پاکستانی دانشوروں کا ایک عمومی بیانیہ ہے کہ کمیونسٹ روس کی یلغار کو روکنے کے لیے ہندوستان کو تقسیم کرنا برطانیہ کی مجبوری تھی اور پاکستان کے قیام کا مقصد انگریز اس کو بفر سٹیٹ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ کلدیپ نائر نے اپنی کتاب “سکوپ” میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے اپنی ملاقات کا احوال لکھا ہے ۔ جس سے پاکستانی دانشوروں بالخصوص لیفٹسٹ دانشورو ں کی دلیل بودی ہوجاتی ہے۔
کلدیپ نائر لکھتے ہیں کہ میں نے جولائی 1971 کے آخر میں لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو، جو ہندوستان کے آخری برطانوی گورنر جنرل تھے، ایک خط لکھا اور ملک کی تقسیم میں ان کے کردار پر گفتگو کے لیے انٹرویو کی درخواست کی۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ جب میں ستمبر کے آخر میں لندن پہنچا تو میں نے انہیں فون کیا۔ کافی ہچکچاہٹ کے بعد وہ مجھ سے ملنے پر آمادہ ہوئے۔ اس وقت وہ براڈ لینڈز نامی ایک وسیع و عریض محل نما رہائش گاہ میں رہتے تھے جو لندن سے زیادہ دور نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے پوتے کو مجھے ریلوے اسٹیشن سے لینے کے لیے بھیجا۔
ماؤنٹ بیٹن وسیع و عریض لان میں بید کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ ڈھلتے ہوئے سورج کی لمبی پرچھائیاں ان کے وجود کو جزوی طور پر چھپا رہی تھیں۔ انھیں اس بات کا علم تھا کہ میں نئی دہلی سے شائع ہونے والے اخبار اسٹیٹس مین کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہوں۔ بیٹھنے کے بعد میں نے ان سے پہلا سوال کیا:۔
“کیا آپ کو تقسیمِ ہند پر افسوس ہے؟“
انہوں نے جواب دیا:۔
“ہاں، افسوس تو ہے، لیکن میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ جب میں ہندوستان آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ اگر میں اس وقت ہندوستان آیا ہوتا جب لارڈ آرچیبالڈ ویول (میرے پیش رو) آئے تھے تو شاید میں ملک کو متحد رکھنے میں کامیاب ہو جاتا“۔
اس کے بعد وہ تقسیم کے بارے میں اس طرح گفتگو کرنے لگے جیسے وہ ایک طویل عرصے سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں کبھی موقع نہ ملا ہو۔1947 کے واقعات بیان کرتے وقت ان کی یادداشت نے ایک بار بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ البتہ ان کی باتوں میں خود پسندی کا عنصر ناگوار محسوس ہوتا تھا، گویا انہوں نے کوئی غلطی نہ کی ہو اور تمام غلطیاں دوسروں سے سرزد ہوئی ہوں۔ یہ سن کر بھی الجھن ہوتی تھی کہ وہ پنڈت جواہر لعل نہرو کو “میرے وزیرِ اعظم” اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو “میرے وزیرِ داخلہ” کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
اگر وہ کسی شخصیت کے لیے واقعی احترام کا اظہار کرتے تھے تو وہ مہاتما گاندھی تھے۔ ماؤنٹ بیٹن نے یاد کرتے ہوئے کہا:۔“جب بھی وہ میرے کمرے میں داخل ہوتے، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی آسمانی نور میرے کمرے میں آ گیا ہو“۔ جبکہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا ذکر انہوں نے بہت کم احترام کے ساتھ کیا۔
ماؤنٹ بیٹن مجھے اُس کمرے میں بھی لے گئے جہاں اُن کے کاغذات اور ریکارڈ الماریوں اور فائل ریکوں میں بڑی ترتیب سے رکھے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی کہ میں اُنہیں دیکھ سکوں۔ انہوں نے کہا:”یہ کاغذات ایک ٹرسٹ کی ملکیت ہیں جو میرے نام سے منسوب ہے، اور یہی ٹرسٹ فیصلہ کرے گا کہ ان کے ساتھ کیا کرنا ہے“۔
ماؤنٹ بیٹن نے یہ بات چھپائی نہیں کہ اُس وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم لارڈ کلیمنٹ ایٹلی ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے۔“دہلی روانہ ہونے سے پہلے اُنہوں نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں کوئی ایسا انتظام سوچوں، مثلاً ایک ڈھیلی ڈھالی وفاقی ساخت یا کوئی مرکزی نظام، جو دونوں حصوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھ سکے“۔لیکن جب وہ لندن سے روانہ ہو رہے تھے تو دوسرے برطانوی رہنماؤں نے انہیں بتایا کہ تقسیم کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ماؤنٹ بیٹن کے مطابق:”میں نے اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کی، مگر جناح اس پر راضی نہیں ہوئے“۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک متحد ہندوستان کے حق میں دلائل دیتے رہے، لیکن جناح کا جواب یہ تھا کہ اگرچہ ایسی وحدت دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوتی، مگر ہندوؤں کے رویّے نے مسلمانوں کے لیے اسے قبول کرنا ناممکن بنا دیا تھا۔اب “ہندوؤں کا رویہ” اس صورتحال کا ذمہ دار تھا یا نہیں، ایک بات یقینی تھی کہ اُس وقت مسلمان اپنے مستقبل کے بارے میں شدید پریشانی اور بے یقینی کا شکار تھے۔ اُن علاقوں میں، جہاں وہ اکثریت میں تھے، انہیں نسبتاً کم خوف تھا، لیکن پورے ہندوستان کے تناظر میں وہ اقلیت تھے، اس لیے انہیں یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ آزاد ہندوستان میں اُن کی حیثیت اور مقام محفوظ نہیں رہے گا۔
کانگریس کے ممتاز رہنما مولانا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد وہ محسوس کریں گے کہ اپنے ہی ملک میں اجنبی اور بیگانہ بن گئے ہیں۔صنعتی، تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ ہونے کے باعث وہ اُس نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جائیں گے جو بعد میں ایک خالص ہندو راج کی شکل اختیار کر لے گا۔ ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن لکھتا ہے کہ وائسرائے ہاؤس میں ایک عشائیے کے دوران جناح اس بات پر اتنے فکرمند تھے کہ کہیں پاکستان ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائے کہ انہوں نے کہا: “کانگریس مجھے پاکستان سے محروم کرنے کے لیے ڈومینین اسٹیٹس تک قبول کر لے گی۔“
میں نے ماؤنٹ بیٹن سے پوچھا: “کیا آپ جانتے ہیں کہ تقسیم کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباً دس لاکھ افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرایا جاتا ہے؟” میں نے مزید کہا: “برطانوی اقتدار کے خاتمے کی تاریخ کو 6 جون 1948 سے بدل کر 15 اگست 1947 کرنے سے دونوں جانب کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں آبادیوں کی جبری نقل مکانی اور وسیع پیمانے پر قتلِ عام رونما ہوا“۔
ماؤنٹ بیٹن نے اس واقعاتی سلسلے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: “میں ملک کو متحد نہیں رکھ سکا۔ مجھے عمل کو تیز کرنا پڑا۔“انہوں نے قتل و غارت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو اس طرح جائز قرار دینے کی کوشش کی:”جب میں قیامت کے دن خدا کے حضور پیش ہوں گا تو میں اُن سے عرض کروں گا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران، جب میں سنگاپور سے بحریہ کی کمان سنبھال رہا تھا، میں نے چرچل کے مسلسل انکار کے باوجود خوراک لے جانے والے جہاز بنگال کی طرف موڑ کر پچیس لاکھ لوگوں کی جانیں بچائی تھیں۔ میں اُن کے سامنے یہ مؤقف پیش کروں گا کہ میرے کھاتے میں اب بھی پندرہ لاکھ جانوں کا مثبت توازن باقی ہے“۔
لندن نے ماؤنٹ بیٹن کو تین کابینہ وزراء کے دورۂ ہند کے بارے میں مطلع کیا: فریڈرک ولیم پیتھک لارنس (جو اُس وقت ہندوستان کے لیے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے)، سر اسٹیفورڈ کرپس اور اے۔ وی۔ الیگزینڈر۔ان کی آمد پر انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ ہندوستانی رہنما مکمل آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک “قابلِ قبول” نظامِ حکومت قائم کریں اور اس دوران عبوری انتظامات بھی طے کریں۔ وہ اپنے ساتھ ایک منصوبہ بھی لائے تھے جو بعد میں کیبنٹ مشن پلان کے نام سے مشہور ہوا۔ اس منصوبے کے مطابق ملک کو تین حصوں یا زونز میں تقسیم کیا جانا تھا: زون اے، زون بی اور زون سی۔
۔زون اے میں شمال کے تمام ہندی بولنے والے صوبے اور جنوب کی کانگریس کے زیرِ انتظام ریاستیں شامل ہوتیں۔
۔زون بی میں پنجاب، سندھ، سرحد (این ڈبلیو ایف پی) اور بلوچستان شامل ہوتے۔
۔زون سی میں بنگال اور آسام شامل کیے گئے تھے۔
تاہم تین اہم شعبے، یعنی دفاع، خارجہ امور و مواصلات ، لازمی طور پر مرکزی حکومت کے اختیار میں رہتے۔ ابتدا میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے اس منصوبے کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن کانگریس کے صدر بننے کے بعد جواہر لعل نہرو نے کہا: “پارٹی دستور ساز اسمبلی میں کسی معاہدے کی پابندی کے بغیر داخل ہوگی اور پیدا ہونے والی ہر صورتِ حال سے اپنی صوابدید کے مطابق نمٹنے کے لیے آزاد ہوگی۔“
جناح کو نہرو کا یہ بیان پسند نہیں آیا۔ ان کے خیال میں یہ مسلمانوں کو خودمختاری سے محروم کرنے کی ایک چال تھی۔چنانچہ انہوں نے مسلم لیگ کے لیے واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے مطالبے کو دوبارہ دہرایا اور کیبنٹ مشن پلان قبول کرنے سے متعلق مسلم لیگ کی سابقہ قرارداد واپس لے لی۔
نہرو کا اصل اعتراض ریاستوں کو مختلف زونز میں گروپ کرنے کے طریقۂ کار پر تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اگر کوئی ریاست کسی مخصوص گروپ میں شامل ہو تو اسے یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ بعد میں کسی دوسرے گروپ میں منتقل ہوسکے۔ کیبنٹ مشن پلان کے ذمہ داروں نے باضابطہ طور پر وضاحت کی کہ ریاستوں کی گروپ بندی اس منصوبے کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ریکارڈ پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ نہرو غلط تھے اور کانگریس کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ منصوبے میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کرے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس منصوبے کو “اپنی خواہش کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتی تھی“۔
نہرو نے مشن پلان کی مخالفت کیوں کی؟
یہ کہنا مشکل ہے کہ جواہر لعل نہرو نے آخر کیوں کابینہ مشن پلان کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔ ممکن ہے اس کی ایک وجہ عبوری حکومت میں ان کا سابقہ تجربہ ہو، جہاں مسلم لیگ کے وزراء نے ان کے ساتھ مؤثر تعاون نہیں کیا تھا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب اُس وقت کے وزیرِ خزانہ لیاقت علی خان نے یہ حکم جاری کیا کہ تمام تقرریاں، حتیٰ کہ چپڑاسیوں کی آسامیوں تک، منظوری کے لیے ان کے پاس بھیجی جائیں گی۔ اس فیصلے کے بعد کانگریس کے وزراء کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ وہ اس قدر تنگ آ چکے تھے کہ علیحدگی اختیار کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔
ماؤنٹ بیٹن نے کہا: “جب کابینہ مشن پلان پر اتفاق رائے ختم ہوگیا تو میرے پاس تقسیمِ ہند پر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔“
وہ اس صورتحال پر خوش نہیں تھے۔ ان کے مطابق کابینہ مشن پلان کی ناکامی کی بنیادی وجہ وہ غلط فہمی تھی جو نہرو کے بیانات سے پیدا ہوئی۔ تاہم اب تقسیم ناگزیر ہو چکی تھی۔
انہیں مشاورت کے لیے لندن طلب کیا گیا۔ واپسی پر ماؤنٹ بیٹن نے فوراً تقسیمِ ہند کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ جب ابتدائی مسودہ تیار ہوگیا تو انہوں نے نہرو اور سردار پٹیل سے مشورہ کیا۔ دونوں نے اسے نسبتاً آسانی سے قبول کر لیا۔ ان کی عمر بڑھ رہی تھی اور وہ اپنے خوابوں کے نئے ہندوستان کی تعمیر میں حصہ لینا چاہتے تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا کہ اس صورت حال نے انہیں خود کو نظر انداز شدہ محسوس کروایا۔ وہ مہاتما گاندھی کے پاس گئے، جو اس سے پہلے ماؤنٹ بیٹن کے کمرے سے صرف لفظ “تقسیم” سن کر ہی باہر نکل گئے تھے، مگر گاندھی بھی اس معاملے میں ان کے لیے کوئی خاص تسلی کا ذریعہ نہ بن سکے۔
ماؤنٹ بیٹن کے مطابق، نہرو اور پٹیل کی منظوری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے محمد علی جناح کو بلایا اور انہیں بتایا کہ پاکستان کا مطالبہ حقیقت بن چکا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: “میں نے جناح سے پوچھا کہ کیا وہ پاکستان سے کم کسی حل یا ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کے تعلق، خواہ ڈھیلے ہوں یا مضبوط، کو قبول کریں گے؟” ان کے بقول جناح نے جواب دیا: “نہیں۔ میں ان پر اعتماد نہیں کرتا۔ اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن ایک بار پھر تقسیم کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے لندن گئے۔
وزیرِ اعظم کلیمنٹ ایٹلی مایوس تھے اور سوچتے تھے کہ کیا ابھی بھی ہندوستان کی تقسیم کو روکا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کا خیال تھا کہ اگر برطانوی راج ختم ہونا ہے تو ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہوگی۔
ماؤنٹ بیٹن نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا سب سے اہم موضوع بنگال اور پنجاب تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس اصول کے تحت برصغیر تقسیم کیا جا رہا ہے، اسی اصول کے مطابق پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن جناح چاہتے تھے کہ دونوں صوبے مکمل طور پر پاکستان میں شامل رہیں۔
جب ماؤنٹ بیٹن نے جناح کو تقسیم کے منطقی نتائج، یعنی پنجاب اور بنگال کی تقسیم، کی وضاحت کی تو جناح کو اس حقیقت کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ انہوں نے اس انداز میں اور اتنی جلدی اس کے وقوع پذیر ہونے کا تصور نہیں کیا تھا۔ماؤنٹ بیٹن نے افسوس کا اظہار کیا کہ چونکہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کا پائیدار تعلق قائم رکھنے میں ناکام رہے تھے، اس لیے یہ تقسیم ناگزیر ہوگئی۔
اس موقع پر جناح نے دلیل دی کہ بنگال کے لوگ پہلے بنگالی اور بعد میں ہندو یا مسلمان ہیں، جبکہ پنجاب کے لوگ پہلے پنجابی اور بعد میں ہندو یا مسلمان ہیں۔ماؤنٹ بیٹن نے جواباً کہا:”میں اس منطق کو کیسے قبول کر سکتا تھا؟ اگر یہ دلیل درست تھی تو پھر یہی اصول پورے ہندوستان پر بھی لاگو ہوتا تھا“۔چنانچہ انہوں نے جناح کی یہ درخواست مسترد کر دی۔
ماؤنٹ بیٹن نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا:”میں نے جناح سے کہا تھا کہ تمہارا یہ ‘کٹا پھٹا‘ پاکستان پچیس سال سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گا۔” ماؤنٹ بیٹن نے اپنی بات پر مزید زور دیتے ہوئے کہا: “آپ جانتے ہیں، راجاجی (سی۔ راجا گوپالاچاری، آزاد ہندوستان کے آخری گورنر جنرل) نے ابھی چند روز پہلے مجھے خط لکھا تھا کہ میری پیش گوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ میں نے جواب میں لکھا کہ مجھے اپنے وہ الفاظ آج بھی اچھی طرح یاد ہیں“۔
انہوں نے یہ بات دوبارہ اس لیے دہرائی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد، محض دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔تاہم مصنف نے اس دعوے کی تصدیق کے لیے دو اہم شخصیات سے رابطہ کیا ۔ پہلے ایچ۔ وی۔ ہڈسن ، ایک برطانوی مورخ جو تقسیمِ ہند کے منصوبے سے وابستہ تھے۔ اور دوسرے ایلن کیمبل جانسن ، جو ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی تھے۔
مصنف نے ان دونوں سے پوچھا کہ کیا ماؤنٹ بیٹن نے کبھی پہلے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان سے الگ ہو جائے گا؟
دونوں کا جواب ایک ہی تھا:۔ “ہم یہ بات پہلی مرتبہ سن رہے ہیں۔“
اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ ماؤنٹ بیٹن نے 1971 میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئی بہت پہلے کر دی تھی، لیکن ان کے قریبی ساتھیوں اور اس دور کے ریکارڈ سے واقف افراد کو ایسی کسی پیش گوئی کا پہلے کوئی علم نہیں تھا۔
ترجمہ و تلخیص: شعیب عادل
























