عدالت نے نہیں وزیر اعظم نے اجازت دی

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں پر اعتراض کرنے والے ’تھوڑی احتیاط کریں اور طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے قانون سب سے طاقتور ہے اور عدالتیں قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرتی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی نے ایک وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا، ایک وزیر اعظم کو سزا سنائی جبکہ ایک سابق آرمی چیف کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آنے والا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا جبکہ میاں نواز شریف کو پانامہ پیپرز کیس میں نااہل قرار دیا گیا اور سابق جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کا فیصلہ 28 نومبر کو متوقع ہے۔

سپریم کورٹ میں بدھ کو وکلا اور سائلین کے لیے موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہمارے منتخب نمائندے ہیں اور دو روز قبل جس کیس پر وزیر اعظم نے بات کی اس پر وہ کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’اجازت وزیر اعظم نے خود دی تھی۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں تو طریقہ کار پر بات ہو رہی تھی، وزیر اعظم نے اس معاملے کے اصول خود طے کیے تھے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو علاج کے غرض سے بیرون ملک بھجوانے کے فیصلے کا بلواسطہ ذکر کرتے ہوئے موجودہ چیف جسٹس اور آنے والے چیف جسٹس سے اپیل کی تھی کہ وہ اس تاثر کو ختم کریں کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جج اپنا کام عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ کم وسائل کے باوجود عدلیہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوششش کر رہی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ 3ہزار ججوں نے لاکھ مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں جن میں کمزور لوگوں کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے ماڈل کورٹس بنائے لیکن اس اقدام کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ ہی ماڈل کورٹ کا کوئی اشتہار لگوایا۔

اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ 25سال سے زیر التوا مقدمات کو نمٹا دیا گیا ہے اور اب زیر التوا مقدمات کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمان سے کسی قانون میں ترمیم کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور نہ ہی عدلیہ کے لیے کوئی اضافی بجٹ مانگا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جج موجودہ قوانین کے مطابق جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے وزیر اعظم کی طرف سے عدلیہ کو ہر ممکن وسائل فراہم کرنے سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کا خیر مقدم کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے اور آج پاکستان کی عدالتوں میں بھی تمام چیزیں استعمال ہو رہی جو دنیا کی عدالتوں میں ہوتی ہیں۔

اس منصوبے کے انچارج جج جسٹس مشیر عالم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ویب سائٹ سے مقدمات سے متعلق تمام معلومات وکلاء اور سائلین کو میسر ہوں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ پہلے سائلین وکلاء کے رحم و کرم پر ہوتے تھے اور اب سائلین اپنے مقدمات سے متعلق معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکیں گے۔

جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ اطلاعات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کال سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جس سے مطلوبہ معلومات حاصل ہوسکیں گی۔

BBC

Comments are closed.