیہ تباہ کن سیلابو کی وجہ سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیاتھا جس سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

سیاست جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کی بحالی کا نام ہےجسے اقتدار میں حقیقی حصے داری کا مفہوم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیاست کا محور اقتدار کی رسہ کشی میں عدلیہ فوج پارلیمان حکومت اپوزیشن میڈیا مذہبی دینی جماعتیں سمیت سب ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کو دن رات ذلیل رسوا کرنے پر لگے ہیں ۔۔۔کسی کا ایجنڈا اپنی مرضی کا آرمی چیف ہے تو کسی کا ایجنڈا مرضی کا سپریم کورٹ کا جج ۔۔۔کسی کا ایجنڈا کرسی بچانا ہے تو کسی کا کرسی بحال کروانا اور کوئی انتقام اور بدلے کی آگ میں جل کر پاکستان پھونک ڈالنا چاہتا ہے مگر کسی کو بھی اپنی عوام کی کی معاشی بدحالی غربت اور ترقی کی تنزلی کی فکر نہیں ۔

محنت کش مزدور طبقہ جو دن رات پیداواری عمل کا سب سے بڑا حصہ دار ہے وہ کسان بیج سے کپاس پیدا کرے یا پھروہ کارخانے کا مزدور جو کپاس سے کپڑا تیار کرے وہ غریب اس ساری کشمکش میں مارا گیا ہے اور جو رہی سہی کسر باقی تھی وہ حالیہ سیلابوں نے پوری کرکے قوم کو معاشی اخلاقی سیاسی اقتصادی بحران پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس تمام افراتفری کی صورتحال میں اگر آج کوئی جو خاموشی سے بغیر کسی اشتہار یا سیاسی سودے بازی اور اقتدار کی حوس کے بغیر اپنے محکوم غریب طبقے کے لئے دن رات جدوجہد کرتا آ رہا ہے وہ یقینا بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ بغیر اس بات کی پروا کئے کہ جانبدار میڈیا انکی دن رات کی عوامی خدمات اور جدوجہد کو منظرعام پر نہیں لائےگا انکی کسی عالمی یا مقامی فتح کو موڑتوڑ کر پیش کریگا ۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالا ہے دنیا بھر سے لٹے پھٹے تباہ حال خالی خزانہ ملک کو بنیادی معاشی بنیادیں فراہم کرنے اور کامیاب سفارتکاری کی بدولت ملک میں معاشی استحکام کے سے دنیا بھر کے دورے کئے۔۔ بالخصوص ملک میں جاری اقتدار کی جنگ میں دست گریبان ،صاحب اقتدار، طاقتور اداروں کی آپسی جنگ کی پرواہ کئے بغیر ملک کو معاشی طور پر اس قابل بنادیا کہ آج پاکستان بحران سے نکلنے کی امید میں ہے اور وہ غریب محنت کش طبقہ جو اس سیاسی اقتدار کی کشمکش کی وجہ سے مجبور لاچار اپنی سانسیں گن رہا تھا وہ بلاول بھٹو کی معاشی حکمت عملی کی وجہ سے آج بچ گیا ہے۔

گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین کو ان نقصانات کی ادائیگیوں کے اتفاق پر اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات میں سب سے زیادہ متنازعہ مسئلے کے حل کی طرف بڑی پیش رفت ہے۔پچھلے تین دہائیوں سے ترقی پذیر ممالک امیر، صنعتی ممالک پر یہ دباؤ ڈال رہے تھے کہ انہیں موسمیوں تبدیلیوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے کی وجہ سے تباہ کن طوفانوں، گرمی کی لہروں اور خشک سالی کا سامنا ہے جسکے لئے انہیں اخراجات کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔پاکستان نے اس کانفرنس میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔امید ہے کہ پیپلزپارٹی کی اس بڑی کامیابی کا ثمر جلد ہی پاکستان بھر کے تباہ حال سیلاب زدگان کو ملنے والا ہے۔

حقیقی جمہوری سیاسی جماعت کا نظریہ اور جدوجہد اپنی عوام کی خوشحالی ہے جس میں پیپلزپارٹی کامیاب رہی ہے۔ سیلابوں کی تباہ کاریوں کے نقصانات کی بھرپائی دنیا کے طاقتور ممالک سے وصول کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا بالخصوص جب پاکستان میں اقتدار کی گھٹیادرجے کی سیاست دنیا کے خبرناموں میں بطور سرخیاں لگی ہوں مگر یہ پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ٹیم کی دانش اور بروقت حکمت عملی کی بدولت ہی ممکن ہوا کہ پیپلزپارٹی کی شیری رحمن وزیر برائے تحفظ ماحولیات جیسی باصلاحیت خاتون نے اپنے وفد کے ہمراہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے عالمی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

Comments are closed.