اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور لیتھیم بیٹریاں: ماحولیاتی بحران کا نیا چہرہ!

کوی شنکر

ہم برسوں سے پلاسٹک، دھویں، شور اور جراثیم کش ادویات سے پیدا ہونے والی آلودگی پر گفتگو کرتے رہے ہیں، مگر اب ایک اور خاموش خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ یہ خطرہ نہ صرف زمین بلکہ خلا تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیتھیم بیٹریوں کا بڑھتا ہوا فضلہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز کی بے تحاشا توانائی کی طلب اور زمین کے مدار میں سرورز منتقل کرنے کے منصوبے ایک ایسے ماحولیاتی بحران کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ماحولیاتی تحفظ اکثر صرف بیانات اور سیمینارز تک محدود رہتا ہے، ان مسائل کی سنگینی پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ لیتھیم بیٹریاں، آنے والے کل کا خطرناک کچرا: پاکستان میں ہر روز ہزاروں لیتھیم بیٹریاں فروخت ہو رہی ہیں۔ سولر سسٹمز، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ان بیٹریوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سال 2024 میں پاکستان نے مجموعی طور پر ایک اعشاریہ دو پانچ گیگا واٹ صلاحیت کی بیٹریاں درآمد کیں، لیکن ایک بنیادی سوال ابھی تک جواب طلب ہے: چند سال بعد، جب یہ بیٹریاں اپنی عمر پوری کر لیں گی، تو ان کا کیا ہوگا؟

فی الحال پاکستان میں استعمال شدہ لیتھیم بیٹریوں کی محفوظ تلفی یا ری سائیکلنگ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ بیشتر بیٹریاں عام کچرے کے ساتھ پھینک دی جاتی ہیں، حالانکہ ان میں موجود کیمیائی اجزا ماحول اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ کھلے میدانوں میں پھینکی گئی بیٹریاں آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بارش کا پانی ان میں موجود زہریلے مادوں کو زیر زمین پانی، ندی نالوں اور دریاؤں تک پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آبی حیات، زرعی زمینوں اور انسانی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، استعمال شدہ بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کے باقاعدہ نظام قائم کر چکے ہیں۔

پاکستان نے جنوری 2026 میں بیٹری پالیسی کا اعلان تو کیا، لیکن عملی طور پر ری سائیکلنگ کی کوئی مؤثر سہولت ابھی تک موجود نہیں۔ مصنوعی ذہانت اور وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ: مصنوعی ذہانت کی ترقی نے دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے، مگر اس انقلاب کی ایک قیمت بھی ہے۔ اے آئی ڈیٹا سینٹرز، جنہیں سرور فارمز بھی کہا جاتا ہے، بے پناہ مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ ان سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے لاکھوں گیلن پانی اور بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے دنیا بھر میں پانی، توانائی اور قدرتی وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈال رکھا ہے۔

کئی ممالک میں مقامی آبادیوں نے ان منصوبوں کے خلاف احتجاج کیا ہے، جبکہ قانون سازوں نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اسی تناظر میں بعض ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ایک حیران کن تجویز پیش کی ہے: ڈیٹا سینٹرز کو زمین سے باہر، خلا میں منتقل کر دیا جائے۔ خلا میں کمپیوٹنگ کا خواب: اسپیس ٹیکنالوجی کی بعض بڑی کمپنیاں زمین کے نچلے مدار میں ہزاروں ایسے سیٹلائٹ بھیجنے کی تجویز دے رہی ہیں جن میں کمپیوٹر سرور نصب ہوں۔ اس تصور کو ’’آربیٹل کمپیوٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلا میں نصب سولر پینل مسلسل سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کر سکیں گے، جبکہ سرورز سے پیدا ہونے والی حرارت خلا میں ہی خارج ہو جائے گی۔ اس طرح زمین پر پانی اور بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔

بظاہر یہ خیال پرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن ماہرین ماحولیات اور خلائی پالیسی کے تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ یہ حل خود ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ خلا میں ایک نیا ماحولیاتی بحران؟ جولائی 2026 میں متعدد ماحولیاتی تنظیموں نے امریکی حکام کے سامنے ایک درخواست دائر کی جس میں خلائی ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی۔

فضائی آلودگی: ہر راکٹ لانچ کے دوران سیاہ کاربن، ایلومینا اور نائٹروجن آکسائیڈ جیسی گیسیں فضا میں شامل ہوتی ہیں۔ پانچ سے پندرہ سال بعد جب سیٹلائٹ اپنی مدت پوری کرتے ہیں تو وہ دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں ایلومینیم آکسائیڈ، مرکری اور دیگر نایاب دھاتیں فضا کی بالائی تہوں میں جمع ہو سکتی ہیں، جو اوزون کی تہہ اور موسمیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

نایاب وسائل کا استعمال: ہزاروں سیٹلائٹ تیار کرنے کے لیے بڑی مقدار میں نایاب دھاتیں درکار ہوں گی۔ یہی دھاتیں آج موبائل فون، کمپیوٹر، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ڈیجیٹل آلات کی تیاری میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر خلائی ڈیٹا سینٹرز حقیقت بن جاتے ہیں تو ان وسائل کی طلب کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ روشنی کی آلودگی: ماہرین فلکیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر زمین کے نچلے مدار میں ہزاروں نئے سیٹلائٹ شامل کیے گئے تو رات کا قدرتی آسمان ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف فلکیاتی تحقیق متاثر ہوگی بلکہ انسان کا کائنات سے وہ قدرتی تعلق بھی کمزور پڑ سکتا ہے جو ہزاروں برسوں سے موجود ہے۔

ترقی اور ماحول کے درمیان توازن: آج دنیا ایک نئے سوال کے سامنے کھڑی ہے۔ کیا مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو کسی بھی بڑے منصوبے کی منظوری سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق، ترقی اور جدت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ان کی قیمت زمین، پانی، فضا اور خلا کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر کے ادا کی جائے تو یہ سودا انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ انسانی تاریخ کے اہم ترین انقلابات میں سے ایک ہے، مگر شاید آنے والے برسوں میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ انسان ٹیکنالوجی کی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔

One Comment