ایک ہزار لاشیں

محمد حنیف

کئی مجبور خاندان اپنے پیاروں کی تصویریں اُٹھائے پریس کلبوں کے باہر اِنصاف مانگتے نظر آتے ہیں۔

یہ لاشیں مبینہ نہیں ہیں تصدیق شدہ لاشیں ہیں۔ اِن کی گنتی زندگی سے اُکتائے ہوئے کِسی سُست صحافی نے نہیں کی ہے، اِن لاشوں کو دریافت ہمارے کِسی خفیہ ادارے نے نہیں کیا۔ اِن کی موجودگی کا اِعلان بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی کِسی این جی او نے نہیں کیا نہ ہی کسی قوم پرست تحریک یا علیحدگی پسند جماعت نے اِن لاشوں کو ڈھونڈ نکالا۔ نہ ہی کِسی ازلی ملک دشمن نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان سے گذشتہ چھ سال میں ایک ہزار لاشیں مِلی ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اِسلام آباد میں قائم جمہوری حکومت کی اپنی ایک وزارت ہے، وزارت برائے اِنسانی حقوق، اِس وزارت کو چلانے والے یقیناً سچے، پکے اور باقاعدہ حلف اُٹھائے ہوئے پاکستانی ہیں۔ اِس وزارت نے اپنی فائلوں میں سے اعداد و شمار جمع کر کے پاکستان کے میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ چھ سالوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سے 936 لاشیں ایسی مِلی ہیں جنھیں قتل کر کے اور زیادہ تر کو تشدد کے بعد قتل کر کے پھینک دیا گیا۔

دُنیا کے کِسی بھی نیم تہذیب یافتہ ملک میں جہاں نیم آزاد میڈیا موجود ہوتا اور وہاں اگر حکومت قریباً ایک ہزار لاشوں کے پائے جانے کا اعلان کرتی تو شاید کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی میڈیا رک کر پوچھتا کہ اِس مسلسل قتل عام کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر ذمہ داروں کا نام لینے سے ڈر لگتا تو کم از کم سہمے ہوئے لہجے میں اِتنا ہی پوچھ لیتا کہ مرنے والے آخر کون تھے، پھینکی گئی لاش بننے سے پہلے زندگی میں کیا دھندہ کرتے تھے۔ اِس زندگی میں مسخ شدہ لاش بننے کے سفر میں کون کون سے مقام آئے۔

لیکن ہمارا میڈیا چونکہ نہ صرف مکمل آزاد ہے بلکہ اِنتہائی بالغ النظر بھی ہے، تو ہم نے ایک ہزار لاشوں کی خبر پر سرسری نظر ڈالی، ناک پر رومال رکھا اور اپنے سیاستدانوں، تجزیہ نگاروں اور دفاعی تجزیہ نگاروں سے ایک بار پھر وہی سوال کر ڈالا کہ کیا آپ کو یہ حکومت جنوری میں گھر جاتی نظر آ رہی ہے؟

نہ کوئی بریکنگ نیوز، نہ کوئی خصوصی ٹرانسمیشن یا ضمیمے، کِسی نے یہ تک کہنا گوارا نہیں کیا کہ یقیناً اِن ایک ہزار لاشوں کے پیچھے بھارت یا افغانستان کا یا کِسی اور مرئی یا غیر مرئی دشمن کا ہاتھ ہے۔ مودی کا نام لینے سے پہلے شاید یہ سوچا گیا کہ جب چھ سال پہلے بلوچستان میں لاشوں کی یہ فصل پکنا شروع ہوئی تو وہ ابھی ہندوستان کا وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ بلوچستان کو آزاد کرانے کے اُس کے دعوے تو گذشتہ سال ہی شروع ہوئے ہیں۔ کِسی نے اِن ایک ہزار لاشوں کا ناطہ سی پیک کے ذریعے پاکستان میں آتی خوشحالی سے بھی نہیں جوڑا کیونکہ چھ سال پہلے کِسی نے سی پیک کا نام بھی سُنا تھا۔

لیکن بیچارہ میڈیا کیا کرے۔ وُہ تو اِن لاشوں کی گنتی بھی خود نہ کر پایا۔ میڈیا کے پاس اِس سے زیادہ مر جاؤ یا مارے جاؤ ٹائپ اہمیت کے سوال موجود تھے۔ عمران خان نے دو سال پہلے جاوید ہاشمی کو کان میں کیا کہا۔ نواز شریف کے بچے بالغ کب ہوئے؟ نوازشریف خود کب بالغ ہوں گے۔ ہمارے جانے والے سپہ سالار کو نئی نوکری ملی یا نہیں۔ ہمارے آنے والے سپہ سالار کیا باقاعدہ تہجد گزار ہیں۔ (حالانکہ جِس شخص کے زیر کمان سات لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل مسلح فوج ہو اُس کے ایمان کی فِکر نہیں کرنی چاہیے بلکہ اُس سے جان کی امان مانگنی چاہیے)۔

جب میڈیا کو اِن سب سوالوں کا جواب مِل جائے گا تو بھی تسلی رکھیں وہ کبھی پلٹ کر نہیں پوچھے گا کہ وُہ جو ایک ہزار لاشوں والی بات ہوئی تھی کیا ایک تین منٹ کا کوئی تجزیہ کوئی اِس پہ بھی کر سکتا ہے؟

اِس ملک میں راقم جیسے اُستاد صحافیوں کی کوئی کمی نہیں جو اگر کبھی بھولے سے بلوچستان کا ذکر کریں تو سب سے پہلے یاد کرانا نہیں بھولتے کہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے۔

پھر بلوچستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار یا تو بیرونی دشمنوں کو قرار دیا جاتا ہے یا اُن سرداروں کو اور اُن کے صدیوں پرانے نظام کو جو بلوچستان کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

یہ قدیم رام لیلا سُنتے سُنتے لگتا ہے بلوچستان کی اشرافیہ کو خود بھی اِس پر یقین آنے لگا ہے۔ جب ایک ہزار لاشوں کے بارے میں سوال کِسی نے بلوچستان حکومت کے نمائندے سے پوچھا تو اُن کا جواب کچھ ایسا ہی تھا کہ دیکھیں یہ قبائلی معاشرہ ہے، قبائل میں دُشمنی بھی ہوتی ہے، تو جب اِس دشمنی میں لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہیں تو تشدد بھی کرتے ہیں اور پھر لاشیں پھینک دیتے ہیں، بس اِسی طرح ایک ہزار لاشیں جمع ہو گئیں۔

اُن سینکڑوں مقدموں، رِٹ پٹیشنوں کا کوئی ذکر نہیں جو اِن مسخ شدہ لاشوں کے لواحقین اُن کے غائب کیے جانے اور مسخ ہونے کے دوران عدالتوں میں دائر کرتے رہے۔ اُن ہزاروں اہل خانہ کا کوئی ذکر نہیں جو اپنے پیاروں کی تصویریں اُٹھائے ہم اُستاد صحافیوں کے اڈوں یعنی پریس کلبوں کے باہر اِنصاف مانگتے رہے، نہ اُن خوش نصیبوں کا ذِکر جو مسخ شدہ لاشیں بننے سے تو بچ گئے لیکن عقوبت خانوں سے واپس لوٹے تو زبان کو تالا لگا لیا۔

صحافت چاہے تاریخ کا پہلا ڈرافٹ ہو یا جھوٹ کا وہ کاغذی پلندہ جِس پر پکوڑے بِکتے ہیں لیکن کِسی سنگل کالم میں کوئی سہما ہوا سچ باقی رہ جاتا ہے۔ آنے والے مورخ جب بلوچستان سے مِلنے والی ایک ہزار لاشوں کا کبھی ذکر کریں تو سب سے پہلے تو شاید یہ کہیں کہ لاشیں ایک ہزار نہیں 936 تھیں اور شاید ہوا یہ کہ بلوچستان سے نوجوانوں کی ایک پوری نسل گھروں سے نکلی اپنے جسموں پر خود ہی تشدد کیا، سیگریٹوں سے جلایا، جبڑے توڑے، اپنے دل میں خود ہی گولیاں داغیں، اور ایسا کرنے سے پہلے اپنی جیب میں اپنے نام پرچی ڈالنا نہیں بھولے تاکہ اپنے مسخ شدے چہروں کے باوجود گھر والے پہچان سکیں۔

BBC URDU

Comments are closed.