کوی شنکر
کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد مئی 2026 میں ابھیجیت دپکے نے بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بے روزگار نوجوانوں کو توہین آمیز انداز میں مخاطب کرتے ہوئے انھیں کاکروچ کہا۔ ابھیجیت دپکے نے بوسٹن یونیورسٹی کے کالج آف کمیونیکشیز نے ماسٹر کی ڈگری لے رکھی ہے۔
ہر دور کے اپنے اپنے لوازمات ہوتے ہیں آج کے دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا اانتہائی طاقتور کردار ہے۔۔ جنریشن زی کے احتجاج کو انٹرنیٹ نے روایتی مقامی مظاہروں سے بدل کر ایک ایسی تیز رفتار، بے حد جڑی ہوئی اور سرحدوں سے آزاد تحریک میں تبدیل کر دیا ہے جو محض چند دنوں میں حکومتوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی مثال ہم کئی ملکوں میں دیکھ چکے ہیں، کینیا، مراکش، انڈونیشیا، تیمور لیستے، پیرو، پیراگوئے، یوگنڈا، ٹوگو اور مڈغاسکر میں جنریشن زی کی بغاوتیں دیکھی جا چکی ہیں، وہی جنریشن زی ہمارے پڑوسی ممالک نیپال اور بنگلادیش کے بعد اب بھارت میں سراپا احتجاج ہے۔
سابقہ جنریشن زی کے احتجاج: بنگلادیش میں2024کے دوران جنریشن زی سیاسی بدعنوانیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔۔ جس کا نتیجہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 2025 میں نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو اور دیگر بڑے شہروں میں نوجوانوں کے بیروزگاری اور سیاسی اقربا پروری کے خلاف شدید احتجاج اور قیامِ امن کے مطالبات کے بعد حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی جس کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا اورعبوری حکومت قائم کی گئی۔
بھارت میں جنریشن زی کا تاریخی احتجاج: رواں ماہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جنریشن زی اور طالب علموں ںے میڈیکل کے لاکھوں طلباء کو متاثر کرنے والے امتحانی پیپرز کا مسلسل لیک ہونے،امتحان کے نتایج منسوخ ہونے پر طلبا کی خودکشیوں، نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف پارلیمینٹ کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے انٹرنیٹ کلچر، میمز، سپر ہیرو کاسٹیومز اور ’’ون پیس ‘‘ انیمے فلیگ کو مزاحمت کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔ احتجاج کو کچلنے کے لئے حکومت نے لاٹھی، چارج، شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلیٹ گنز کا استعمال کیا۔
بھارت (یا دیگر ملکوں) میں جنریشن زی کی قیادت میں احتجاج کی ایک نئی اور منفرد لہر دیکھنے میں آئی ہے، جس نے روایتی سیاست اور احتجاج کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ تحریکیں کسی ایک مرکزی قائد یا سیاسی جماعت کی مرہونِ منت نہیں ہیں، بلکہ یہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اوردیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن منظم کی جاتی ہیں۔
بنگلادیش، نیپال اور اب بھارت میں احتجاج یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنریشن زی نہ صرف اپنے حقوق کے لیے بیدار ہے۔ رد انقلاب: خود ساختہ، بغیر کسی قائد کے اور ڈیجیٹل طور پر منظم عوام کی ایسی تحریکیں جو موجودہ حکومتوں کو گھٹنوں پر لا کر ان کا تختہ الٹنے یا ان پر شدید دباؤ ڈالنے میں تو کامیاب ہو جاتی ہیں، لیکن بعد میں امن قائم رکھنے یا حکومت چلانے میں اکثر ناکام رہتی ہیں۔ کیونکہ قیادت کے بغیر تحریکیں انقلاب لانے کے بجائے رد انقلاب میں بدل جاتی ہیں۔ ایسی تحریکیں صرف جنریشن زی کی نہیں، ماضی میں ہم یہی حالات انقلابِ ایران میں بھی دیکھ چکے ہیں، اس کے بعد عرب بہار اور ہانگ کانگ کی بی واٹر تحریک بھی رد انقلاب کی مثالیں ہیں۔
بغیر کسی قیادت کے آنے والے انقلابات کسی ظالمانہ نظام کو توڑنے کے لیے انتہائی طاقتور ہتھوڑا تو ثابت ہوتے ہیں، لیکن صرف ہتھوڑے سے نیا گھر نہیں بنایا جا سکتا، اس کے لیے آپ کو معمار، تنظیم اور ایک واضح نقشے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے بغیر پرانے معمار ہی تقریباً ہمیشہ دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ بغیر کسی قیادت کے آنے والا انقلاب کسی پرانے نظام کو تباہ تو کر دیتا ہے لیکن اس کا متبادل پیش نہیں کر پاتا، تو عام طور پر تین چیزیں رونما ہوتی ہیں:۔
پہلا یہ کہ پرانے نظام کی واپسی: پرانے اور تجربہ کار سیاسی رہنما، ملٹری حکام یا روایتی اپوزیشن جماعتیں، جن کے پاس پہلے سے تنظیم، فنڈز اور ادارے موجود ہوتے ہیں۔ اس خالی جگہ پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ وہ اکثر نوجوانوں کے مطالبات کا زبانی جمع خرچ کرتے ہیں اور خاموشی سے نئے نام کے ساتھ پرانا نظام ہی دوبارہ نافذ کر دیتے ہیں۔
دوسرے گروہ بندی اور انتشار: اندرونی اختلافات کو حل کرنے کے لیے کسی واضح قیادت کے نہ ہونے کی وجہ سے انقلابی اتحاد مختلف دھڑوں (مثلاً شدت پسند بمقابلہ اعتدال پسند، یا شہری بمقابلہ دیہی نوجوان) میں تقسیم ہو جاتا ہے، جس سے اندرونی تصادم اور عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔
اور تیسرے معاشی بحران اور قانون کی حکمرانی: مسلسل ہڑتالوں، مظاہروں اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے روزمرہ زندگی اور معیشت تباہ ہو جاتی ہے، جس سے وہی غربت اور بے روزگاری مزید بڑھ جاتی ہے جس کے خلاف جنریشن زی نے احتجاج کیا تھا۔ وقت کے ساتھ، عام عوام تھک جاتی ہے اور قانون و امن کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگتی ہے، جس سے آمرانہ یا فوجی طاقتوں کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنے کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔
طبقاتی زاویہ: اصل مسئلہ کیا ہے؟ اگر اِن احتجاجی تحریکوں کو محض نوجوانوں کے غصے تک محدود رکھا جائے، تو رد انقلاب کے یہ تینوں خطرات، پرانے نظام کی واپسی، انتشار اور معاشی بحران، مزید سمجھ آتے ہیں۔ کیونکہ جنریشن زی کا احتجاج دراصل معاشی عدم مساوات، نجکاری زدہ تعلیمی و روزگار کے نظام، اور سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے خلاف ایک طبقاتی ردعمل ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ہر جگہ احتجاج کا مرکز وہی طبقہ ہے جسے نہ معیاری تعلیم میسر ہے، نہ باعزت روزگار، جبکہ اشرافیہ اور طاقتور اداروں کے بچے اُسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگر تحریک صرف ایک وزیر کے استعفے یا ایک امتحان کی منسوخی تک محدود رہے، تو نظام کی وہ بنیادی ساخت، جو دولت اور مواقع کو چند ہاتھوں میں مرتکز رکھتی ہے، جوں کی توں رہتی ہے اور پرانے نظام کی واپسی کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لیے صرف سڑکوں کا احتجاج نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار کی مساوی تقسیم کے مطالبات کو تحریک کے مرکز میں لانا ہوگا۔
کیا بھارت کی جنریشن زی اس چکر کو توڑ سکتی ہے؟ جنریشن زی کے انقلابات کو برعکس انقلاب میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے دنیا بھر کے نوجوان اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ احتجاج تو صرف پہلا مرحلہ ہے۔ سڑکوں کی طاقت کو دیرپا اور واقعی نظام کی تبدیلی میں بدلنے کے لیے یہ اقدامات کرنے ہوں گے:۔
۔ ۱۔ مظاہرین سے پالیسی ساز بننا: ایسی شہری تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، یا پالیسی ادارے بنانا جو ملازمتوں کی فراہمی، ٹیکس اصلاحات، اور تعلیم پر باقاعدہ قوانین اور پالیسیاں تیار کر سکیں۔
۔ ۲۔ اداریاتی اتحاد قائم کرنا: لیبر یونینز، سول سوسائٹی کے گروپس اور قانونی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کرنا جن کے پاس پہلے سے ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود ہو۔
۔۳۔ باقاعدہ سیاسی عمل کا حصہ بننا: صرف آن لائن مہمات اور احتجاجی مارچوں تک محدود رہنے کے بجائے الیکشن لڑنا، مقامی حکومتوں میں شامل ہونا اور عبوری حکومتوں کا احتساب کرنا۔
اب اس ساری صورتحال میں ہم پاکستانی کہاں کھڑے ہیں، کیا پاکستانی جنریشن زی یا طالب علم اپنے حقوق ، ناانصافیوں اور دیگر مسائل کے خلاف کھڑے ہونگے۔ یہ دیکھنے کے لئے شااید اب زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
























