کیا طالبان واقعی امن چاہتے ہیں؟


افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا  اعلان کریں تاکہ پتہ چل سکے کہ ملک میں جاری قتل و غارتگری میں ملوث جنگجو ان کے کنٹرول میں ہیں بھی یا نہیں۔

کابل میں میڈیا سے بات چیت میں حمد اللہ مُحب نے کہا کہ ان کی نظر میں طالبان اب کوئی منظم تنظیم نہیں رہی اور ان کے کچھ کمانڈر داعش میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، اگر طالبان واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ اُن کا اپنے کمانڈروں پر کتنا کنٹرول ہے اور وہ اپنی قیادت کا کتنا حکم مانتے ہیں۔

اکثر افغان تجزیہ نگار یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ قطر میں موجود طالبان نمائندوں کا ملک کے اندر برسرپیکار جنگجوؤں پر کوئی خاص اثر نہیں اس لیے ان سے مذاکرات کی افادیت بھی محدود ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی امن چاہتے ہیں تو وہ ملک میں جاری جمہوری عمل کا حصہ بنیں۔ جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی قوانین پر مبنی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔

افغان قومی سلامتی کے مشیر کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے چین کے میزبانی میں طالبان اور افغان سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس حوالے سے افغانستان سے متعلق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد نے پچھلے ہفتے ماسکو میں چین، روس اور پاکستان کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے اتوار کا دن کابل میں گزارا، جہاں صدر اشرف غنی کی حکومت امریکی حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر سخت تحفظات رکھتی ہے۔

زلمے خلیل زاد پیر کو اسلام آباد پہنچے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ پاکستان میں اس پورے عمل کی نگرانی فوجی قیادت کر رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ زلمے خلیل زاد منگل کے دن پاکستانی فوجی اور انٹیلیجنس حکام سے مشاورت بھی کریں گے۔

DW/Web Desk

Comments are closed.