آیت اللہ کی یہود دشمنی نے ایران کو کھوکھلا کر دیا ہے


بریٹ سیٹوفن۔ نیویارک ٹائمز

اس وقت ایرانی مظاہرین جو نعرے لگا رہے ہیں ان میں ایک نعرہ نمایا ہے

نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران کے لیے۔”
یہ محض حکومت کی خارجہ پالیسی کی نفی نہیں ہے بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ یہود دشمنی کی پالیسی بالآخر خود یہود دشمن کو ہی تباہ کر دیتی ہے۔

سنہ1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے، اس حکومت کو یہودیوں کے خلاف ایک ہی جنون لاحق رہا ہے۔ اسرائیل کے خلاف پھیلائی جانے والی سڑتی ہوئی نفرت اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔

حکومت کی بنیادی سیاسی دستاویز، آیت اللہ روح اللہ خمینی کی کتاب “ولایتِ فقیہ”، یہود دشمنی سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں:۔
ابتدا ہی سے اسلام کی تاریخی تحریک کو یہودیوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ سب سے پہلے اسلام مخالف پروپیگنڈا انہوں نے ہی قائم کیا تھا۔”

ایران کے موجودہ رہنما، آیت اللہ علی خامنہ ای، کھلے عام ہولوکاسٹ کے منکر ہیں۔ اگرچہ ایران سرکاری طور پر اپنی کم ہوتی ہوئی یہودی برادری کو برداشت کرتا ہے، لیکن ایرانی یہودیوں کی اکثریت ملک چھوڑ کر جا چکی ہے، اور اکثر یہ ہجرت انتہائی خطرناک حالات میں ہوئی۔

ایرانی خارجہ پالیسی میں اسرائیل مخالف جنون اور یہود دشمنی بے روک ٹوک گھل مل گئی ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران نے اربوں ڈالر خرچ کر کے حزب اللہ کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس نے دور دراز مقامات پر یہود دشمن دہشت گرد حملوں کے احکامات بھی دیے ہیں، جن میں 1994 میں بیونس آئرس میں ایک یہودی ثقافتی مرکز پر بم دھماکہ شامل ہے، جس میں 85 افراد ہلاک ہوئے۔

ایران نے حماس کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل بھی دیے ہیں۔ اس نے ہولوکاسٹ کے منکروں کی کانفرنسیں منعقد کر کے اور یہود دشمن کارٹون مقابلوں کی میزبانی کر کے بارہا عالمی برادری کی شدید مذمت کو دعوت دی ہے۔

اس حکومت نے کئی دہائیوں تک جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار عناصر جمع کرنے پر بھی کام کیا۔ اس کا ایک مقصد (روک تھام) اور خود دفاع تھا۔ مگر ایک اور مقصد کا انکشاف آیت اللہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی، جو ایران کے سابق صدر تھے، کی 2001 کی ایک تقریر میں کیے گئے اس خوفناک لاگت و فائدے کے تجزیے سے ہوتا ہے:۔
اسرائیل میں ایک ایٹم بم کا استعمال وہاں کچھ بھی باقی نہیں چھوڑے گا، جبکہ اسلامی دنیا میں صرف نقصان ہوگا۔”

اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان قدیم دشمنیاں یا علاقائی تنازعات ہوتے تو شاید یہ سب کسی حد تک قابلِ فہم ہوتا۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایران ان اولین مسلم اکثریتی ریاستوں میں شامل تھا جنہوں نے عملاً اسرائیل کو تسلیم کیا، اور شاہ کے دورِ اقتدار میں یروشلم اور تہران کے درمیان قریبی تعلقات قائم تھے۔ حتیٰ کہ آج بھی، اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کی جانب سے شائع کردہ سرویز کے مطابق، عام ایرانی عوام دیگر مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کے لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم یہود دشمن ہیں۔ موجودہ حکومت کا یہ جنون خالصتاً اسلام پسند نظریے کا نتیجہ ہے، قومی مفاد کا نہیں۔

یہی بات اس حکومت مخالف نعرے کی جڑ میں ہے۔

اسی مہینے کے آغاز میں، حکومت نے شدید مہنگائی اور گرتی ہوئی کرنسی کے ماحول میں مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے بیشتر شہریوں کو محض 7 ڈالر ماہانہ وظیفہ دینے کی پیشکش کی۔ مگر یہی حکومت حزب اللہ کی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے کے لیے اندازاً ایک ارب ڈالر بھیجنے میں کامیاب رہی، جبکہ اپنے جوہری پروگرام پر کوئی بامعنی رعایت دینے سے انکار کرتی رہی—جس کے نتیجے میں یورپی پابندیاں لگیں اور معیشت مزید مفلوج ہو گئی۔ عام ایرانی صرف معاشی بدانتظامی اور بدعنوانی کے خلاف نہیں اٹھ کھڑے ہوئے؛ وہ ایک ایسی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں جو اپنے ہی عوام کو کھانا کھلانے کے بجائے صہیونی دشمن کے خلاف دائمی جہاد کو ترجیح دیتی ہے۔

برسوں تک اس پالیسی کی سفاکی اس کی بظاہر کامیابی کے پردے میں چھپی رہی، جب ایرانی پراکسیز پورے مشرقِ وسطیٰ میں جڑ پکڑتی گئیں اور یہودی ریاست کے گرد نام نہاد “آگ کا حلقہ” قائم کیا گیا۔ مگر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد، اسرائیل نے غزہ، بیروت، دمشق، صنعا اور بالآخر تہران میں اس حلقے کو منظم انداز میں توڑ ڈالا—جہاں جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے آسمانوں پر غلبہ قائم رکھا۔

ایک ہی جھٹکے میں، اسرائیل کو تباہ کرنے کی ایرانی کوششوں میں دہائیوں کی سرمایہ کاری ملبے اور راکھ میں بدل گئی۔ اس نے ایرانی عوام کے سامنے حکومت کی عسکری نااہلی اور بے بسی کو بے نقاب کر دیا۔ اور ایرانیوں کو یہ یاد دہانی کرائی کہ مسلم ریاستوں کے لیے ایک مختلف راستہ بھی موجود ہے—جیسے متحدہ عرب امارات—جو اعتدال پسند، خوشحال، اسرائیل کے ساتھ امن میں، اور خلیجِ فارس کے بالکل اُس پار واقع ہے۔

یہ شعور کہ یہ حکومت اندر سے کمزور ہے، یقیناً اُن عوامل میں شامل ہے جو بڑھتی ہوئی جانی قربانیوں کے باوجود ایرانیوں کو سڑکوں پر لے آئے ہیں—کم از کم 2,000 ہلاکتیں، خود حکومت کے مطابق، اگرچہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے رہنما بظاہر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کی حکمرانی ٹوٹنے کے قریب ہے، اسی لیے وہ مظاہروں کے جواب میں ایک طرف شدید جبر اور دوسری طرف سفارتی لچک کا امتزاج اختیار کر رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ حکمتِ عملی کچھ عرصے کے لیے کارگر ثابت ہو جائے۔

لیکن جب یہ حکومت گرے گی—اور وہ جلد یا بدیر گرے گی—تو اس کے زوال میں اس کی یہود دشمن سیاست نے بڑا کردار ادا کیا ہوگا۔ یہ ایک تاریخی تضاد ہے، خاص طور پر اُن مقاصد کے پیشِ نظر جو خمینی اور خامنہ ای کے ذہن میں تھے۔ اور یہ ایک تاریخی تکمیل بھی ہے: یہودی، سائرسِ اعظم کے زمانے سے فارسیوں کے مقروض ہیں، جب 2,564 برس قبل اس نے بابلی اسیری کا خاتمہ کیا اور یہودیوں کو دوبارہ صہیون لوٹنے کی اجازت دی۔

یہاں ایک وسیع تر سبق بھی ہے، ایسے دور میں جب یہود مخالف سیاست کو بڑھتی ہوئی پذیرائی مل رہی ہے۔ یہود دشمنی کئی وجوہات کی بنا پر بدی ہے، مگر یہ نہایت احمقانہ بھی ہے: کیونکہ یہ بھیانک سازشی نظریات کو فروغ دیتی ہے؛ قومی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے قربانی کے بکرے تلاش کرتی ہے؛ اور ایک محنتی اور تعلیم یافتہ اقلیت کو بدنام اور کچلتی ہے۔ جن معاشروں نے اپنی یہودی برادریوں کو نکالا یا ان پر ظلم کیا—اسپین سے لے کر روس اور عرب دنیا تک—وہ سب طویل المدت زوال کے لیے مقدر بنے۔ جدید دور کا ایران بھی اسی انجام سے دوچار ہوا ہے۔

ایسا ہمیشہ کے لیے لازم نہیں۔ ایک ایسی حکومت جو اپنی بدذاتی کو یہودیوں پر تھوپنے کی کوشش کرتی رہی، ممکن ہے اب اپنے دیرینہ انجام کو پہنچنے والی ہو۔ اور ایک ایرانی عوام جو افراد کے طور پر اپنی آزادی واپس حاصل کریں، وہ ایک قوم کے طور پر اپنی عقل و دانائی بھی دوبارہ پا سکتے ہیں۔

بشکریہ نیو یارک ٹائمز

Comments are closed.