بھٹو اور جماعت احمدیہ

آصف جیلانی 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی آئین کی دوسری ترمیم منظور نہیں ہوئی تھی جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، اور اس سے بھی بہت پہلے جب ذوالفقار علی بھٹو تاشقند سمجھوتہ پر ایوب خان کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے لندن آئے ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کی نیو ء رکھنے کے جتن کر رہے تھے۔ ان دنوں ان کا قیام لندن کے پرنسس گیٹ میں حئی سنز کے اپارٹمنٹ میں تھا۔ اس زمانہ میں ایوب خان سے معرکہ آرائی کی وجہ سے لندن میں پاکستان کے صحافی ان سے ملنے کی بات تو الگ ان کے سائے سے بھی ٹھٹھکتے تھے ۔

میں چونکہ بھٹوصاحب کو اپنے پڑوسی کی حیثیت سے 1954سے جانتا تھا جب وہ کراچی کے ممتاز وکیل ڈنگو مل کے چیمبرز سے وابستہ تھے اور سیاست میں پہلاقدم رکھ رہے تھے۔ اس لئے میں بڑی باقاعدگی سے حئی سنز کے اپارٹمنٹ میں بھٹوصاحب سے ملنے جاتا تھا ۔ کچھ پرانی یادیں تازہ کرنے کے لئے اور ویسے بھی ان کا بے حد اصرار تھا کہ میں ان سے باقاعدگی سے ملتا رہوں کیونکہ وہ برطانیہ کے مقتدر پاکستانیوں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جن کی مدد سے وہ یہاں بھی اپنی جماعت منظم کرنا چاہتے تھے۔ 

جب بھی میں حئی سنز کے اپارٹمنٹ میں بھٹو صاحب سے ملنے جاتاوہاں ایک ان جانے شخص کو بیٹھا ہوا دیکھتا۔ ایک دن میں نے بھٹو صاحب سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں برطانیہ میں جو پیپلز پارٹی منظم کر رہا ہوںیہ اس کے کنوینر ہوں گے۔ نام ان کا عبد الحمید غازی ہے ۔ 

مجھے ان صاحب کے بارے میں کرید ہوئی ۔ پتہ چلا کہ ان کا خاندان عدن میں آباد تھا اوریہ چند سال قبل لندن منتقل ہوئے ہیں ۔ عبد الحمید غازی کے بارے میں انکشاف ہواکہ ان کا لندن میں احمدیہ جماعت سے تعلق ہے اور در حقیقت جماعت کی طرف سے بھٹو پر مامور ہیں اور بھٹو اور احمدیہ جماعت کے درمیان رابطہ کار ہیں۔ بھٹو صاحب سے میری قربت دیکھ کر عبد الحمید غازی نے بلا جھجھک یہ اعتراف کیا کہ بھٹو صاحب کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان میں آیندہ عام انتخابات میں احمدیہ جماعت ان کی بھر پور حمایت کرے ، اور احمدیہ جماعت بھی ان کی مدد کرنے کی متمنی ہے کیونکہ جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتیں بھٹو صاحب اور احمدیہ جماعت دونوں کی مشترکہ حریف ہیں۔ میں نے جب عبد الحمید غازی سے پوچھا کہ کیا کچھ طے پایا ہے کہ عام انتخابات میں فتح کے عوض احمدیہ جماعت بھٹو صاحب سے کیا حاصل کرے گی۔اس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا بس مسکرا کر کہا انتخابات کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا۔ 

اس زمانہ میں مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ بھٹو صاحب کے وزارت خارجہ میں ان اعلیٰ احمدی افسروں سے بڑے گہرے تعلقات تھے جو قائداعظم کے مقرر کردہ پہلے احمدی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے زمانے میں بڑی تیزی سے اعلی عہدوں پر فایز ہوئے تھے۔

سنہ1967میں پیپلز پارٹی کے قیام کے تین سال بعد سن70ء میں عام انتخابات منعقد ہوئے ، جن میں جماعت احمدیہ نے بھرپور طریقہ سے پیپلز پارٹی کی حمایت اور اعانت کی خاص طور پر پنجاب میں ۔ مغربی پاکستان میں نتیجہ پیپلز پارٹی کی زبردست جیت میں ظاہر ہوا۔ لندن کے پرنسس گیٹ میں عبد الحمید غازی کی پر اسرار مسکراہٹ کے معنی اس وقت اجاگر ہوئے جب بھٹو صاحب کے بر سراقتدار آنے کے بعد احمدی، حکومت اور مسلح افواج میں اہم عہدوں پر فائز ہوئے ، ان میں نمایاں ظفر چوہدری تھے جو پاکستان فضائیہ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ان کے ساتھ بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ایچ ایچ احمداور ایک درجن سے زیاد احمدی فوجی افسر کور کمانڈر اور اعلی عہدوں پر فایز تھے ۔

منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد کا بھی شمار حکومت میں با اثر احمدی شخصیتوں میں ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں پالیسی ساز اداروں میں احمدیوں کا اثرا ور اختیارنا قابل تنسیخ انداز سے حاوی نظر آتا تھا ،جو حزب مخالف میں شامل جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں کے لئے گہری تشویش کا باعث تھا۔ حزب مخالف کی طرف سے مفتی محمود اور نواب زادہ نصراللہ نے اس صورت حال پر بھٹو صاحب کی توجہ مبذول کرائی تھی لیکن انہوں نے اس مسئلہ کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ 

مئی 1974کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ نے پورے ملک میں آگ بھڑکا دی اوراحمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے مطالبہ کی مہم نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بھٹو صاحب کو بھی حکومت میں احمدیوں کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ پر تشویش تھی لیکن انہوں نے سیاسی مصلحت کی خاطر حزب مخالف کا مطالبہ تسلیم کرنے اور احمدیوں کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے سے انکار کر دیا۔

نیشنل عوامی پارٹی کے علاوہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے مفتی محمود کی قیادت میں مطالبہ کیا تھاکہ قومی اسمبلی میں ایک بل منظور کیا جائے جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ بھٹو صاحب نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا اور انہیں ریاست اور حکومت کے اداروں سے خارج کرنا ملک کی معیشت اور سیاسی استحکام کے لئے تباہ کن ہوگا ۔ ان کا موقف تھا کہ یہ مسئلہ مذہبی ہے لہذا اس کے حل کے لئے قومی اسمبلی کو ملوث نہیں کرنا چاہئے۔ 

لیکن جب 14 جون کو حزب مخالف نے کامیاب پہیہ جام ہڑتال کی تو بھٹو صاحب کی مزاحمت متزلزل ہوگئی اور ان کے مشیروں نے بھی یہ مشورہ دیا کہ اس مسئلہ پر معرکہ آرائی پارٹی اورحکومت کے لئے سیاسی طور پر نہایت خطرناک ثابت ہوگی ۔ آخر کار بھٹو صاحب با دل نہ خواستہ قومی اسمبلی کی ایک خاص کمیٹی میں بند کمرے میں قادیانی مسئلہ پر بحث کے لئے راضی ہوگئے اسی کے ساتھ بھٹو صاحب حزب مخالف کے قایدین کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ خاص کمیٹی میں احمدی برادری کے سربراہ خلیفہ مرزا ناصر احمد کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

خاص کمیٹی کے سامنے قرارداد تھی کہ جو شخص رسول اللہ صلعم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا اور ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا وہ آئین اور قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد نے بند کمرے کے اس اجلاس میں دو سو صفحات پر مشتمل اپنا موقف محضر نامہ کے عنوان سے پیش کیا۔ لاہوری جماعت کے سربراہ صدر الدین نے بھی اپنا موقف پیش کیا۔خاص کمیٹی میں حزب مخالف کی طر ف سے مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد ، مولانا مفتی محمود ،چوہدری ظہور الہی اور مولا بخش سومرو شامل ہوئے ۔ حکومت کی جانب سے وزیر قانون حفیظ پیر زادہ، اور اٹارنی جنرل یحییٰ بختیارشریک ہوئے ۔مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے ختم نبوت کے عقیدہ کی وضاحت کی ۔ یہ اجلاس ڈھائی ماہ تک جاری رہا جس کے بعد اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ۷ ستمبر 1974کو اس فیصلہ کے مطابق آئین میں دوسری ترمیم منظور کی گئی اور احمدی غیر مسلم قراردے دئے گئے۔ 

قومی اسمبلی کے اس فیصلہ کے پس پشت عوامل کے بارے میں متعد تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فروری1974 میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے شاہ فیصل نے بھٹوصاحب پر زور دیاتھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیاجائے ۔1972 میں پاکستان دو لخت ہونے کے بعد سنگین مالی بحران میں گرفتار تھا اور شاہ فیصل کی مالی امداد کی پیشکش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا۔ 

ایک تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسی دوران احمدیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد بعض وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے بھٹو صاحب سے ناراض ہو گئے تھے ۔ ان دنوں بھٹو صاحب کے لئے یہ خبریں سختتشویش کا باعث تھیں کہ احمدیوں کے سربراہ اور ان کے مشیروں نے تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان سے ساز باز شروع کر دی ہے۔ اسی دوران پاکستان فضائیہ کے ایک درجن سے زیادہ افسر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کئے گئے تھے ۔ فضائیہ کے ان افسروں سے فضائیہ کے سربراہ ظفر چوہدری کے تعلق کا انکشاف ہوا تھا جس کے نتیجہ میں انہیں اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑا۔

بتایا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کو ا حمدیوں کی اس سازش پر سخت صدمہ پہنچا تھا اوراحمدیوں پر ان کا اعتماد متزلزل ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر مخالفت کے باوجود وہ ا حمدیوں کو غیر مسلم قراردینے کے فیصلہ کے حامی تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ بھٹو صاحب کو جن کے دور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ، جسے اسلامی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ قرار دیا گیا ، پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے داعی جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھانسی دے دی گئی۔

اس فوج کے سربراہ کی حکمرانی کے دور میں جس فوج کے سہارے بھٹو صاحب سیاست کے میدان میں داخل ہوئے تھے ،بنگلہ دیش کے بحران میں جس فوج کاانہوں نے بھر پور ساتھ دیا اورسیاسی طعنے سہے تھے ۔ اسی فوج کو شکست خوردگی کی دلدل سے نکالا، ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور ملک کا وقار اور عوام کی عزت نفس بحال کی ۔ملک کاپانچ ہزار مربع میل کا علاقہ جس پر ہندوستان کا قبضہ تھا آزاد کرایاپھر 1972 میں اسی فوج کے 93ہزار فوجیوں کوجو ہندوستان میں ناامیدی کے عالم میں قید کاٹ رہے تھے شملہ کے مذاکرات کے نتیجہ میں رہا کرا کے وطن لائے تھے اورایک نئی مضبوط فوج منظم کی تھی ۔

دیکھو توکدھر آج رُخِ باد صبا ہے۔

12 Comments