شعیب عادل
دوسری عالمی جنگ میں، جاپان ایک مضبوط فوج کا مالک تھا۔ جاپانی آرمی اپنے مخالفین کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک و تشدد کرتی تھی۔ لیکن امریکہ کی طرف سے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کے بعد جاپانی فوج کے گھناؤنے مظالم چھپ گئے۔
میں جاپان پر امریکی حملے کی حمایت نہیں کررہا۔ بلا شبہ ایٹمی حملہ ایک انتہائی قابل مذمت اور بے ہیمانہ فعل تھا جس کی امریکی عوام اور دانشور آج بھی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن جاپان ایک عظیم تہذیب کا مالک ہے۔ اس کے شہنشاہ نے کہا کہ ہم بدلہ نہیں لیں گے اور اپنی تعمیر نو کریں گے اور جاپانی قوم نے امریکی نگرانی میں ہی اپنے ملک کی تعمیر نو شروع کی۔
امریکہ نے جنگ کے بعد جاپان کی تعمیرِ نو میں مرکزی کردار ادا کیا اور 1945 سے 1952 تک بڑے پیمانے پر سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات کی قیادت کی۔ جاپان پر امریکی زیرِ قیادت قبضے نے جاپان کو ایک مستحکم جمہوری ملک میں تبدیل کیا اور اس کی تیز رفتار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔
امریکہ نے اتحادی افواج کی جانب سے جنرل ڈگلس میک آرتھر کی سربراہی میں جاپان پر قبضہ کیا۔ جاپان کی فوج ختم کر دی گئی، جنگی حکومت تحلیل کر دی گئی اور نئے جمہوری ادارے قائم کیے گئے۔ امریکہ نے جاپان کا نیا آئین تیار کیا (جو آج تک نافذ ہے)، جس کے ذریعے ،پارلیمانی جمہوریت قائم کی گئی،شہری آزادیوں کی ضمانت دی گئی، خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا اور جنگ سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا۔
امریکہ نے جاپان کی تباہ شدہ صنعتوں اور فیکٹریوں کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد دی۔ زمین داری نظام میں اصلاحات کی گئیں تاکہ کسان بااختیار ہوں۔ بڑی کمپنیوں کی تنظیمِ نو کی گئی تاکہ اجارہ داری کم ہو۔ معیشت کو مستحکم کرنے اور قحط و بھوک سے بچانے کے لیے اربوں ڈالر کی امداد اور سامان فراہم کیا گیا۔اس کے علاوہ سماجی اصلاحات کی گئیں۔ مزدور یونینز کو قانونی حیثیت دی گئی۔ تعلیمی نظام کو جدید بنایا گیا۔ صحتِ عامہ کے نظام کو بہتر اور وسیع کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان کی مدد کیوں کی؟ اس لیے کہ جاپان دوبارہ فوجی طاقت نہ بنے، روس کے مقابلے میں ایک مضبوط جمہوری اتحادی ملک بنے تاکہ سرد جنگ میں سوویت اثرو رسوخ کا مقابلہ کیا جاسکے اور مشرقی ایشیا میں استحکام آئے۔ جاپانیوں نے بھی انتقامی سیاست کرنے کی بجائے اپنے عوام کی ترقی اور بہتری کا سفر شروع کیا۔ امریکہ وجاپان اتحاد اور دوستی جو آج بھی قائم ہے۔
گو کہ صدر ٹرمپ کے دور میں اس دوستی میں فرق آیا ہے ۔صدر ٹرمپ ہر اس سربراہ کو پسند نہیں کرتے جو ان کی تعریف نہ کرے۔ ویسے بھی جمہوری حکمران انہیں پسند نہیں۔
بہرحال آج جاپان کی نئی نسل امریکہ کو گالیاں نہیں دیتی کیونکہ ان کے نصاب میں دوسروں سے نفرت کو ختم کردیا گیا اور ہر کسی سے دوستی و محبت کا پرچار کیا گیا۔ جبکہ پاکستانی قوم کی بنیاد ہی نفرت پر رکھی گئی۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کتاب
MAGNIFICENT DELLUSIONS
لکھی جو بنیادی طور پر اس خط و کتابت پر مبنی ہے جو قیام پاکستان کے بعد امریکی اور پاکستانی دفتر خارجہ کے درمیان ہوئی اور سربراہوں سے میٹنگز کے منٹس پر مشتمل ہے جسے پچاس سال بعد امریکی دفتر خارجہ نے اوپن کردیا تھا۔
حسین حقانی لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی محمد علی جناح، لیاقت علی اور دوسرے پاکستانی حکام کا امریکہ سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہم ایک نوزائیدہ ملک ہیں ہمیں روس اور بھارت سے خطرہ ہے اور ہمیں ہتھیار و بھاری اسلحہ دیاجائے۔ جبکہ امریکی حکام حیرت کا اظہار کرتے کہ ایک نوزائیدہ ملک ہونے کے ناطے اپ کی معاشی حالت دگرگوں ہے پہلے اس پر توجہ دو۔ امریکہ نے پاکستان کو یاد دلایا کہ اپ کو گندم کے بحران کا سامنا ہے۔ قحط جیسی صورتحال ہے اور اپ کو ہتھیاروں کی پڑی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے پاکستان کو نہ صرف گندم سپلائی کی بلکہ گندم کی نئی ورائٹی مفت دی تاکہ اس سے زیادہ پیداوار حاصل ہو۔ امریکہ نے کئی ادارے بنائے لیکن پاکستانی ریاست کی سوئی ہتھیاروں پر ہی رہی۔ اور نصاب میں نفرت کا پرچار کیا گیا۔ جبکہ دوسری طرف بھارت کسی امریکی یا روسی مدد کے بغیر ہی ترقی کرگیا۔

























