وجود میں امید کی کرن
بیرسٹر حمید باشانی برلن کے قلب میں ایک مدھم روشنی والے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے بارش کی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ نوروز اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، اس کا دماغ رات کے آسمان کی طرح بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ 23 سال کا نوجوان تھا، شہر کی ممتاز یونیورسٹی میں فلسفے کا طالب علم تھا۔ جب تک […]







































