سرحد کے دونوں اطراف مُلا کو مسترد کرنا ہوگا


زرک میر

ایران کی طرف سے بلوچستان کو تحفے میں سمگل شدہ تیل ، ٹماٹر اور شیعائیت وافر مقدار میں مل رہی ہیں ۔ تیل اور ٹماٹر کی ترسیل میں رکاوٹ آتی رہتی ہے اور مشکلات الگ سے کیونکہ یہ سمگل ہو کر آتے ہیں لیکن ایران کے مذہبی عزائم اور سرگرمیاں تواتر سے جاری ہیں قانونی اور ریاستی پروٹوکول کیساتھ ۔

یہاں ایرانی تیل بردار گاڑیاں وردی پوشوں سے چھپ چھپ کر پہاڑوں کی اوٹ میں گرتی پڑتی آتی ہیں لیکن زائرین کی گاڑیاں وردی پوشوں کی سخت سیکورٹی میں پہنچائی جاتی ہیں ۔ کس قدر اذیت ناک ہے اس فرق کو محسوس کرنا کہ ہمیں ایران سے کوئی فقہ فرقہ اور فتنہ نہیں بلکہ ایک ہمسائیہ کی طرح زندگی کی ضروریات چاہیئے لیکن وہ دوسرا پنجاب بن کر ہمیں اپنی مرضی کی چیزیں دیتا ہے ، پنجاب کی طرف سے ہم دیوبندی کے درآمدی کا شکار ہیں تو ایران کی طرف سے شیعیت کا ۔

ہمیں پنجاب سے منٹو کے افسانے چاہیئے ، فیض اور جالب کی انقلابی شاعری چاہیئے ۔ بلھے شاہ کا روحانی درس چاہیئے ۔ ایران سے فردوسی سعدی کی فارسی شاعری کی چاشنی چاہیئے لیکن پنجاب ہمیں مسلح وردی پوش اور ایران ہمیں فقہ فرقہ اور فتنہ تھوک کے حساب سے بھیجتا ہے ۔ جبکہ پنجاب سے ہم گندم اور ایران سے تیل پسینے اور پیسے بہا کر اور جان کی قربانی دے کر لیتے ہیں وہ بھی قلیل مقدار میں جس کی قلت ہمیشہ برقرار رہتی ہے لیکن ہمارے ہاں سپاہیوں اور فرقہ پرستوں کی کبھی کوئی قلت نہیں رہی ہے ۔

حالیہ دنوں ایران میں ملائیت کے خلاف ایک لہر اٹھی ہے جس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ نسوانی تحریک ہے جو ملاؤں کی پگڑیاں اچھال رہی ہے ۔ یقینا ایران کو مُلا کی حکومت نے کہیں کا نہیں چھوڑا جہاں امریکہ امریکیوں کے وسائل جنگ میں اور ایرانی ملا ایرانی عوام کے وسائل شیعیت کے فروغ میں جھونک رہا ہے ۔ ایران میں شیعیت کا فروغ کا مشن بلوچستان میں بھی پھیل رہا ہے جس کے ردعمل میں وہابی پرتشدد تحریک چل رہی ہے جس میں نوجوان ایندھن بن رہے ہیں۔ 

ایران کی مُلا حکومت نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے ہمسائیہ ممالک بلوچستان اور افغانستان کیساتھ ہمیشہ مخاصمانہ تعلقات رکھے ۔ ایرانی بارڈ پر لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالنا روز کا معمول بن چکا تھا اور ہے ۔اب جبکہ امریکی پابندیوں کے سبب ایران کا تیل بلوچستان بارڈر سے لانے میں ایران کا اپنا مفاد پنہاں ہے تو وہ اس کی اجازت دے رہا ہے لیکن بارڈ رسے اس طرف وردی پوش سنگین لئے کھڑے رہتے ہیں ۔

اہل بلوچستان کا اس سرحد سے کاروبار چیونٹیوں کا گنجان آبادی میں اپنا شہر بسانے جیسا ہے ۔ جہاں بوٹوں تلے روز اہل بلوچستان کے نوجوان کچلے جارہے ہیں لیکن جس طرح سے چیونٹیاں منہ میں گندم یا چاول کا ایک ایک دانہ لے کر بڑی مشکل سے طویل سفرطے کرکے ٹھکانے پر پہنچتے ہیں عین اسی طرح بارڈر سے تیل کے کین لے کر یہ نوجوان کس قدر مشکلات کا شکار ہیں یہ تو آئے روز رونما واقعات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔ آج کا سوال یہ ہے کہ لوگوں کی بنیادی ضرورت کیلئے یہ تیل کیوں زائرین کی طرح نہیں لایاجاسکتا ۔ دلچسپ یہ ہے کہ زائرین کی وجہ سے لوگوں کو درپیش مشکلات الگ سے ہیں ۔

اب چونکہ خواتین نے ایرانی شیعہ ملائیت کے خلاف نقاب اتار دیئے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ لہر بھی سمگل ہو کر سرحد کے اس پار پہنچے تاکہ ہماری برقعہ پہنے خواتین چغہ پہنے ملاؤں کی دستار اچھال دیں ، ان کو چیلنج سے دوچار کردیں کہ ملائیت کی عمومی عفریت نے ہمیں اندھیرے میں دھکیل دیا ہے اور خواتین کو حجرے میں ۔

یہاں خواتین کو دیوبندی ملا کی عفریت کا سامنا ہے جہاں قلات سے منتخب رکن قومی اسمبلی کہتا ہے کہ موبائل فون کے بیک رنگ ٹون پر چھاتی کے کینسر کا اشتہار کیوں چلایاجاتا ہے ؟ ایسے مولوی کو قلات کی ان خواتین کے بھی ووٹ پڑے ہیں جن کو چھاتی کے کینسر کا عارضہ لاحق رہا ہے جن میں سے اب تک کئی ایسے رکن قومی اسمبلی کی نااہلی وجہ سے مر بھی چکی ہونگی ۔ کیا اب تک خواتین یہاں کے ملاؤں کے فتوؤں سے ڈرتی رہیں گی اور آئندہ بھی یہ خواتین اپنی چھاتیاں اور سینے کا ابھارساتھ لے کر قلات کے پولنگ اسٹیشنز پر آکر مولوی کو ووٹ ڈالیں گی ۔ نہیں قطعی نہیں ۔ ایسا ہونا بھی نہیں چاہیئے ۔

آخوند باید گم باشہ (مُلا کومسترد کرنا ہونا ہوگا)۔

Comments are closed.