مہاجر سے دہشت گرد تک

dr-barkat-267x300

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

میں کابل سے زخموں کا لالہ زار لے آیا ہوں،اب باگرام (پشاور) کی مرضی نمک دےیامرہم رکھے۔

پشتو کے مایہ ناز شاعر پیر محمد کاروان کا یہ شعر مہاجرت اور بےاعتنائی کے بے برگ و بہار صحرا سے گزرنے والے ہر افغان کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے ۔ آگ کے دریا سے گزر کر آنے والے لاکھوں افغانوں نے جوں ہی بارڈر کے اس جانب قدم رکھا بہشت کی خنک ہوائیں محسوس ہونی شروع ہوئی ۔ دارالسلام کہلائے جانے والی سرزمین اس وقت ایک ایسی قوت سے نبردآزما تھی جن کے پاس نہ تو کوئی الہامی کتاب تھی اور نہ ہی وہ کسی رسول کی اُمت کہلانے میں فخر محسوس کرتی تھی۔ لہذٰا ایک بدن کی مانند االہامی مذاہب اور اُمت مسلمہ کی ممتا جگ اُٹھی اور مہاجرین کی ہر ممکن مدد کیلئے انصار صف آرا ہوئے۔

جُزوقتی صحیح ، تاریخ نے مہاجرین وانصار کی اُلفت کا ایک اور استعارہ محفوظ کیا۔ بین القوامی سطح پرشقی القلب اور بخیل سمجھے جانے والے دکانداروں اور سرمایہ داروں نے دل کھول کر دھان دی۔ کسی نے خیمے دئے ، کسی نے پلاسٹک کے جوتے، کسی نے جلنے کیلئے ایندھن، تو کسی اہل کتاب نے گاسلیٹ، اناج، کپڑے، چینی، گُڑ، نقدی وغیرہ۔امت مسلمہ بھی اس تاریخی اشر میں پیچھے نہ رہی۔ عربوں نے ریال پانی کی طرح بہائے، ہم نے لڑنےکیلئے تکنیکی معاونت فراہم کی اور لاکھوں پناگزینوں کو پناہ دیا۔ البتہ افغانوں نے اپنا خون پانی کی طرح بہایا۔گرم پانیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، دو ملین لوگ ۔

جو کیمپ ہمارے علاقے میں بنے، اسی وجہ سے مقامی آبادی میں خورا ک اور اجناس کی جو فراوانی آئی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی کیمپوں میں بابووں ، کلرکوں، تحصیلداروں اور انتظامی آفیسروں کی نوکریاں ملیں۔

بظاہر یہ وہ مرہمی ہاتھ تھے جو انکی زخموں پر مرہم بن کر رکھے گئے۔ مہاجرین کیمپوں نے رفتہ رفتہ کڑیل جوانوں اور چوڑے چکلے کاندھوں کے مجاہد پیدا کئے، جنہوں نے دس سال تک اشتراکی کفر کی ریڈ آرمی کو ناکوں چنے چبائے، اور پھر ایک چشم فلک نے دیکھا کہ دس ہزار فوجی آفیسروں اور جوانوں کو کھو نے کے بعد روس افغانستان سے نکل گیا۔

مجاہدین بیسویں کی واحد عسکری قوت تھی جنہوں نے پگڑی سے جوتوں ، بندوق سے لیکر گولیوں اور پھر خوراک تک مانگے کی استعمال کی۔ مانگی ہوئی جنت سے دوزخ کا عذاب اچھا بتایا گیا تھا، پر یہاں تو اس معجون نے الٹا اثر دکھایا۔ لیکن افغانستان کی خانہ جنگی جب شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ جھاد فی سبیل اللہ کرنے والے کمندانوں (کمانڈروں) کے رگوں میں ڈالر ، درہم اور ریال دوڑنے لگے ہیں۔ بیسوں آگے پیچھے گاڑیوں کے درمیان حرکت کرنے، عوام کو متاثر اور مرعوب کرنے میں جو لطف ہے وہ شاید کسی بھی حرام شے میں نہ ہو۔

اسی لئے تخت کابل کا حصول اب ان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا تھا۔ گلبدین ، ربانی، احمد شاہ محسود اور دیگر جنگی مشینوں نے مل کرستر ہزار معصوم انسانوں کا خون ناحق بہایا، آس پڑوس کے تمام ہمسائیوں نے دل کھو کر اسلحہ فراہم کیا، انکے سورماوں کو پالا، پھوسا، تربیت دی، اور جنگ کا ایندھن بننے کیلئے کیمپوں میں عسکری خواندگی کا محلول پھیلایا گیا۔

ج سے جہاد اور ک سے کلاشنکوف پڑھنے والے بچے کراچی ا سٹاک ایکسچینج میں کار کرنے کی صلاحیت تو رکھتے نہیں، اسی لئے دس بارہ سال کے عرصے میں سورماوں کی ایک اور نسل تیار کی گئی۔ مولانا فضل الرحمان صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے دیوبندی طالبان کو وہابی القاعدہ کے پلو سے باندھ لیا۔ اس ارینج میرج نے افغانستان میں خانہ جنگی کو مزید بڑھاوا دیا، طالبان کے سیلاب کے آگے سنگ و آہن کے قلعے یکے بعد دیگرے ریت کے دیوار ثابت ہونے لگے۔ خانہ جنگی نے ہر بار لاکھوں انسانوں کو بے گھر کئے رکھا، لیکن اب یہاں پر نہ تو آسٹریلوی گندم تھی، نہ ہی پلاسٹک کے جوتے اور نہ مفت کے چلغوزے اور بادام۔

طالبان کی تحریک کی اصل ماہیت کیا تھی لیکن امن اور اچھوتے طرز کے انصاف نے ان کی موجودگی کو سماجی جواز فراہم کیا اور اس طرح وہ آہستہ آہستہ افغان معاشرے اور ریاست کے رستے زخم کا مرہم تصور کئے جانے لگے۔ ادھر ضرب حق اور ضرب مومن نے کھلبلی مچا دی، انکی یک گونہ فتوحات کو منشائے ایزدی لکھا اور بولا جاتا ۔ پاک ۔افغان بارڈر کے دونوں اطراف سنے والے قبائل کا خون بھی جوش کھانے لگ جاتا، سینکڑوں مدارس بند کردئے گئے تاکہ پڑوس میں جڑ پکڑنے والے خدائی فوجداروں کی صالح حکومت دائر کی جاسکے اور بقول انکے خدا کی زمین پر خدا کا نظام لاگو کیا جائے۔

جب ابھی یہ اتنڑ (رقص) زور پکڑنے والا تھا، کہ میزائل پڑنے کے بعد سوڈان نے وہابی القاعدہ کو عاق کردیا ۔ طالبان اور القاعدہ کے درمیان مذہبی ایقان سے زیادہ یکساں قبائلی طرز فکر(مائنڈ سیٹ) اہم قدر مشترک تھا۔ لہٰذا ن کے وارد ہو جانے کے بعد کشت وخون کا بازار مزید گرم ہوا، طرفین نے دارالسلام کو پیار پیار میں دارالحرب بنادیا۔ ملک گیری اور طاقت کے حصول کیلئے لازم تھا کہ تکفیریت کی تبلیغ کی جائے ، لہٰذا وہ مجاہد کافر ٹھہرادئے گئے جنہوں نے سرخ ریچھ کو ٹریپ کرنے میں من دھن کی بازی لگائی۔جب تخت کابل پر بلا خوف و خطر اور (بظاہر) بلا شرکت غیرے قبضہ ہوا تو پاکستان اور افغانستان میں طالبان کا طوطا بولنا شروع ہوا، کوئٹہ اور پشاور کے دیواروں نے برسوں بعد اپنے ماتھے پراک نیا نعرہ بھی سجایا، ‘‘کابل کے بعد اسلام آباد’’۔

ستمبر ۲۰۰۱میں جب امریکی سامراجیت کی علامت گرادی گئی، عمر میں کم اور سفاکی میں بےمثال سامراج نے قبائلی طرز فکر کی اثبات کرتے ہوئے، بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ نیٹو اور امریکی افواج کی مشترکہ سفاکی کو دیکھ کر مجھے ٹرائی کی آخری لڑائی یاد آتی ہے، جس میں ایک خاتون کو بھگا لے جانے والے نوجوان شہزادے (پیرس) سے اپنی عزت (عورت) کو بدلہ لینے کیلئے سپارٹا کے متحارب قبائل ایک ہوجاتے ہیں اور ساٹھ ہزار کشتیوں کا ایک بیڑا لے کرشہر ٹروئی کو نیست و نابود کردیتے ہیں۔

امریکہ نے اپنے دشمن کو حوالہ کرنے کی درخواست کی اور امیرالمومنین نے صاف انکار کردیا۔ردعمل کے طور پر طالبان پر جو اُفتاد پڑی اس کا شاہد انہوں نے پہلے تصور نہیں کیا تھا۔وہ بھپرے اور گھبرائے ہوئے دھر لئے گئے، قتل کئے گئے۔اب میدان جنگ ازبک اور تاجک جنگجووں کے ہاتھ میں تھا، وہ چھپے ہوئے طالبان کو سونگھ کر برآمد کرالیتے ، امریکی فوج کے حوالے کرتے اور جیبیں سنبھالتے ہوئے خوشی خوشی اپنے کمین گاہوں کو لوٹ جاتے۔ طالبان کے آخری مندوب پاکستان میں افغانستان کے سفیر ملا ضعیف تھے جنہیں رسمی طور پر امریکی سورماوں کے حوالے کیا گیا، ان پر کیا بیتی اس کا بیان انکی خود نوشت میں پڑھنے سے پتہ چلتا ہے۔

سال ۲۰۰۳ سے امریکہ کے خلاف جہاد کا ایک باقاعدہ محاذ کھل جاتا ہے۔ منتشر طالبان قبائلی علاقوں کے پیدائشی جنگجو مہم جو وں کی اوٹ میں تورابوراسے ہوتے ہوئے وزیرستان پہنچے۔ادھر مہاجر بچوں جن کی ایک فصل تیار ہو چکی ہوتی ہے جن کی ولادت مخصوص جبری حالات میں ہوئی تھی۔القاعدہ کے پاس اب لڑنے کیلئے حالات اور شرائط مناسب تھے۔ غالبا آٹھ سو پشتون ملک اور سرداروں کو قتل کرکے ایک نئی قبائلی لیڈرشپ کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں کسی بھی لیڈر کی عمر بوقت کنٹریکٹ بیس سال سے زیادہ نہ تھی۔

جنگ کی شدت پہاڑوں سے نکل کر دریاوں میں آ نکلی اور پھر یہاں کشت و خون کا ایک اور سلسلہ شروع ہوا۔اسلام آباد اور پنڈی تک اسکی حدت پہنچی لیکن سینکڑوں سکول، صحت کے مراکز، تہذیبی اور تاریخی آثار، ہزاروںمترقی سیاسی اور مذہبی کارکن اور زعما پشتون وطن کے ہی اس کی بھینچ چڑے۔

پھر خبر آئی کہ جنگ کا دنگل بدل گیا ہے ادھرمشرق وسطیٰ میں القاعدہ کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی۔ یہاں ضرب عضب ہوا، کوئٹہ، پشاور ، چارسدہ، صوابی، غرض ہر وہ علاقہ جہاں جہادی سورماوں کی آنکھ کھلی تھی یا انکی نل گڑی ہوئی تھی میں ہزاروں کے حساب سے انسانوں کو شہید کیا گیا۔

سفاکی اور قتل و غارت کے اس مظہر کو آج کل ان دہشت گردوں سے منسوب کیا جاتا ہے جو یہاں مہاجر بن کر آئے تھے۔ لہذا انہیں ذلیل کرنے، انکا ہتک آمیز حلیہ بیان کرنے اور ان کا شر کے ساتھ قدرتی نسبت جوڑنے کیلئے ہمارے اخبار، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا حرکت میں آگئے ۔ان کا ایک نیا امیج تخلیق کیا گیا یہ مہاجر نہیں ، تخریب کار اور دہشت گرد ہیں۔ اس سے آگے انکو اور کیا القابات ملتے ہیں یہ تاریخ بتائے گی۔ وہ جب زخموں کا لالہ زار لےکر پہنچے تھے تو باگرام (پشاور)پھولوں کا شہر تھا، آج وہ بھی زخموں کا لالہ زار پہنے ماتم کناں ہیں، مہاجر اور انصار کا فرق باقی نہیں رہا۔لاکھوں انصار آج اپنے ہی وطن میں مہاجر ہیں اور انکی آنکھیں آس پڑوس میں کسی انصار کو تک رہی ہیں ۔

Comments are closed.