وینزویلا اور ایران کے حکمرانوں کی توجہ اپنی عوام کی بجائے دنیا کو درست کرنے پر تھی

ایران اور وینزویلا میں دونوں تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے عوام اور ملک کو خوشحال بنانے کی بجائے امریکہ کو لتاڑنے میں لگ گئے۔۔۔ جس سے امریکہ کا تو کچھ نہیں بگڑا مگر دونوں ملک اپنے اپنے عوام کے لیے جہنم بن چکے ہیں۔

وینزویلا کے رہنما ہوگو شاویز فوج میں افسر تھے۔ 1992 میں انھوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن بغاوت ناکام ہوگئی اور انھیں جیل بھیج دیا گیا۔ خیر رہائی کے بعد انھوں نے بائیں بازو کی سیاست شروع کی اور دسمبر 1998 میں بھاری اکثریت سے الیکشن میں کامیاب ہوئے اور صدر بنے۔ انھوں نے نئے آئین کو متعارف کرایا اورصدر کی مدت دو ٹرم رکھی۔ انھوں نے تیل کے کاروبار کو نیشنلائز کیا اورلاطینی امریکہ کے غریب ممالک خاص کر کیوبا کو بہت ہی کم قیمت پر ڈاکٹروں کے بدلے تیل دیا۔ لیکن اپنے ملک میں کوئی سماجی ومعاشی تبدیلی لانے میں ناکام رہے اور ان کی توجہ اپنے آپ کو مضبوط بنانے اور لاطینی امریکہ میں امریکہ کے مفادات کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔جب آپ خطے میں امریکی مفادات کو چیلنج کرتے ہیں تو پھر آپ کی مدد کے لیے چین اور روس بھی آتے ہیں اور آپ کو ہلہ شیری دیتے ہیں۔

انہی دنوں ایران میں صدر احمدی نژاد منتخب ہوئے تھے اور وہ بھی امریکہ دشمنی میں ہوگو شاویز کے ساتھ مل گئے اور دونوں نے امریکہ دشمنی کے نام پر اپنی اپنی سیاست شروع کی۔

ہوگو شاویز دوسری دفعہ بھی صدر منتخب ہوئے مگر اس دفعہ ان کو بھاری اکثریت نہ مل سکی اور انھوں نے اپنے ہی آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے صدر کی دو ٹرم کی مدت کو ختم کردیا تاکہ وہ تاحیات صدر رہ سکیں۔ان کی دوسری ٹرم میں ہی ملک کے معاشی حالات خراب ہونے شروع ہوگئے اور عوام میں بے چینی پھیلنا شروع ہوگئی۔ہوگو شاویز نے اپنے انتہائی معتبر ساتھ ماڈورو کو نائب صدر مقرر کیا۔ 2012 میں شاویز کا انتقال ہو گیا اور ماڈورو صدر بن گئے۔

ماڈورو نے شاویز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو دبانا شروع کردیا۔ان کے قریبی ساتھی دن بدن دولت مند ہوتے گئے۔ اور عوام غریب سے غریب تر۔بائیں بازو کی سیاست کے نام پر پہلے شاویز اور پھر ماڈورو ڈکٹیٹر بن چکے تھے۔

ماڈورو نے 2013 میں سپیشل الیکشن کروایا اور صدر منتخب ہوئے پھر 2018 میں الیکشن کے ذریعے صدر منتخب ہوئے اور پھر 2024 میں الیکشن کے ذریعے اپنے اپ کو صدر منتخب کروایا۔ تینوں الیکشنز میں ان پر دھاندلی کے الزامات تھے لیکن 2018 میں حالات بہت خراب ہوچکے تھے۔ اپنے مخالفین کو مروایا،۔ جیلوں میں ڈالا اور لاکھوں شہری لاطینی امریکہ کے دوسرے ملکوں کو بھاگ گئے۔

مجھے بائیں بازو کی سیاست سے کوئی عناد نہیں لیکن اگر یہ اپنے ملک کے عوام کی حالت بدلنے کی بجائے دنیا کے حالات بدلنے پر لگ جائے تو پھر یہ سیاست انتہائی غلط ہے۔ایران میں بائیں بازو کی بجائے ملائیت تھی لیکن دونوں کا امریکہ دشمنی پر اتحاد ہوگیا اور وسائل عوام کی بجائے دشمن داری پر خرش ہونا شروع ہوگئے۔

Comments are closed.