پانچ سال بعد، جب طالبان نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا، اب طالبان اب امریکہ کو دوبارہ واپس آنے اور سرمایہ کاری
کی دعوت دے رہے ہیں ۔
افغانستان کے وزیر خارجہ، امیر خان متقی نے کابل میں دی نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کا باب ختم ہو چکا ہے، اور اب ہم باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کا آغاز چاہتے ہیں‘‘۔
مسٹر متقی نے کہا کہ امریکہ ’’اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول سکتا ہے، سفارتی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے اور‘‘ افغانستان کے وسیع معدنی ذخائر، ڈیموں اور سڑکوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ یہ وہ منصوبے ہیں جنہیں ترقی دینے کے لیے امریکہ کی تین حکومتوں اور ان کے اتحادیوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے، جبکہ طالبان کی شورش نے دو دہائیوں تک انہیں تباہ کرنے کی کوشش کی۔
سابقہ امریکی سفارتکاروں کے مطابق جو کابل کے نقطۂ نظر سے واقف ہیں، افغان حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ روابط کو اپنی سفارتی کوششوں کی سب سے بڑی کامیابی سمجھے گی۔ کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ تجارتی سفارت کاری میں خاصی دلچسپی رکھتی ہے اور انسانی حقوق کے معاملات کو نسبتاً کم اہمیت دیتی ہے۔
جبکہ امریکہ میں مقیم اسکالر اور حال ہی میں اقتدار میں طالبان کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف، حسن عباس نے کہا، ’’واشنگٹن میں اس معاملے پر کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ کوئی بھی اس موضوع کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتا۔ ہر کوئی افغانستان کو بھول جانا چاہتا ہے‘‘۔
درحقیقت، گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے مزید فاصلہ اختیار کیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز
























