پاکستان کو سرمایہ داروں کی گرفت سے نکالنے کی ضرورت

یوسف صدیقی

اگرچہِ اکیسویں صدی اِیجادات ،مساوات اور آزادی اظہارِ رائے کی صدی قرار پائی ہے ۔ذرائع اِبلاغ نے دُنیا کو ایک گاؤں یعنی (گلوبل ویلج)بنا دِیا ہے ،لیکن پاکستان میں عام آدمی کی ’کارِسرکار‘ شمولیت کا خواب پورا نہیں ہو سکا ہے۔نہ ہی عام آدمی کی حکومتی اِہلکاروں تک رسائی ہے! ۔حکومت یا رِیاست کی طرف سے عوام کے مسائل حل کر نا تو دور کی بات ہے !۔بلکہ پاکستا نی حکومت اَپنا زِیادہ تر وقت ذَاتی سرمائے کو بڑھانے اور ’پراکسی جنگوں ‘کو لڑنے میں صرف کر رَ ہی ہے۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اِس وقت دُنیا اُورخاص طور پر پاکستان سرمایہ دَاروں (ملٹی نیشنل کمپنیوں)کی گرفت میں ہے،اُور سرمایہ دارانہ نظام پاکستان میں اَپنا تسلط جمائے ہوئے ہے۔ یہ ازلی حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا نظام اِبتدا ہی سے ناقص طرزِ حکومت رہا ہے ۔اُور اَب پوری دُنیا میں بوسیدہ و فرسودہ اور اَزکارِ رفتہ ہو چکا ہے ۔تعداد و مقدار پر مبنی اُور اُوصاف و اِقدار سے خالی یہ نظام سرمایہ پرستوں کے سرمائے میں بڑھوتری کا سبب بن رہا ہے ۔

اَکثریت و اِقلیت کا کھیل جوڑ توڑ ،سیاسی موروثیت،عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت اُور سازش و اَلزام جیسے عامیانہ اُوراِنتہائی غلیظ طور طریقے اِس نظام میں اِستعمال ہوتے ہیں۔رَائے عامہ کو ہموار کرنے کے نام پراِنتخاب یا پھر کسی اُورعوامی سرگرمی کے ذریعے سرمایہ پرست عوام کو دُھوکہ وفریب دَے کر اَپنے اقتدار کو طول دَے رہے ہیں۔اُور پاکستان سرمایہ پرستوں کی وجہ سے تباہی کے دَھانے پر کھڑاہے ۔اِس وَقت پاکستان میں جو طبقہ سرمایہ دار طبقہ بنا ہوا ہے، اِس نے انگلینڈ اُور فرانس کے سرمایہ داروں کی طرح جاگیرداروں کے ساتھ لڑ کر سرمایہ نہیں حاصل کیا، بلکہ اِس نے انگریز کی وفاداری کر کے اَپنے آپ کو صاحبِ ثروت بنایا ہے ۔

آ ج پاکستان پر مکمل طور پر اِس کا قبضہ ہے ۔پاکستان کے سرمایہ داروں نے لوگوں کے آپس کے تعلقات میں بہت زیادہ رَخنہ اِندازی کی ہے ۔لوگوں میں آپس کے رِشتوں کا بھرم ٹوٹتا جا رَہا ہے۔اِنسان ایک دُوسرے کے خون کا پیاسا بن چکا ہے ۔ اِنسانیت نا م کی کوئی چیز نہیں رہی، اَ ب خونی رشتے دار آپس میں دُھوکہ اُور فریب کرنے میں تامّل نہیں کر تے ۔ معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔یہ سب سرمایہ داروں کے نظامِ حکومت کی وجہ سے ہو رَہا ہے ۔کیونکہ جس طرح کا نظامِ حکومت ہو گا ،اِسی طرح کا معاشرہ پروش پائے گا ۔

سماج اَپنی عاد ات،سوچ کے انداز ،پسندو نا پسند ،اظہارِسوچ اور دیگرجبلی خواہشات میں شعوری طور پر حکومت کی نقل کر نے کی کوشش کر تا ہے۔ غور کا مقام ہے کہ سرمایہ داری کے نظام میں بوڑھے لوگوں کی قدر محض اِس حد تک ہو گئی کہ اگر وہ کام کر تے ہیں تو ٹھیک ہے اَگر نہیں تو’ اُولڈ ہاؤس ‘میں جا کر آرام کر یں۔تہذیب وتمدن نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے ۔ عالمی سرمایہ پرستوں نے اِنقلابِ فرانس او ر انقلابِ انگلینڈ کے بعد دنیا کو بہت سے سبز باخ دِکھائے تھے ۔جیسا کہ عالمی منڈی کا مضبوط بنیادوں پر قیام ،نجی ملکیت میں اضافہ ،ریاست کو مذہب سے علیحدہ کرنا ،معاشی مساوات کو قائم کر نا اُور دیگر اِس قسم کے وعدے کیے گئے تھے ۔جو خیالی حد تک کشش رکھتے تھے ۔ اُوریہ بات بھی حقیقت ہے کہ سرمایہ داروں سے یہ وعدے بھی ٹھوس بنیادوں پر پورے نہ ہو سکے ۔

پاکستان کا سرمایہ دار طبقہ انگریز کا نمک خوار ہونے کے علاوہ ’رَجعتی ‘ اور ’ انتہا پسند‘ بھی ہے۔ جس وجہ اِس سے کسی بھی قسم کی بہتری امیدیں لگانا فضول کام تھا اور ہے !!۔سرمایہ دارانہ نظام کا چونکہ زیاد ہ تر دار و مدار ’ ’ذاتی سرمائے کی بڑھوتری ‘‘ پرہے۔ اِس لیے اس نظام کا’ خصی پن‘ بہت پہلے ہی نسلِ اِنسانی پر آشکا ر ہوگیا تھا ۔ اس کا واضح ثبوت اِنتخاب کے عمل عوام کی بے اعتنائی اورِ ریاست میں رِیاست بنانے جیسے مظاہر ہیں ۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز کو ’ شرح منافع ‘اُور’ ہوس مال‘ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ،اِس لیے سرمایہ دارانہ نظام ریاست کی تمام اِ کائیوں کو ساتھ رکھنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ 

پاکستان کے سرمایہ داروں کی کرپشن کا عالم یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے پہلے ہم لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے ذرائع ابلاغ پرکرپشن رُوکنے کے اِشتہار دِیتے ہیں۔ تاکہ عوام نفسیاتی طور ان کی دیانت کے قائل ہوجائے ۔یہ اِنتہائی لوگ شاطر اخباروں سے ان کو اشتہارات کی قیمت دینے کا کمیشن لیتے ہیں ۔اُور بعدازاں یہ خود کرپشن کر کے اَپنا نام’’ کرپٹ لوگوں‘‘ میں لکھواتے ہیں۔اَگر پاکستان کے سرمایہ دار طبقے کے سیاسی پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ اِنتہائی ظالم ،وَحشی ،خو نخور اُور دَلال قسم کا طبقہ ہے۔یہ سرمائے کی ’ہوس‘ میں دُوسر ےِ انسانوں کی جان کا ’دُشمن ‘بناہوا ہے ۔اِس کی ’ نفع اُندوزی‘ ہوس کی وجہ سے لوگوں میں حسد،نفرت ،اِنتقام اُور غم کے جذبات پید ا ہو رہے ہیں۔

سرمایہ داری کے ساہوکارانہ ’ غلیظ کاروبار‘‘میں اَکثریت کا حصہ ایک اِقلیتی گروپ کو مل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا میعارِ زندگی روز بروز گرتا جا رَہا ہے۔مقابلے کے ماحول نے تمام قسم کے لو گوں کے اَندرعدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے ۔اُور معاشرے میں کرپشن ،اُقربا پروَری ،مہنگائی،بے روزگاری ،دِہشت گردی ،لاقانونیت ،ذخیرہ اندوزی اُور دھوکہ دِہی جسے جرائم بہت زیادہ ہو گئے ہیں ہے۔ دُوسری طرف عام آدمی جس کو ہم ’مڈل کلاس‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔اِس طبقے کو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ یہ معاشرے میں مختلف کاموں میں سرمایہ داروں اُور مزدوروں کے درمیان کبھی کبھار ’ پُل‘(رابطے)کاکردار بھی ادا کر تے ہیں۔’ذہنی محنت ‘کے شعبوں میں کا م کرنے والے اُور چھوٹی موٹی حکومتی ملازمت کر نے والے لوگ بھی مڈل کلاس کے لوگ کہلاتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے یہ لوگ خوشحال تصور کیے جاتے تھے ، مگر اَ ب اِن کی مُعاشی حالت بھی دِن بدن اِنتہائی پستی میں جا رِہی ہے ۔یہ لوگ تیزی سے’’ سفید پوشی‘ ‘کا بھرم کھو رَہے ہیں۔سرمایہ پرستوں کی طرف سے اِن پر نوازشات اَب بہت کم ہو گئی ہیں۔ اُور اِن کے بجائے اَب وہ کسی اُور’ ’طبقے ‘‘کی تلاش میں سرگراں ہیں، جو اِن کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اِن کے’ نفع اندوزی‘ کے کھیل میں ’جدت ‘پیدا کر ے۔ ملوں ،دفتروں،بینکوں سے اَیسے لوگوں کو تیزی سے نکالا جا رہا جو مزدور طبقے اُور دوسری قسم کے لوگوں کو لوٹنے کے مقابلے میں سستی کررَہے ہیں۔اِن کی جگہ اِیک نئی پرت پیدا کر نے کی کوشش کی جارہی جو اِطلاقی سائنس میں مہارت رَکھنے کے ساتھ سرمایہ پرستوں کی ’جی حضوری‘ میں اِن پرانے دوستوں سے زِیادہ متحرک ہو۔

اِس کے علاوہ جو لوگ سرمایہ پرستوں کے نوکر نہیں ہیں ،بلکہ ذاتی کاروبار کر کے روزی کما رہے ہیں ،اِن کی معاشی حالت اَب بہت خراب ہو تی جا رِ ہی ہے ۔بڑی صنعت اور مقابلے کی دنیا میں اس کا کوئی نا م تک نہیں چھوٹی دکان سے کوئی سودا نہیں لیتا کیونکہ سرمایہ پرستوں نے اِبلاغ کے تمام وسیلوں ذریعے بڑی کمپنیوں کی ’محبت‘ ہماری’ نفسیات‘ میں شامل کر دی ہے۔چھوٹا کسان ،درمیانہ دکان دار ،چھوٹی قوم کا وِکیل ،غیر جانب دَار اُستاد اُور دِیگر ہمہ قسم کہ لوگ جدو جہد کر نے سے اِنکاری ہیں ،کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ فساد کے شعلے بلند ہوں ،اُور اِن کی موجودہ معاشی حالت بھی تباہ ہو جائے ۔اُور بہت سے اَیسے لوگ ہمارے اندر موجود ہیں جن کی معاشی حالت اُور قوت خرید اَب ’’جواب‘‘ دَے رِہی ہے، مگر پھربھی یہ لو گ کسی بھی طرح کے اِنقلاب کے لیے سر کشی کرنے کے لیے ابھی تک ہر اول دستے کا کر دار ادا کرنے پر راضی نہیں ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس قدر تنگ ہوچکے ہیں اب سرمایہ داری کے خلاف جانے کا سوچنا بھی اِنھوں نے ترک کر دیا ہے ۔اَب اُن لوگوں کی طرف آتے ہیں جو سرمایہ داروں کی فیکٹریوں میں کام کر تے ہیں۔ صنعت کی ترقی نے جاگیر داری کے نظام کی جگہ سرمایہ داری کی شکل کو جلاء بخشی تو اِن صنعتوں میں کام کر نے والے لوگوں پر مشتمل ایک مستقل طبقہ وجود میں آ گیا جس کو مزدور کہا جاتا ہے ۔ویسے توزندگی کے تمام شعبوں میں مزدور موجود ہوتے ہیں، اِن کا استحصال کر نا آجر کا شیوہ بن چکا ہے ۔ جیسے گھر میں کام کر نے والے ملازم ،کام سیکھنے والے چھوٹی عمر کے ملازم زمین میں کسی کا کام کرنے والی عورتیں،لیکن فیکٹری کے مزدوروں کا کچھ زیادہ ہی استحصال کیا جاتا ہے۔اب اس طبقے نے استحصال کو اپنی قسمت کی دَین سمجھ کر قبول کر لیا ہے ۔

اس طبقے کی معاشی حالت کا اَندازہ آپ اِس بات سے لگائیں کہ جو سرمایہ دار اپنے پاس معاشرے میں رہنے والوں کو ’’انسان ‘‘تسلیم کر نے پر تیا ر نہیں وہ کیوں یہ چاہے گا کہ اس کی فیکٹری میں کام کر نے والا کوئی آدمی اس کی دِی ہوئی مناسب اُجرت کی وجہ سے اس کے برابر نہیں تو کم از کم اس سے بات کر نے کے قابل ہو سکے۔ اس لیے مزدور طبقے کی معاشی حالت پر بحث کیے بغیر ہی اِس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس اتنی رقم نہیں ہو تی کہ وہ خوشحال ہو سکے ۔اور کبھی حکمران بن سکے ۔ اور ان کے مسائل کس طرح حل کیے جا سکتے ہیں ۔یہ طبقہ دانش ،سیاست اور مذہب کویکسر مسترد کر تا ہے ،کیونکہ مزدور طبقہ دن میں یا رات کے بارہ گھنٹے ڈیوٹی کر نے کے بعد ذہنی طور پر اتنا ’تھک‘چکا ہو تا ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا کہ جس میں ذہنی اختراع کے استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ یاداشت کا استعمال کرتا ہو ۔

مزدور طبقے کی روز مرہ زندگی چونکہ فیکٹری میں سرمایہ دار کی جی حضوری میں گزرتی ہے کبھی کبھار مخلص اور کبھی کبھار منافق بن کر وہ سرمایہ دار سے دوستی کرنے کی کوشش کر تا ہے ۔لیکن ظاہر ہے سرمایہ دار تمام صورتحال سے واقف ہے اس نے آج تک کبھی مزدور کو ترقی کر کے ’فرسٹ مین‘ بننے ہی نہیں دیا ہے ۔مزدور آج بھی پتھر کے دور میں رہتے ہیں۔مزدوروں،غریبوں،طالبعلموں اور دیگر کمزور اکائیوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے ۔اور پھر ہمارے دور کا سرمایہ دار اصلاح پسندی کے ساتھ ساتھ خیرات کا کتنا شوق رکھتا ہے اس کا اندازہ آپ لوگ چشتیاں کے ایک سرمایہ دار (نام دانستہ نہیں لکھا جا رہا ۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اس طرح کی مثالوں سے ہماری تاریخ اور آج کا پاکستان بھرا پڑا ہے )کی خیراتی سرگرمیوں سے لگا سکتے ہیں ۔

پاکستان کے دیگر امیر آدمیوں کی تقلید کر تے ہو ئے یہ آدمی ’گیارہویں پاک والی سرکار عبد القادر جیلانی ‘کے سالانہ عرس میں کم از کم چالیس پچاس لاکھ روپے خرچ کرتا ہے ۔لیکن اگر اس کی تین سے چار ملوں کے اندر جا کر مزدوروں کی حالت دیکھی جائے تو ہمیں کسی پتھر کے دور کے سماج کے لوگ یاد آنے لگ پڑتے ہیں ملک ریاض کے ’دستر خوان ‘ سے لے کر چشتیاں کے اِس سرمایہ دار کے لنگر پاک تک ہمیں ایک چیز نظر آتی ہے وہ ہے لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اِ نہیں ذِہنی غلام بنانا ۔اِس خیرات کے کیا معانی اگر مزدور کو اُجرت وقت پر ادانہیں کرنی ہے ؟۔ ایسی خیراتیں غریبوں،مزدورں اور طالبعلموں کو سرکشی سے روکنے کے لیے اور ان کے ذہن کند کرنے کے لیے کی جاتی ہیں ۔

ہمارے ہاں لوگوں کی معاشی حالت بہت کمزور ہے اس لیے لوگوں کی بڑی تعداد خیرات میں ملنے والے ٹکوں اور اشیا ء خوردو نوش کو اپنے لیے غنیمت سمجھ کر قبول کر رہے ہیں۔اس وقت حالات کا تقاضہ ہے کہ اٹھو اور کچھ کر دکھانے کے لیے میانِ عمل میں اَپنے حصے کا فرض ادا کرو ۔جناح کے پاکستان کو سرمایہ پرست دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔کشمکش خواہ طبقاتی ہو یا سماجی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسائل کا حل کیا ہے ؟؟؟۔لوگوں کو کس طرح خوشحال بنایا جا سکتا ہے؟؟ ۔ہمارے ہاں اکثر اِفراد کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔اکثر کہا جا تا ہے کہ فلاں لیڈراَگرحکومت میں آ جائے تو مسائل حل ہو جائیں گئے۔اِس طرح کا رَویہ روایتی سرمایہ پرستوں کی دَین ہے ۔

عمران خان یا بلاول زرداری کے اقتدار میں آنے سے مسائل حل نہیں ہو نگے بلکہ مسائل کے حل کے لیے ہمیں ’’عوامی جمہوریت‘‘ کو نافذ کر نا ہو گا ۔ عوامی جمہوریت کا نظام ہی پاکستان کہ ہر آدمی کو فرحت بخش زندگی کا احساس دِلائے گا ۔عوامی جمہوریت میں ہی مذہب کے غلط استعمال کو روکا جائے گا ،اور سب سے بڑھ کر یرغمال شدہ اور گم شدہ مذہب کے حصوں کی بازیافت جیسے چیلنجز سے نمٹا جائے گا ۔لاک،تھامس پین اور سرسید احمد خان جیسے مفکرین نے جس جمہوریت کی تعریفیں متعین کیں تھی وہ عوامی جمہوریت ہی تھی نہ کہ سرمایہ دارانہ فاشزم ! ۔

رِیاست کی تمام اِکائیوں کو حقوق کی فراہمی ،اِنصاف کا تیز اُور شفاف اِنتظام ،اِقلیتوں کو اِنتظامی معاملات میں شریک کر نا ،حکومتی اَرکان کا احساسِ جوابدہی ،حکومتی اُمور میں کفایت شعاری اُورسادگی پیدا کر نا ،شہریوں کو فکروعمل کی آزادی دینا اُور دیگر کئی قسم کے فلاہی واِخلاقی اقدامات ہیں جن کو فروغ دینے اور ان پر عمل کرنے کی اس وقت بہت ضرورت ہے ۔یہ سب اِقدامات عوامی جمہوریت کے گلدستے کا حصہ ہیں ۔ ضر ورت اِس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو سرمایہ داروں کی گرفت سے نکال کر عوامی جمہوریت کا راج قائم کریں۔وہ دن دور نہیں ہے جب پاکستان میں عوامی جمہوریت قائم ہو گی اور غریبوں کو ان کا حق ملے گا ۔ ۔۔

♠ 

Comments are closed.