ریڈکلف ایوارڈ

معروف بھارتی صحافی و دانشور۔ کلدیپ نائر نے اپنی کتاب “سکوپ” میں باونڈری کمیشن کے سربراہ سر ریڈ کلف سے ملاقات کا حال لکھا ہے۔ شاید ہی کسی پاکستانی صحافی یا دانشور نے تقسیم کے بعد ریڈ کلف سے ملاقات کی ہو اور اس سے باونڈری کمیشن کی ترجیحات پر کوئی گفتگو کی ہو۔ کلدیپ نائر کی درج ذیل گفتگو سے بہت سی سازشی تھیوریوں کی نفی ہو جاتی ہے جو مطالعہ پاکستان میں پڑھائی جاتی ہیں۔ نہ ہی باونڈری کمیشن کے پاکستانی ارکان نے اس مسئلے پر کوئی کتاب لکھی ہے۔

میں آپ کو لاہور تقریباً دے ہی چکا تھا،باؤنڈری کمیشن کے چیئرمین، جسٹس لارڈ سائرل ریڈکلف نے مجھ سے کہا۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ پاکستان کے پاس کوئی بڑا شہر نہیں ہوگا۔ میں پہلے ہی کلکتہ ہندوستان کے نام کر چکا تھا ۔لاہور میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت تھی اور اثاثوں کے معاملے میں بھی یہ بہت آگے تھا ۔ ان کی بات دلاسا دینے والی اور قائل کرنے والی لگتی تھی، لیکن حقیقت میں ان کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا کیونکہ پاکستان کے پاس بڑے شہروں کی سخت کمی تھی۔

ریڈکلف جیکٹ اور ٹائی پہنے باضابطہ لباس میں ملبوس تھے۔ وہ ایک طویل عرصے سے جج رہے تھے اور شاید کسی ملاقاتی سے ملتے وقت جیکٹ پہننا ان کی عادت تھی۔ لیکن ان کے رویے میں کوئی رعونت نہیں تھی۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے انہیں ایک سادہ اور سیدھا سادھا انسان پایا۔ جب میں نے ان کے فلیٹ کی گھنٹی بجائی تو انہوں نے خود دروازہ کھولا۔ کمرہ پرانے فرنیچر اور ان چیزوں سے بھرا ہوا تھا جو انہوں نے یقیناً سالہا سال میں جمع کی ہوں گی۔ ان کی زندگی کافی سادہ اور زاہدانہ معلوم ہوتی تھی۔ ان کے پاس کوئی نوکر یا خادمہ نہیں تھی، کیونکہ وہ خود اس کچن میں گئے— جو نشست گاہ کے صوفے سے مجھے نظر آ رہا تھا— تاکہ چائے بنانے کے لیے برنر پر کیتلی رکھ سکیں۔

یہ گفتگو 1971 کے آخری نصف کے دوران لندن میں ریڈکلف کے فلیٹ میں ہوئی تھی، جب میں وہاں آخری برطانوی گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملنے گیا تھا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کی سرحدی لکیریں کیسے کھینچی گئی تھیں۔ اگرچہ باؤنڈری کمیشن کے چار اور ارکان بھی تھے— دو ہندوستان سے، مہر چند مہاجن اور تیجا سنگھ، اور دو پاکستان سے، دین محمد اور محمد منیر— جو ہائیکورٹ کے فعال جج تھے۔ فیصلہ اصل میں ریڈکلف ہی نے کیا تھا، کیونکہ کمیشن تقسیم ہو چکا تھا؛ ہندوستان کے ارکان ایک طرف تھے اور پاکستان کے ارکان دوسری طرف۔

ریڈکلف نے کیا معیار اپنایا تھا؟ میں یہ جاننے کے لیے بہت بے تاب تھا۔ مجھے یہ سن کر انتہائی حیرت ہوئی جب ریڈکلف نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحدیں کھینچیں تو ان کے پاس عمل کرنے کے لیے کوئی طے شدہ اصول نہیں تھے۔ سرحدوں کی نشان دہی کے وقت تک انہوں نے کافی مواد جمع کر لیا تھا۔ دونوں فریقین نے اپنی پیشکشیں نہایت جامع انداز میں پیش کی تھیں۔ انہوں نے ٹنوں کے حساب سے مواد کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کام کا سب سے نازک اور مشکل حصہ پنجاب اور بنگال کے آخری علاقوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا تھا۔ اس لیے لاہور کو ہندوستان کو دینے اور پھر پاکستان کے حق میں اپنا فیصلہ بدلنے کا ان کا قدم قابلِ فہم تھا۔ ان کے ذہن میں ایک قسم کا توازن کا تصور تھا۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے جو ریڈکلف کے نام کی سفارش کی تھی، اس بات کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کیا آپ جس طرح ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی لکیریں کھینچیں، اس سے مطمئن ہیں؟میں نے پوچھا۔ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا؛ میرے پاس وقت اتنا کم تھا کہ میں اس سے بہتر کام نہیں کر سکتا تھا۔ اگر مجھے دوبارہ اتنا ہی وقت دیا جائے تو میں پھر یہی کچھ کروں گا۔

تاہم، اگر میرے پاس دو سے تین سال ہوتے، تو شاید میں اپنے کیے ہوئے کام کو بہتر بنا سکتا،ریڈکلف نے اعتراف کیا۔ انہوں نے سرحدوں کی نشان دہی کرنے سے پہلے ڈیکوٹا طیارے میں شمالی ہند کے کچھ حصوں کے اوپر سے صرف ایک بار پرواز کی تھی۔ اگر کچھ لوگوں کی امنگیں پوری نہیں ہوئیں،انہوں نے کہا، تو اس میں قصور سیاسی انتظامات کا ہے، جن سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

واقعی، ریڈکلف کو اپنا کام ختم کرنے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا تھا۔ ان کے کام میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ پنجاب اور بنگال کی صوبائی اسمبلیوں کو دونوں صوبوں کی تقسیم کے لیے ووٹ دینا تھا، جو کہ ایک قانونی مجبوری تھی۔ جب ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف کو باؤنڈری کمیشن کا چیئرمین نامزد کیا تو وہ شملہ میں تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ جولائی میں پنجاب میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ۔ جون کی گرمی کی وجہ سے فیلڈ سروے کرنا ناممکن تھا،انہوں نے کہا۔ لیکن مولانا ابوالکلام آزاد کے مطابق، ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف سے کہا تھا کہ وہ اس کام میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں کر سکتے۔

ماؤنٹ بیٹن انہیں دن میں کم از کم دو بار فون کرتے تھے! ریڈکلف باؤنڈری کمیشن کے ارکان سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ارکان نے جو کچھ بھی کیا، وہ صرف اس ملک کے نقطہ نظر کو پیش کرنا تھا جس کی وہ نمائندگی کر رہے تھے۔ دونوں فریق زیادہ سے زیادہ علاقہ چاہتے تھے اور ایک دوسرے کے مخالف دلائل دے رہے تھے۔

ایک مسلمان رکن ان کے پاس تنہائی میں آئے اور دارجلنگ کو پاکستان میں شامل کرنے کی التجا کی: “میرا خاندان ہر گرمیوں میں دارجلنگ جاتا ہے اور اگر یہ جگہ ہندوستان کے پاس چلی گئی تو ہمارے لیے بہت مشکل ہوگی۔ریڈکلف نے بھارتی باؤنڈری کمیشن کے رکن مہر چند مہاجن کی تعریف کی، جو بعد میں ہندوستان کے چیف جسٹس بنے۔ انہوں نے اپنی علمیت اور قانونی معلومات سے ریڈکلف کو متاثر کیا تھا۔

پاکستان کے مسلمان یہ گلہ رکھتے ہیں کہ آپ نے ہندوستان کی طرف داری کی،میں نے ریڈکلف سے کہا۔ انہوں نے جواب دیا کہ مسلمانوں کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے اپنے راستے سے ہٹ کر انہیں لاہور دیا جو ہندوستان کے پاس جانے کا حقدار تھا۔ ویسے بھی، میں نے ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کو زیادہ ترجیح دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس وقت میں ان سے ملا، اس وقت تک ان کی کھینچی ہوئی سرحدوں پر ہونے والی تنقید ان کے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔

جب میں نے پاکستانیوں کی ناراضگیکا ذکر کیا تو وہ چڑ گئے۔ جس بات نے انہیں سب سے زیادہ دکھ پہنچایا، وہ یہ الزام تھا کہ انہوں نے ماؤنٹ بیٹن کے کہنے پر اپنی رپورٹ میں تبدیلی کی تھی۔ پاکستانیوں کا الزام یہ تھا کہ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف پر دباؤ ڈالا تھا تاکہ وہ فیروز پور اور زیرہ کی تحصیلیں ہندوستان کو دے دیں اور یوں جموں و کشمیر کے ساتھ ایک راستہ فراہم ہو جائے۔ میں کشمیر کے بارے میں واقف بھی نہیں تھا،ریڈکلف نے کہا۔ میں نے تو لندن واپس آنے کے کافی عرصے بعد اس کے بارے میں سنا۔ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران، میں نے انہیں کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید اختلافات کے بارے میں بتایا۔ وہ ان سے واقف تھے۔ وہ ان جنگوں کے بارے میں بھی جانتے تھے جو دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف لڑ چکے تھے۔ جو کچھ ہوا اس پر وہ افسردہ تھے۔

لیکن وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ انہوں نے فیروز پور اور زیرہ ہندوستان کو اسی لیے دیے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یہی درست تھا۔ انہوں نے مجھ سے بار بار کہا کہ ایسا کرنے کے لیے ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر صرف ایک ہی دباؤ تھا اور وہ تھا رپورٹ جلد پیش کرنے کا۔ 22 جولائی 1947 کو ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا کہ انہوں نے لاہور میں پنجاب کی تقسیم سے متعلق کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی تھی۔

کمیٹی کو دیے گئے اپنے اس اطمینان کا حوالہ دیتے ہوئے— جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریڈکلف کو خط لکھ کر پنجاب باؤنڈری ایوارڈ کی جلد از جلد تاریخ کی اہمیت پر زور دیں گے— ماؤنٹ بیٹن نے کہا: “(پنجاب پارٹیشن کمیٹی میں) اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اگر ایوارڈ کا اعلان 15 اگست سے ٹھیک پہلے اخری لمحے پر کیا گیا تو بدامنی کے خطرات بہت بڑھ جائیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ اس کی مکمل اہمیت سمجھتے ہیں، لیکن میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کے سامنے اس کا دوبارہ ذکر کروں گا، اور کہوں گا کہ اگر آپ ایوارڈ کا اعلان جتنے دن پہلے ممکن بنا سکیں، ہم سب اس کے شکر گزار ہوں گے۔

کیا 10 تاریخ تک اسے جاری کرنے کا کوئی امکان ہے؟اگلے دن جواب دیتے ہوئے ریڈکلف نے کہا: “میں ایوارڈ کے لیے جلد از جلد تاریخ کی اہمیت کو یقیناً ذہن میں رکھوں گامجھے نہیں لگتا کہ میں 10 تاریخ تک کا انتظام کر سکوں گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں 12 تاریخ کا وعدہ کر سکتا ہوں، اور اگر ہو سکا تو اس سے بھی ایک دن پہلے کرنے کی کوشش کروں گا۔میں نے ریڈکلف سے ماؤنٹ بیٹن کے نیول اٹیچی جارج ابیل کے اس خط کے بارے میں نہیں پوچھا جو انہوں نے پنجاب کے گورنر کے سیکرٹری ایبٹ کو لکھا تھا، کیونکہ اس وقت مجھے اس کے وجود کا علم نہیں تھا۔ 8 اگست 1947 کے اس خط میں لکھا تھا: “میں ایک نقشہ منسلک کر رہا ہوں جو موٹے طور پر اس سرحد کو دکھاتا ہے جسے سر سائرل ریڈکلف نے ایوارڈ میں ڈیمارکیٹ (نشان دہی) کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کی تفصیل بیان کرنے والا ایک نوٹ بھی شامل ہے۔ اس سرحد میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں ہوں گی، لیکن لاہور کے دیہاتوں اور ضلع کی سرحدوں کے حوالے سے اس کی دقیق نشاندہی کرنی ہوگی۔

پنجاب کے گورنر، رائے جینکنز نے ماؤنٹ بیٹن کو لکھا: “منسلکات، میرے خیال میں، ایک ٹائپ شدہ شیڈول اور ایک مطبوعہ نقشے کا حصہ تھے جس پر ایک لکیر کھینچی گئی تھی، جو مجموعی طور پر ایک ایسی سرحد دکھا رہے تھے جس میں فیروز پور ضلع کے ایک نوک دار علاقے (سائلینٹ) کو پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ اس میں فیروز پور اور زیرہ کی مکمل تحصیلیں شامل تھیں۔جینکنز نے یہ بھی بیان کیا: “10 یا 11 اگست کے قریب جب ہم زیادہ سے زیادہ 13 اگست تک ایوارڈ کی توقع کر رہے تھے، مجھے وائسرائے ہاؤس سے ایک پیغام ملا جس میں یہ الفاظ درج تھے: ‘نوک دار علاقے کو ختم کر دیا جائے۔

اس تبدیلی نے کچھ حیرت پیدا کی، اس لیے نہیں کہ فیروز پور کے اس علاقے کی (پاکستان میں شمولیت) کو ناگزیر یا متوقع سمجھا جا رہا تھا، بلکہ اس لیے کہ یہ بات عجیب معلوم ہوتی تھی کہ جب ایوارڈ مکمل ہی نہیں ہوا تھا تو کمیشن کی طرف سے اس کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔یہ ایک بڑا المیہ (یا طنزِ روزگار) تھا کہ ریڈکلف، جنہوں نے ہندوستان کو دو آزاد ممالک میں تقسیم کیا، نے پنجاب کے آبپاشی کے نظام کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے کے معاملے پر مشترکہ کنٹرولکا مشورہ دیا تھا۔

ان کے ایوارڈ نے آبپاشی کی نہریں پاکستان کو دیں اور ان نہروں کو سیراب کرنے والے دریا ہندوستان کے حصے میں ڈال دیے، جبکہ کنٹرول کرنے والے ہیڈ ورکس کو برابر تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن وہ مشترکہ کنٹرولکی طرف اشارہ کرتے رہے۔ ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نہرو نے اسے مسترد کر دیا اور اسے ایک سیاسی سفارشقرار دیا۔

چونکہ کوئی مشترکہ کنٹرولنہیں تھا، اس لیے تقسیم کے بعد دونوں ممالک اپنے اپنے حقوق پر مسلسل بحث کرتے رہے۔ پاکستان نے کہا کہ برصغیر کے دریا مشترکہ ہیں اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے علاقے میں موجود پانی اور ہیڈ ورکس کا واحد مالک ہے۔ یہ اس قدر متنازعہ مسئلہ بن گیا کہ راولپنڈی نے تجویز دی کہ اس معاملے کو ہیگ کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھیجا جائے۔ لیکن نہرو نے اس خیال کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ یہ دوسروں پر ہمارے مسلسل انحصار کا اعترافہو گا۔

ایوب خان کو اس وقت مداخلت کرنا پڑی جب حکام کے تعصب اور ہٹ دھرمی کے باعث بات چیت کی پٹری سے اترنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہاں فوجی حکومت تھی۔ تاہم، نہرو کو سائنسی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے پارلیمنٹ میں اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے سندھ طاس کے پانی کا صرف 19 فیصد حصہ قبول کیا اور پاکستان کے متبادل نہریں بنانے تک پانی کی فراہمی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔

بھارتی انجینئروں نے ایک مضبوط کیس تیار کیا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اگر بھارت دس سالہ عبوری دور کے لیے ہاتھ روک لیتا تو پنجاب اور راجستھان دونوں عملی طور پر تباہ ہو جاتے۔ نہرو کی کابینہ کے رکن مرار جی ڈیسائی نے سیاسی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت منظم کی۔ حتیٰ کہ مرکزی وزیرِ داخلہ گوبند ولبھ پنت، جو نہرو کے وفادار تھے، نے بھی سندھ طاس ترقیاتی فنڈ میں بھارت کے بھاری تعاونپر اپنی ناخوشی کا اظہار کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس رقم کو اس جائیداد کی مالیت کے بدلے میں ایڈجسٹ کیا جائے جو ہندو مہاجرین پاکستان میں چھوڑ آئے تھے۔ نہرو نے تمام اعتراضات کو بالائے طاق رکھ دیا۔ وہ راولپنڈی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے بے تاب تھے اور ان کا خیال تھا کہ پانی کے تنازع کا حل ایک ایسی بنیاد کا کام کرے گا جس پر وہ پاکبھارت دوستی کی ایک پائیدار عمارت کھڑی کر سکتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو سکا؟ نئی دہلی کے آنے والے تمام حکمرانوں کو اس کا جواب دینا چاہیے۔

ترجمہ و تلخیص: شعیب عادل

Comments are closed.