نامور بھارتی صحافی و دانشور کلدیپ نائر نے اپنی کتاب” سکوپ” میں لکھتے ہیں کہ 1945 میں میں لاہور میں لاکالج کا طالب علم تھااور قائد اعظم (یہ لقب مہاتما گاندھی نے جناح کو دیا تھا) کالج میں لیکچر دینے کے لیے آئے۔ میرے کلاس فیلو ، حبیب نے کسی بھی غیر مسلم طالب علم کو اس لیکچر میں شامل ہونے کی دعوت نہ دی۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ سامعین کی تعداد انتہائی کم ہے تو پھر اس نے ہندو و سکھ طالب علموں بھی شامل ہونے کی دعوت دے دی۔ باوجود اس کے لیکچر کو آڈیٹوریم سے کلاس روم میں منتقل کرنا پڑا۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ تھی جن صوبوں میں پاکستان کی تشکیل ہوئی میں وہاں دو سال پہلے تک مذہب کی بنیاد پر علیحدہ مسلمان ریاست کا کوئی تصور نہیں تھا۔
جناح اپنے تھری پیس سوٹ میں نہایت باوقار دکھائی دے رہے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ انہیں لوگوں کی کم تعداد کی بالکل پروا نہیں۔ وہ ایک پرجوش داعی کی طرح پاکستان کے اپنے خواب کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ آپ ان کی مخالفت کر سکتے تھے یا ان کی حمایت، لیکن آپ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اور پاکستان ایک حقیقت تھے۔ انہوں نے کچھ اس مفہوم کی بات کی کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک متحدہ ہندوستان مسلمانوں کو آزادی کا احساس نہیں دے گا کیونکہ ہندو اکثریت میں ہوں گے۔ ایک غیر مسلم قوم مسلمان قوم پر حکومت کر رہی ہوگی۔ لیکن دونوں اقوام، اگر اپنے علیحدہ ممالک میں آزاد کر دی جائیں، تو اپنی ذاتی صلاحیتوں اور مزاج کے مطابق ترقی کریں گی اور دونوں ایک دوسرے کی ترقی کی پیش رفت میں معاون ثابت ہوں گی۔
تیس منٹ کے لیکچر کے بعد انھوں نے سامعین کو سوالات کرنے کی اجازت دی۔میں نے دو سوالات کیے۔
پہلا سوال میرے خدشات کا اظہار تھا۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ گزشتہ چند برسوں میں جس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کے بیج بوئے گئے اور اُنہیں مضبوط کیا گیا ہے، کیا یہ فطری نہیں ہوگا کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد دونوں برادریاں ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں؟
جناح نے میرے خدشات سے اتفاق نہیں کیا۔ نہ ہی اُنہیں فرقہ وارانہ فسادات کی توقع تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر دونوں الگ ہو جائیں تو وہ خوشی سے زندگی گزاریں گے اور ان کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہوگا۔ اُن کی یقین دہانی تھی کہ “خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان جو دوری مجھے نظر آتی ہے، وہ اسی دن ختم ہو جائے گی جس دن یہ قومیں آزاد ہو جائیں گی۔ پاکستان اور بھارت اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی گزاریں گے۔ اُنہوں نے کہا “بعض قوموں نے ایک دوسرے کے لاکھوں لوگوں کو قتل کیا ہے، پھر بھی آج کا دشمن کل کا دوست بن جاتا ہے“۔
برسوں بعد، جب میں اپنی کتاب
“Distant Neighbours: A Tale of the Subcontinent”
کے لیے مواد جمع کرنے کی غرض سے 1971 کے اوائل میں پاکستان گیا، تو میں نے جناح کے سیکریٹری کے۔ ایچ۔ خورشید سے پوچھا کیا کہ فسادات، خصوصاً آبادی کی بڑے پیمانے پر ہجرت پر جناح کا ردِعمل کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت مسلم لیگ اور کانگریس، دونوں نے ہی اس تجویز کو، جب اسے باضابطہ طور پر ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا، “لغو“، “بے بنیاد” اور “ناقابلِ تصور” قرار دیا تھا۔
خورشید نے جواب دیا کہ قائدِاعظم ابتدا میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ بڑے پیمانے پر فسادات ہو رہے ہیں۔ بعد میں وہ یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ کچھ لوگ پاکستان کو ناکام بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ برطانوی حکومت کی طرف نہیں بلکہ کانگریس اور اکالی رہنماؤں کی طرف تھا۔ بالاخر خورشید نے مجھے بتایا کہ آخری ایا م میں قائدِاعظم افسردہ اور مغموم رہنے لگے تھے اور لوگوں سے کم ملتے جلتے تھے۔ ان پر حالات کا گہرا اثر پڑا تھا اور وہ خاموشی اور تنہائی اختیار کر گئے تھے۔
خورشید اور میں نے فسادات کی وجوہات کا تجزیہ کیا۔ خورشید کا الزام تھا کہ ہندو مہاسبھا، اکالی رہنماؤں اور کانگریس کے بعض فرقہ پرست عناصر نے ان فسادات کو بھڑکایا۔ میں نے کہا کہ غالباً وہ درست کہتے ہیں، لیکن مسلم لیگ بھی اس کی کم ذمہ دار نہیں تھی۔ میں نے خاص طور پر 1946 میں اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ بنگال، حسین شہید سہروردی، کی جانب سے دی گئی “ڈائریکٹ ایکشن” کی کال کا حوالہ دیا۔ جب جناح سے پوچھا گیا کہ آیا یہ ڈائریکٹ ایکشن پُرتشدد ہوگا یا عدم تشدد پر مبنی، تو اُنہوں نے جواب دیا “میں اخلاقیات پر بحث کرنے نہیں جا رہا“۔
یاد رہے کہ ڈائریکٹ ایکشن کے نتیجے میں کلکتہ کے عظیم قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا۔ صرف تین دنوں سے بھی کم عرصے میں پانچ ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
خورشید نے جناح کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قائدِاعظم ایک کثرت پسند (پلورسٹک) پاکستان کے حامی تھے، جہاں مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔ انہوں نے بار بار میری توجہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں جناح کی گیارہ اگست کی اُس مشہور تقریر کی طرف دلائی جس میں انہوں نے ریاست کے تمام شہریوں کی مساوات اور مذہبی آزادی پر زور دیا تھا۔
خورشید کا کہنا تھا کہ اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ قائدِاعظم ایک ایسے پاکستان کا تصور رکھتے تھے جو مذہبی رواداری، شہری مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم ہو۔
میں نے خورشید سے کہا کہ جناح کی اسی تقریر کی وجہ سے ہم تقسیمِ ہند کے بعد بھی 13 ستمبر تک، یعنی تقسیم کے تقریباً ایک ماہ بعد تک، سیالکوٹ شہر میں اپنا گھر چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔
میرا جناح سے دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر کوئی تیسرا ملک بھارت پر حملہ کر دے تو پاکستان کا ردِعمل کیا ہوگا؟
انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا “ہمارے فوجی آپ کے شانہ بشانہ لڑیں گے تاکہ دشمن کو شکست دی جا سکے۔“
ایسی صورتِ حال اس وقت پیدا ہوئی جب 1962 میں چین نے بھارت پر حملہ کیا۔ اُس وقت جنرل ایوب خان پاکستان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ پاکستان کے اندر یہ مطالبات اٹھ رہے تھے کہ ملک کو بھارت کی اس مشکل صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے بتایا کہ اگر پاکستان اُس وقت بھارت پر حملہ کر دیتا تو ہم دہلی تک پہنچ سکتے تھے۔
ایوب خان نے وضاحت کرتے ہوئے مجھے کہا کہ اُس وقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھارت کو مزید مشکل یا شرمندگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔جب میں نے کہا کہ شاید انہوں نے ایسا امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر نہیں کیا، تو انہوں نے جواب دیا:”نہیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں… میں بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا نہیں چاہتا تھا، اگرچہ کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ آیا میں نے صحیح فیصلہ کیا تھا یا نہیں“۔
اس حملے کے بعد، جواہر لعل نہرو نے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کو خط لکھا تاکہ وہ یہ وضاحت کر سکیں کہ کس طرح چین نے اپنے علاقائی دعووں کو فوجی طاقت سے نافذ کرنے کے لیے بھارت پر حملہ کیا تھا۔ ایوب نے مختصر اور سخت لہجے میں جواب دیا: “میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ بین الاقوامی تعلقات سے فریب اور جبر کو ختم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں، میں یہ نشاندہی کرنے پر مجبور ہوں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مختلف دیرینہ تنازعات بھی خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں اگر حکومتِ ہند ان اصولوں کو خلوص اور یقینِ کامل کے ساتھ نافذ کرنے کا فیصلہ کرے“۔
ایوب کے جواب نے نہرو کو مایوس کیا، لیکن ایک جملہ جس نے انہیں خوش کیا وہ یہ تھا کہ پاک–چین (یا چین–بھارت) تنازعہ اس خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے جس سے پاکستان کا گہرا تعلق ہے۔ اس کے بعد بھارت پاکستان سرحد سے اپنی کچھ فوجیں ہٹا کر چین کے خلاف تعينات کرنے کے قابل ہو گیا۔
♣

























