کیا بھٹو مذہبی انتہا پسندی کا ذمہ دار ہے؟


شعیب عادل

پاکستان میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی پر بات ہوتی ہے تو عمومی طور پر اس کاذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھہرایا جاتا ہے اگر وہ آئین میں دوسری ترمیم نہ کرتے یعنی احمدیوں کو غیر مسلم نہ قرار دیتے توملک نہ صرف انتہا پسندی کی طرف نہ جاتا اور نہ ہی ضیا الحق مزید قانون سازی کرتا۔ اور آج پاکستان میں جتنی بھی انتہا پسندی ہے اس کی بنیادی وجہ بھٹو ہے جس نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔

بھٹو کو مذہبی انتہا پسندی کا ذمہ دار قراردینے کے ساتھ ساتھ اور اس سے جڑی جھوٹی کہانیوں کا آغاز جنرل ضیا کے دور میں شروع ہوا۔ جب جنرل ضیا نے جماعت اسلامی کے رہنما مولانا محمود اعظم فاروقی کو وزیراطلاعات بنایا جنھوں نے ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں جماعتی دانشوروں کو بھرتی کرا یا۔

اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ بنیادی طور پر تحریک پاکستان ہی بنیاد پرستی کی تحریک تھی۔ تحریک پاکستان کے دور میں مسلم سٹوڈنٹس کا کردار انتہائی شرمناک تھا۔ قاضی عابد نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ مولانا ابوالکلام ٹرین میں سفر کررہے تھے جب ٹرین علی گڑھ کے سٹیشن پر رکی تو علی گڑھ کالج کے طالب علموں نے ابوالکلام آزاد پر اس لیے تھوکا اور ان کی داڑھی نوچنے کی کوشش کی کہ وہ کانگریسی تھے۔ معروف تاریخ دان عرفان حبیب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب میں علی گڑھ سکول میں زیر تعلیم تھا تو مسلم طلبا مجھے آتے جاتے دھکے دیتے تھے کیونکہ میرے والد پروفیسر محمد حبیب مسلم لیگ کی بجائے کانگریسی تھے۔

قیام پاکستان کی تحریک ایک مذہبی تحریک تھی۔ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے مذہبی کارڈ کھیلا جبکہ مولانا ابو لکلام آزاد نے مذہبی کارڈ کی مخالفت کی ۔ جس پر محمد علی جناح نے ابوالکلام آزاد کو کانگریس کے شو بوائے کا نام دیا تھا۔ یاد رہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے تحریک پاکستان کی حمایت کی تھی۔ اسی طرح جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے بھی تحریک پاکستان کی پرجوش حمایت کی تھی ۔ ہر کوئی پاکستان کو اپنے نظریات کی لیبارٹری بنانے کے لیے بے چین تھا۔

پھر تقسیم ہند کے موقع پر جو ہندو مسلم فسادات ہوئے ۔ کیا یہ سب کچھ مذہبی انتہا پسندی کا نتیجہ نہیں تھا؟ بدقسمتی سے اس کی ابتدا راولپنڈی میں مسلمانوں نے ہی کی اور ان فسادات میں ایک اندازے کے مطابق چھ سے دس لاکھ افراد قتل ہوئے۔

احمدیوں کے خلاف بیان بازی ، انہیں کافر قرار دینا اور جلسہ جلوس تقسیم ہند سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ دراصل جس دن مرزا غلام احمد نے نبوت یا مسیح موعود کا دعویٰ کیا اسی دن مولویوں کی جانب سے ان کی مخالفت شروع ہو گئی تھی اور یہ جھگڑا پاکستانی ریاست کو جہیز میں ملا تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی ایک سیکولر ملک قرار دے کر سب مولویوں کو ان کی حدود میں رکھا جاتا لیکن قیام کے فورا بعد مسلم لیگ نے اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے مذہب کا استعمال شروع کردیا تھا ۔مولویوں کی سرپرستی شروع کی اور انھیں ریڈیو پاکستان پر درس قرآن جیسے پروگرام دیئے گئے۔۔۔۔اور پھر سب سے بڑھ کر کشمیر آزاد کرنے کرانے کے لیے قبائلی لشکر بھیج دیا جسے جہاد کشمیر کا نام دیا گیا۔۔۔ کیا یہ مذہبی انتہا پسندی نہیں تھی؟

منیر انکوائری رپورٹ میں واضح پر لکھا ہے کہ سن 53 ،میں احمدی مخالف فسادات میں کیسے پنجاب حکومت نے عوام الناس کو احمدیوں کے خلاف اکسایا اور نتیجے میں مارشل لا لگا۔ ان فسادات کا اصل مقصد ممتاز دولتانہ کی وزارت اعلیٰ کو ختم کرنا تھا جس کے لیے ایسٹیبلشمنٹ نے مذہبی کارڈ کھیلا اور پنجاب حکومت کے شعبہ اطلاعات نے اس میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جب مارشل لا لگ گیا تو پھر سب امن سے بیٹھ گئے۔ امریکہ میں مقیم کچھ احمدی احباب،جو ربوہ میں پلے بڑھےہیں ،کاکہنا ہے کہ 53 کے فسادات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود بجھ سے گئے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں کہ پاکستان میں ہمارے خلاف اس طرح کے فسادات ہوں گے اور قریبی احباب سے تاسف کا اظہار کرتے تھے۔

لیکن تھوڑے بہت فرق کے ساتھ احمدیوں کے خلاف مولو یوں کا احتجاج جاری رہا۔ وہ احمدیوں کے بائیکاٹ کی مہم چلاتے رہتے تھے۔ جب بھٹو دور میں قومی اسمبلی میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد پیش ہوئی تو بھٹو کو فی الفور یہ کہنا چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے عقائد کا فیصلہ کرے لہذا یہ قرارداد غیر متعلق ہے۔ خیر جب قرارد پیش ہوئی تو پھر جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی دعوت دی گئی جو انھوں نے بخوشی قبول کی۔ تجزیہ نگار وں کے نزدیک یہ ان کی غلطی تھی۔

مرزا ناصر احمد کو کہنا چاہیے تھا کہ جناب ریاست کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کے مذہبی عقائد کا فیصلہ کرے لہذا میں پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہوں۔ اور نہ ہی میں پارلیمنٹ میں پیش ہو کر اپنی صفائی دینا چاہتا ہوں۔ لیکن ہوا کیا کہ مرزا ناصر احمد کا خیال تھا کہ ہمارے پاس ارکان اسمبلی کو تبلیغ کرنے کا ایک گولڈن چانس ہے اور انھوں نے اس کے لیے باقاعدہ ایک پمفلٹ، محضر نامہ، شائع کروایا اور ارکان اسمبلی میں تقسیم کیا اور اسمبلی میں پڑھ کر بھی سنایا۔ ان کی خوش فہمی تھی کہ جب ہم اپنی تعلیمات پیش کریں گے تو ارکان اسمبلی اس پر ایمان لے آئیں گے۔

اسمبلی میں کافی سوال و جواب ہوئے۔ جب اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر احمد سے پوچھا کہ اگر کوئی مرزا غلام احمد پر یقین نہیں رکھتا تو آپ کے نزدیک کیا وہ مسلمان ہے ۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ اسلام کے دو دائرے ہیں۔ ایک دائرے میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہیں اور دوسرے دائرے میں وہ لوگ شامل ہیں جو حقیقی طور پر اسلام کونہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس پر ایمان بھی لاتے ہیں۔ تجزیہ نگار اس کی تشریح کچھ یوں کرتے ہیں کہ جو مرزا غلام احمد پر بطور نبی یا مسیح موعود ایمان نہیں رکھتے وہ آدھے مسلمان ہیں اور آدھے کافر۔

امریکہ میں مجھے کچھ احمدیوں سے گفتگو کا موقع ملا تو ان کا کہنا تھا کہ جب جنرل ضیا کے دور میں احمدیوں کے خلاف مزید قوانین بنائے جارہے تھے تو مرزا ناصر احمد کے وکلا نے نجی محفلوں میں اس بات پر تاسف کا اظہار کیا تھا کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہمیں پارلیمنٹ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ اورامکان تھا کہ اس پررائے شماری نہ ہوتی اور اگر ہوتی بھی تو علما ارکان کے علاوہ رائے شماری میں کوئی حصہ نہ لیتا ۔ قرارد اد داخل دفتر ہوجاتی ۔ ہاں اگر اس کے باوجود پارلیمنٹ ہمارے خلاف فیصلہ کرتی جو کہ یکطرفہ ہوتا تو پھر ہماری پوزیشن مضبوط ہوتی اور ہم اعلیٰ عدالت میں پٹیشن دائر کر سکتے تھے کہ ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں کے عقائد کا فیصلہ کرے۔عدالت ہمارے حق میں فیصلہ کرتی یا نہ کرتی لیکن ہماری پوزیشن مضبوط ہوتی۔

کوئی بھی انسان چاہے وہ سیاست دان ہو یا مذہبی رہنما غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ غلطیاں ہوتی ہیں اور سیاسی عمل ان غلطیوں کی تلافی کرتا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اس کی تلافی کے لیے میثاق جمہوریت دستاویز تیار کی اور نواز شریف کو آمادہ کیا لیکن ایسٹیبلشمنٹ نے موقع نہیں دیا۔ آصف علی زرداری کو موقع ملا بلکہ اس نے سیاسی فہم وفراست کے ذریعے موقع پید ا کیا اور 2010 میں ، میثاق جمہوریت کے مطابق اٹھارویں ترمیم کی تیاری کے وقت پیپلز پارٹی نے آئین سے ضیا دور کے قوانین ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تو نواز شریف نے یہ ترامیم ختم نہیں کرنے دیں اور کہا کہ آئین کی شق 62 اور63 سمیت ضیا دور کی کی گئی قانون سازی ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ قوانین پاکستان کی اساس ہیں ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک گولڈن چانس تھا اور سیکولرازم کی طرف ایک قدم تھا جسے نواز شریف کی ہٹ دھرمی نے گنوا دیا ۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد جن جماعتی دانشوروں نے بھٹو کو مذہبی انتہا پسندی کا ذمہ دار قرار دینے کی مہم چلائی تھی اب پٹواری صحافیوں نے اس کا چارج سنبھال لیا۔ ہے۔ اور مذہبی قوانین کو پاکستان کی اساس قرار دینے والے کو پٹواری صحافی اب اسے سقراط ، منصور اور مارٹن لوتھر کنگ کی صفوں میں شامل کر رہے ہیں اور الٹا بھٹو پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے ارتقا کو زنجیریں پہنا دیں ۔

Comments are closed.