صرف فراخ دلی ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کر سکتی ہے

یوال نوح ہریری

اسرائیلی اور فلسطینی دونوں قومیں دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان واقع ایک ہی زمین پر حقِ ملکیت کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر درحقیقت یہ زمین اتنی وسیع اور مالدار ہے کہ اس میں موجود تمام لوگوں کو تحفظ، خوشحالی اور وقار کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔ اگر ہم تمام اخلاقی فیصلوں اور نظریاتی دعوؤں کو ایک طرف رکھ دیں، اور صرف یہ حساب لگائیں کہ اس زمین میں کتنے مربع کلومیٹر رقبہ ہے، کتنے کلو واٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے، کتنے کلوگرام گندم درآمد کی جا سکتی ہے، اور کتنے پانی کے مالیکیول پمپ یا سمندر کے پانی کو صاف کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ زمین تمام اسرائیلیوں اور تمام فلسطینیوں کو بآسانی سہارا دے سکتی ہے۔

اسرائیلی۔فلسطینی تنازع کو ہوا دینے والی چیز زمین یا وسائل کی حقیقی کمی نہیں، بلکہ وہ جھوٹی اخلاقی یقین دہانیاں ہیں جو حد سے زیادہ سادہ کیے گئے تاریخی بیانیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ بہت سے اسرائیلی اور فلسطینی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ سو فیصد درست ہیں اور دوسری جانب والے سو فیصد غلط، اور اسی لیے دوسری قوم کے وجود کا کوئی حق نہیں۔

اگرچہ حالات انہیں کسی نہ کسی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیں، پھر بھی دونوں فریق اسے ایک عارضی قدم سمجھتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ طویل مدت میں مکمل انصاف قائم ہوگا اور وہ پوری سرزمین پر قبضہ حاصل کر لیں گے۔ مزید یہ کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اخلاقی یقین سے واقف ہیں — اور اسی وجہ سے خوفزدہ بھی ہیں۔ دونوں کو خوف ہے کہ دوسرا انہیں ختم کرنا چاہتا ہے، اور اس خوف میں دونوں کی سوچ درست ہے۔

تشدد اور تکلیف کے اس سلسلے کو تب ہی توڑا جا سکتا ہے جب لوگ اپنی اخلاقی یقین دہانیوں سے دستبردار ہو کر عملی اور فراخ دلانہ حل کی حمایت کریں۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ جھوٹی اور تباہ کن اخلاقی یقین دہانیاں کہاں سے آتی ہیں، ہمیں دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کی سرزمین کی طویل المیعاد تاریخ اور ان بگڑے ہوئے تاریخی بیانیوں کا جائزہ لینا ہوگا جو اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور دنیا بھر کے بہت سے لوگوں نے بہت طویل عرصے تک پروان چڑھائے ہیں۔

وہ بیانیہ جو فلسطینیوں کے اخلاقی یقین کو جنم دیتا ہے کچھ یوں ہے: فلسطینی وہ اصل مقامی باشندے ہیں جو دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کی سرزمین کے مالک تھے۔ یہ زمین ہمیشہ ان کی رہی، یہاں تک کہ یہودی آئے اور اسے چھین لیا۔ اس فلسطینی نقطہ نظر کے مطابق، یہودی یورپی نوآبادیاتی طاقت ہیں۔ وہ انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے وسیع نوآبادیاتی منصوبے کے تحت مشرقِ وسطیٰ آئے۔ جیسے عیسائی یورپیوں نے جنوبی افریقہ کو فتح کرکے وہاں آبادیاں قائم کیں، ویسے ہی یہودی یورپیوں نے فلسطین کو فتح کرکے وہاں بستیاں بنائیں۔ سیاسی مجبوریوں کے تحت فلسطینی وقتی طور پر یہودی آبادکاروں سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں، مگر دل سے وہ جانتے ہیں کہ یہودیوں کا اس سرزمین سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہیں یہاں رہنے کا حق ہے۔

اس کے مقابلے میں وہ بیانیہ جو اسرائیلیوں کے اخلاقی یقین کو جنم دیتا ہے کچھ اس طرح ہے: یہودی دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کی سرزمین کے اصل مقامی لوگ ہیں۔ رومیوں نے انہیں اس سرزمین سے بے دخل کیا۔ جلاوطنی کے دوران یہودی ہمیشہ اپنی آبائی سرزمین پر لوٹنا چاہتے تھے، مگر انہیں دشمن سامراجی طاقتوں نے ایسا کرنے سے روکے رکھا۔ آخرکار، انیسویں صدی کے آخر میں صہیونی تحریک نے یہودیوں کو متحرک کیا کہ وہ عظیم رکاوٹوں پر قابو پائیں، اس سرزمین پر واپس آئیں اور اپنی قدیم میراث دوبارہ حاصل کریں۔

جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے، بہت سے اسرائیلیوں کا یقین ہے کہ ’’فلسطینی‘‘ نام کی کوئی قوم موجود ہی نہیں۔ ان کے مطابق جب انیسویں صدی کے آخر میں صہیونی یہودی اپنی سرزمین پر واپس آنے لگے تو یہ خطہ تقریباً خالی تھا۔ اگرچہ یہاں چند خانہ بدوش قبائل اور غربت زدہ بستیاں موجود تھیں، مگر ان کی تعداد کم تھی اور وہ کسی واضح فلسطینی قوم کی شکل نہیں تھیں۔

اوپر بیان کردہ دونوں بیانیے زیادہ تر تاریخی حقائق کے خلاف جاتے ہیں۔ آئیے چند نمایاں تاریخی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں، اور پھر دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ دونوں بیانیے ایک دوسرے کے قریب لائے جا سکتے ہیں۔

اسرائیلی بیانیے کی غلطیاں

یہ دعویٰ کہ یہودی دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کی سرزمین کے ’’اصل مقامی باشندے‘‘ ہیں، سراسر غلط ہے، کیونکہ اس سرزمین کا کوئی ’’پہلا اور واحد مقامی گروہ‘‘ نہیں تھا۔ زمین کی طرح یہ خطہ بھی ہزاروں سالوں کے دوران مختلف اقوام کے بسنے اور دوبارہ بسنے کا مرکز رہا، بہت پہلے اس سے پہلے کہ کوئی یہودی (یا فلسطینی) وہاں رہتا۔

یہ درست ہے کہ پہلی ہزار سال قبل مسیح کے چند صدیوں میں یہودی آبادی کا بڑا حصہ تھے، مگر وہ اس خطے کے واحد باشندے نہیں تھے۔ ان سے پہلے یہاں کنعانی، نطوفی اور یہاں تک کہ نیندرتهال بھی رہتے تھے — اور کوئی معقول وجہ موجود نہیں کہ پہلی ہزار سال قبل مسیح کو اس زمین کی تاریخ کا نقطۂ آغاز مانا جائے۔

اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ یہودیوں کو رومیوں نے یا کسی دوسری سلطنت نے مکمل طور پر اس سرزمین سے نکال دیا تھا۔ عظیم یہودی بغاوت اور بار کوخبا بغاوت کے بعد رومیوں نے بہت سے یہودیوں کو غلام بنایا اور انہیں خاص علاقوں، خصوصاً یروشلم میں رہنے سے روکا، مگر کبھی کوئی ایسا حکم جاری نہیں ہوا جس کے ذریعے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے اس سرزمین سے نکال دیا گیا ہو۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ مشنا اور یروشلم تلمود کے مصنفین رومی دور میں بھی وہیں رہتے تھے۔زیادہ تر یہودی وقت کے ساتھ بہتر زندگی اور معاشی مواقع کی تلاش میں رضاکارانہ طور پر ہجرت کر گئے۔ عظیم بغاوت سے پہلے ہی تقریباً آدھے یہودی مصر، بین النہرین اور دیگر علاقوں میں رہتے تھے۔

بعد میں جب اکثریت نے ہجرت کر لی تو انہیں واپسی سے کسی نے نہیں روکا۔ رومی، عرب اور عثمانی سلطنتوں نے کبھی یہودیوں کی آمد پر پابندی نہیں لگائی — بلکہ عثمانیوں نے بعض اوقات ان کی حوصلہ افزائی بھی کی، جیسا کہ 1560 کی دہائی میں ڈونا گراسیا مینڈس ناسی کو طبریہ میں یہودیوں کی آبادکاری کے لیے سرکاری حمایت ملی۔

اس کے باوجود جدید صہیونیت سے پہلے بہت کم یہودی اس خطے میں رہنا چاہتے تھے، لہٰذا وہ آبادی کا صرف تقریباً 5 فیصد تھے۔

اسرائیلی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگرچہ یہودی کم تعداد میں آئے، مگر دنیا بھر کے تمام یہودی اپنی واپسی کی دعا کرتے رہے۔ مگر دعا کسی پراپرٹی کے دعوے کی مضبوط بنیاد نہیں بنتی۔ اگر میرے پڑوسی کا گھر خوبصورت ہو اور میں روز دعا کروں کہ ایک دن وہ گھر میرا ہو جائے — تو کتنی دعاؤں کے بعد میں رجسٹری آفس جا کر اس کے گھر کا انتقال اپنے نام کرا سکتا ہوں؟

جہاں تک فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی بیانیے کا تعلق ہے، تو انیسویں صدی کے آخر میں جب پہلے صہیونی فلسطین آئے تو سرزمین خالی نہیں تھی۔ یہاں نہ صرف سینکڑوں دیہات اور یروشلم موجود تھا، بلکہ عکا، جاپا (یافا)، غزہ، نابلس اور الخلیل جیسے اہم شہر بھی قائم تھے۔یہ ضرور بحث ہو سکتی ہے کہ اس دور کے مسلمان، عیسائی اور یہودی خود کو ’’فلسطینی قوم‘‘ سمجھتے تھے یا نہیں۔ مگر اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ انیسویں صدی میں فلسطینی قومی شناخت بہت مضبوط نہیں تھی — تو بھی یہ بات فلسطینی قوم کے آج کے حق کو غلط نہیں کرتی۔تمام قومیں وقت کے ساتھ بنتی ہیں — اور دو صدیاں کسی قوم کی تشکیل اور تسلیم کے لیے کافی ہوتی ہیں۔

جو لوگ شیشے کے گھر میں رہتے ہیں، انہیں پڑوسیوں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہییں۔ انیسویں صدی میں خود یہودیوں کے پاس بھی کوئی مضبوط اور واضح قومی شناخت نہیں تھی۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یہودیوں کی اکثریت نے صہیونیت کے تصور کو رد کر دیا تھا، اور وہ اپنے ممالک چھوڑ کر ایک یہودی قومی ریاست بنانے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ جو یہودی پولینڈ جیسے مقامات میں یہود دشمنی اور جنگ کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے، وہ امریکہ، کینیڈا یا ارجنٹینا جانا زیادہ پسند کرتے تھے، نہ کہ دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کی سرزمین۔ 1880 سے 1924 کے درمیان، یہودی مہاجرین میں سے صرف تقریباً 3.5 فیصد وہاں گئے۔

فلسطینی بیانیے کی غلطیاں

اسرائیلی بیانیے میں موجود اخلاقی یقین کی واضح خامیاں یہ ضرور ثابت کرتی ہیں کہ وہ درست نہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ فلسطینی بیانیہ مکمل طور پر درست ہے۔ فلسطینیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ اس سرزمین کے ’’اصل مقامی باشندے‘‘ ہیں، بالکل اسی مسئلے کا شکار ہے جس کا سامنا یہودی دعوے کو ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اس خطے کا کوئی ’’اصل اور واحد مقامی گروہ‘‘ موجود نہیں — جب تک کہ ہم ان نیندرتهال لوگوں کے حقوق کی وکالت نہ کریں جو یہاں ہزاروں سال پہلے افریقہ سے آنے والے پہلے انسانوں سے بھی پہلے رہتے تھے۔

صدیوں تک اس خطے کو بار بار فتح کیا گیا، اور اس میں نئی آبادیاں بستی رہیں۔

اپنی پوری تاریخ میں کبھی بھی دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کا یہ جغرافیائی علاقہ ایسے کسی آزاد ریاست کے ساتھ پوری طرح نہیں جڑا جسے ’’فلسطین‘‘ کہا جاتا ہو۔ ’’فلسطین‘‘ نام قدیم ہے، فِلستیوں کے دور سے لے کر رومی بادشاہ ہیڈریان کے اس فیصلے تک کہ بار کوخبا بغاوت کی سزا کے طور پر صوبۂ یہودیہ کا نام بدل کر سوریہ فلسطینہ کر دیا جائے۔ مگر صدیوں تک یہ خطہ کبھی چھوٹی سیاسی اکائیوں کا مجموعہ رہا، اور کبھی کسی بڑے سامراج کا صوبہ۔

586 قبل مسیح میں یہوداہ کی بادشاہت کے سقوط سے لے کر 1948 میں اسرائیل کے قیام تک، صرف دو بار مقامی آزاد حکومتوں نے اس بڑے حصے پر طویل عرصے تک حکمرانی کی — یہودی ہسمونی سلطنت (تقریباً 140–37 قبل مسیح) اور صلیبیوں کی بادشاہتِ یروشلم (1099–1291)۔

ساتویں صدی عیسوی میں عرب سلطنت نے اس خطے کو مشرقی رومی سلطنت سے فتح کیا، مگر عرب سلطنت کی یہ توسیع پسندی، رومی یا برطانوی استعمار سے اخلاقی طور پر زیادہ بہتر نہیں تھی۔ اگر کوئی شخص مانتا ہے کہ برطانوی سامراج کو19ویں صدی میں جنوبی افریقہ یا بیسویں صدی میں فلسطین فتح کرنے کا کوئی حق نہیں تھا، تو اسے یہ بھی ماننا ہوگا کہ عرب سلطنت کو بھی ساتویں صدی میں اس خطے کو فتح کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔

درحقیقت، وہ برطانوی سلطنت تھی — نہ کہ پہلے کی مسلم سلطنتیں — جس نے آج کے فلسطینی شناخت کے تصور کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ عثمانیوں کے آخری دور میں یہ خطہ کئی انتظامی علاقوں میں تقسیم تھا؛ عکا اور غزہ جیسے شہر مختلف صوبوں کا حصہ تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی اور فرانسیسی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ بنایا، اور بنیادی طور پر برطانیہ نے فیصلہ کیا کہ اب عکا اور غزہ کے لوگ ایک ہی سیاسی اکائی — برطانوی مینڈیٹ فلسطین — کا حصہ ہوں گے۔

جہاں تک فلسطینی، اس خیال کا تعلق ہے کہ اسرائیلی یورپی نوآبادیاتی آبادکاروں کی اولاد ہیں، اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان کے خطے میں گزشتہ 3,000 سالوں سے نمایاں یہودی آبادی موجود رہی ہے، اور یہودی تعلق اس خطے سے کوئی جدید داستان نہیں، بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔

جب برطانوی آبادکار جنوبی افریقہ میں زمین کھودتے تھے، انہیں کبھی 2,000 سال پرانے انگریزی نقوش نہیں ملے۔لیکن جب اسرائیل میں لوگ گھر یا سڑک کی بنیاد کھودتے ہیں، تو انہیں کبھی کبھار 2,000 سال پرانے عبرانی نقوش مل جاتے ہیں۔

اس حقیقت سے یہودیوں کو زمین پر مکمل ملکیت کا حق نہیں مل جاتا، کیونکہ اس سرزمین میں عربی، لاطینی، یونانی، آرامی، کنعانی اور کئی دیگر زبانوں کے بھی قدیم آثار موجود ہیں۔ لیکن یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ انتہائی گمراہ کن بات ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں یہودی موجودگی کو جدید یورپی نوآبادیاتی نظام کی کہانی کے ذریعے سمجھا جائے۔ خاص طور پر یہ دعویٰ تکلیف دہ ہے کہ اسرائیلی یہودی ’’یورپی نوآبادیاتی آبادکار‘‘ ہیں، جبکہ آج کے اسرائیلی یہودیوں میں سے تقریباً آدھے اُن مشرقِ وسطیٰ کے یہودی پناہ گزینوں کی اولاد ہیں جنہیں 1948 کے بعد مصر، عراق اور یمن جیسے ممالک سے صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ عرب دنیا اسرائیل کے ہاتھوں بار بار شکست کھا چکی تھی۔

فیاضی پر مبنی امن

سنہ1920 کی دہائی کے آغاز میں، جب برطانوی حکومت نئی ریاست فلسطین کی سرحدیں بنا رہی تھی، اس خطے کے اصلی باشندوں کا زمین پر حق اُن لوگوں سے کہیں زیادہ تھا جو بیرونِ ملک سے آ رہے تھے۔ اُس وقت، برطانوی فلسطین کی آبادی کا صرف 10 فیصد حصہ یہودی تھا۔ یہ حقیقت کہ دو ہزار سال پہلے کسی یہودی بادشاہت نے اس خطے پر حکومت کی تھی، بیسویں صدی میں یہودیوں کو اس سرزمین کے مالک ہونے کا قانونی حق نہیں دیتی تھی۔ اسی طرح بیسویں صدی میں یہودیوں کو دنیا بھر میں ظلم اور جبر کا سامنا تھا، لیکن یہ مسئلہ فلسطینیوں نے پیدا نہیں کیا تھا — اور نہ ہی اسے حل کرنا فلسطینیوں کی ذمہ داری تھی۔

لیکن 1920 سے اب تک ایک صدی سے زیادہ گزر چکی ہے — اور تاریخ میں وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔

سنہ2020 کی دہائی میں، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کا اس سرزمین پر حق ہے — سادہ سی وجہ یہ ہے کہ دونوں یہاں رہتے ہیں اور دونوں کے پاس کہیں اور جانے کی جگہ نہیں۔ آج یہ خطہ 70 لاکھ سے زیادہ یہودیوں کا گھر ہے، جن میں اکثریت وہیں پیدا ہوئی ہے اور جن کے پاس کوئی دوسری سرزمین نہیں۔ اور اسی طرح یہ خطہ 70 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کا گھر بھی ہے — جو بھی وہیں پیدا ہوئے، اور جن کے لیے بھی کہیں اور کوئی جگہ نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اسرائیلی مکمل طور پر درست ہیں، نہ فلسطینی — اور نہ کسی فریق کے پاس یہ جواز ہے کہ وہ دوسرے کے مکمل خاتمے کی خواہش کرے۔ آج کی جنگ یا تشدد نہ ماضی کے مرنے والوں کو زندہ کر سکتا ہے، نہ پرانے زخموں کو مٹا سکتا ہے۔ مگر یہ ممکن ہے کہ آنے والی جنگوں اور ظلم کو روکا جائے۔

یہ تب تک ممکن نہیں جب تک دونوں فریق ایک عارضی سمجھوتے پر نہیں بلکہ ایک مستقل ذہنی تبدیلی پر آمادہ ہوں۔ جب تک ہر فریق خود کو 100 فیصد درست اور دوسرے کو 100 فیصد غلط سمجھے گا، امن کبھی قائم نہیں ہوگا۔

جنگ کا سلسلہ تب ختم ہو سکتا ہے جب:

  • دونوں فریق اپنی اخلاقی مطلقیت ترک کر دیں،۔

  • ایک دوسرے کے وجود کے حق کو تسلیم کریں،۔

  • اور مٹھی بند جنگ بندی کے بجائے کھلے ہاتھوں سے امن کی پیشکش کریں۔

دونوں کو خود سے سوال کرنا ہوگا:۔
اگر میں دوسری طرف ہوتا تو مجھے تحفظ، خوشحالی اور وقار کے ساتھ جینے کے لیے کیا چاہیے ہوتا؟”

سب سے بڑھ کر، دونوں کو فیاضی دکھانی ہوگی۔

اسرائیلیوں کو چاہیے کہ ہر پہاڑی یا چشمے پر جھگڑا نہ کریں۔ اسرائیل کے لیے اچھا امن وہ نہیں جو اسے ایک مربع کلومیٹر مزید زمین دے — بلکہ وہ ہے جو اسے اچھے ہمسائے دے۔ اسرائیل کی بہترین دلچسپی اسی میں ہے کہ فلسطین ایک محفوظ، خوشحال اور پر وقار ملک ہو — اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک فلسطین ایک حقیقی ریاست نہ ہو، نہ کہ باڑوں اور چیک پوسٹوں میں بٹا ہوا علاقہ۔

فلسطینیوں کو بھی فیاضی دکھانی ہوگی — اور جو چیز وہ اسرائیل کو دے سکتے ہیں، وہ کسی وادی یا درخت سے زیادہ قیمتی ہے:

قانونی جواز

اسرائیلیوں کے دل میں مسلسل فنا ہونے کا خوف ہے — اور تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ خوف بے بنیاد نہیں۔ آج طاقت کا پلڑا اسرائیل کے حق میں جھکا ہے، مگر عرب اور مسلم دنیا آبادی اور حجم میں اسرائیل سے کئی گنا بڑی ہے — اور مستقبل میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

اگر فلسطینی واقعی اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کر لیں، تو اس سے پورا عرب اور مسلم دنیا بھی ایسا کرنے کا راستہ پائے گی۔ تب ہی اسرائیلی آزادانہ سانس لیں گے — اور تب ہی فلسطینی بھی آخرکار امن کے ساتھ جی سکیں گے۔

دونوں فریقوں کو فیاضی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ صرف یہی ایک چیز ہے جو دیر ہونے سے پہلے امن کو یقینی بنا سکتی ہے۔ جوشیلے لوگ ہمیشہ ابدیت کی بات کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس دنیا کا سارا وقت ہے۔ مگر ابدیت ایک وہم ہے، اور وقت سب کے لیے تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ لاکھوں سال پہلے نہ اسرائیلی موجود تھے نہ فلسطینی۔ انسان بھی موجود نہیں تھے۔ اور اب تمام انسانوں کا مستقبل خطرے میں ہے، ان طاقتور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث جو ہم بنا رہے ہیں — اگلی نسل کے ایٹمی ہتھیاروں سے لے کر اے آئی ڈرون جھرمٹوں اور مکمل خودکار فوجوں تک۔

دہائیوں تک اسرائیلفلسطین تنازع کے حل کے لیے یہ نعرہ تھا: ’’دو قوموں کے لیے دو ریاستیں۔‘‘ اگر دونوں قومیں زیادہ فراخ دلی نہیں دکھا سکتیں، تو ممکن ہے اس تنازع کا آخری حل یہ بن جائے: ’’صفر قومیں اور صفر ریاستیں۔‘‘

Comments are closed.